وزرائے اعلیٰ کو پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کو منانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی

  • بدھ 23 / فروری / 2022
  • 3070

اپوزیشن کے تحریک عدم اعتماد کے منصوبے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ذمہ داری سونپی ہے کہ ناراض قانون سازوں سے رابطہ کرکے ان کے تحفظات دور کریں۔

دوسری جانب تین بڑی اپوزیشن جماعتوں کے سینئر رہنما عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

وفاقی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ عثمان بزدار اور محمود خان کو ذمہ داری سونپی ہے کہ مخالف رائے رکھنے والے پارٹی کے قانون سازوں سے روابط قائم کرتے ہوئے ان کے ذاتی تحفظات دور کریں اور ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام کروائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں اور ذاتی کاموں سے متعلق مسائل درپیش ہیں، وزیر اعلیٰ وہ شخص ہوتا ہے جو ان تحفظات سے نمٹتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں وزرائے اعلیٰ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس سے واپسی پر وفاقی حکومت کے عہدیداران کا پی ٹی آئی کے مضبوط اور وفادار رہنما جہانگیر ترین سے ملنے کا امکان ہے، جنہیں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تحریک نے عمران خان کی حکومت کو پریشان کردیا ہے، جس کے بعد وزرائے اعلیٰ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ حکومت اپنے قانون سازوں سے رابطے میں ہے اور پُر اعتماد ہے کہ کوئی بھی غلط مہم جوئی میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے اقدام پر ہنگامہ برپا کر رہی ہے لیکن عملی طور پر یہ چائے کی پیالی میں طوفان کے سوا کچھ نہیں۔ اگر اپوزیشن ایسا کرتی ہے تو حکومت باآسانی انہیں شکست دے گی۔

فوجی اسٹبیلشمنٹ حمایت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ آئینی اسکیم میں حکومت کا حصہ ہے‘۔

پنجاب کے وزیر برائے جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے ڈان کو بتایا کہ عثمان بزدار پی ٹی آئی کے قانون سازوں سے رابطے میں ہیں اور اُن کے حلقوں میں موجود مسائل سے نمٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین بھی رابطے میں ہیں اور اگر انہیں کوئی مسائل ہیں تو حکومت ان سے بات کرسکتی ہے، ہم مثبت سوچتے ہیں کہ جہانگیر ترین شریفوں کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔

دریں اثنا، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ قیادت نے بلاول ہاؤس لاہور میں عشائیہ پر ایک اجلاس کیا تاکہ حکومت کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی دعوت پر شہباز شریف نے احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب کے ہمراہ بلاول ہاؤس کا دورہ کیا۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے نہ آنے کی وجہ سے آج مسلم لیگ (ن) کے صدر کی رہائش گاہ پر دوبارہ ملاقات کا فیصلہ کیا گیا، جس میں بلاول بھٹو زرداری موجود ہوں گے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے مشورہ دیا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بجائے انہیں اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے، اگر پی ٹی آئی کے اتحادی، پی ایم ایل(ق)، ایم کیو ایم اور بی اے پی ان سے الگ نہیں ہوتے ہیں تو کم از کم ایک درجن سے زائد ناراض حکمران پارٹی کے قانون سازوں کو مستعفی ہو جانا چاہیے تاکہ حکومت اکثریت کھو دے اور وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور ہو جائیں۔

تاہم پیپلز پارٹی نے عدم اعتماد کے ووٹ کے عمل میں ان کے اہم کردار کی وجہ سے پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کے اقدام کی تجویز پیش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مخدوم احمد نے شرکاء کو ترین گروپ کی پوزیشن اور اپوزیشن سے توقعات کے بارے میں آگاہ کیا۔