یوکرین پر روسی حملے کا خدشہ، تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی

  • بدھ 23 / فروری / 2022
  • 3900

روس کی جانب سے یوکرین کے 2 علیحدگی پسند علاقوں میں فوج بھیجنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں۔

عالمی منڈی میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت 99.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو 7 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم گرینچ وچ ٹائم کے مطابق تقریباً ساڑھے 4 بجے قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے کم ہو گئی، جو پیر کے آخر کے مقابلے میں اب بھی تقریباً 1.5 فیصد زائد ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع نے سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں لگائی جانے والی پابندیوں سے روس کمزور ہوتا دکھے گا۔ واضح رہے کہ روس دنیا میں تیل کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ اور  سب سے زیادہ قدرتی گیس پیدا کرنے والے ملک ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو پر قیمتوں کو قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔

روسی صدر نے گزشتہ روز ئوکرین کے دو باغی علاقوں کو خود مختار تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکہاور یورپ نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور روس پر پابندیاں عائد کرنے کاآغاز کیا گیا ہے۔ سفارتی کوششیں ناکام ہونے پر یہ پابندیاں سخت بھی  ہوسکتی ہیں۔ جس کااثر عالمی معیشت اور تیل و گیس کی قیمتوں پر پڑے گا۔