رکن قومی اسمبلی علی وزیر ایک اور مقدمے میں گرفتار

  • بدھ 23 / فروری / 2022
  • 2830

پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ  کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے ایک اور مقدمے میں باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر 31 دسمبر 2021 سے کراچی کی مرکزی جیل میں قید ہیں، انہیں اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ علی وزیر کے خلاف ایک اور مقدمہ پیر کو درج کیا گیا تفتیشی حکام کی جانب سے علی وزیر کو انسداد دہشت گردی عدالت دوم میں پیش گیا۔

عدالت کی ہدایت پر پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایم این اے علی کو پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایات پر ریلی نکالنے پر گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس ریلی میں انہوں نے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کے نعرے لگائے تھے، تاہم عدالت نے قومی اسمبلی کے رکن کو 4 مارچ تک جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

اس سے قبل 30 نومبر 2021 کو سپریم نے ایم این اے کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی۔ پی ٹی ایم کی جانب سے 13 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر ان کے کارکنان کی گرفتاری کے خلاف دھرنا دیا گیا تھا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت ان کے ایم این اے کے خلاف مقدمہ ختم کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کرے۔

قبل ازیں پولیس نے علی وزیر پر 6 دسمبر 2020 کو کراچی کےعلاقے سہراب گوٹھ میں ریلی سے خطاب کے دوران عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور سیکیورٹی فورسز پر توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزام پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس نے متعلقہ ایس ایچ او کے ذریعے ریاست کی مدعیت میں ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120 بی، 153 اے، 505 (2)، 188 اور 34 شامل کی گئی تھیں

صوبائی پولیس نے کہا تھا کہ علی وزیر کے خلاف ملک مخالف تقریر پر کراچی میں مقدمہ درج ہوا تھا اور سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی۔