مخالف آوازیں دبانے پر صحافتی تنظیموں کا حکومتی اجلاس سے واک آؤٹ

  • منگل 22 / فروری / 2022
  • 4980

آزادی رائے کے خلاف قانون سازی پر صحافتی تنظیموں نے حکومتی اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔

میڈیا تنظیموں نے متنازعہ آرڈیننس کے ذریعے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کی کوشش کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام کے ساتھ اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

انہوں نے عزم کیا ہے کہ جب تک بل واپس نہ لے لیا جائے وزارت کے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ میڈیا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد ان کی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے ایچ آر سی پی اعلان کیا کہ وہ آزاد اظہار رائے کے لیے یکجہتی سے میڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔

علاوہ ازیں صحافی برادری اور سول سوسائٹی نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے صدارتی آرڈیننس کو ’غیر قانونی‘ قرار دیاگیا ہے اور اس عمل کو مخالفین کی آواز پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا عزم کیا ہے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے جے اے سی کے رکن اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) کے صدر شہزادہ زوالفقار کا کہنا تھا کہ واک آؤٹ سے قبل انہوں نے وزیر اطلاعات کو بتایا کہ حکومت نے شیڈول اجلاس سے صرف ایک روز قبل صدارتی آرڈیننس لا کر ان کا اعتماد توڑا ہے۔

بعدازاں جے اے سی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں حکومت کے ساتھ گفتگو کو ’ڈھونگ‘ قرار دیتے ہوئے ’سخت ترامیم‘ واپس لینے تک تمام تر گفتگو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے جے اے سی آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹر، پی ایف یو جے، پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرونکس میڈیا ایڈیٹر اور نیوز ڈائریکٹرز کے نمائندگان پر مشتمل ہے۔

جے اے سی نے مطلع کیا کہ وزیر اطلاعات گفتگو کی آڑ میں صحافی برادری کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں اور آزادی اظہار کے خلاف آرڈیننس پاس کرتے رہتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ میڈیا برادری ساتھ ہے‘۔