پاکستانی وزیر اعظم جنگ اور بحران کے دہانے پر کھڑے روس کے دورے پر

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان ایک ایسے وقت میں  روس کے دو روزہ دورہ پر  ماسکو پہنچ رہے ہیں جب امریکی صدر جو بائیڈن کی قیادت میں  یورپی ممالک روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کی  تیاری کررہے ہیں۔ اس دورے کی تاریخ طے کرتے وقت شاید  یہ اندازہ نہیں تھا  کہ حالات اتنی تیزی سے  سنگین صورت حال اختیار کرلیں گے۔

یورپی لیڈروں  اور مبصروں نے گزشتہ روز کے روسی فیصلوں کو یورپ کے لئے ’تاریک دن‘  قرار دیا ہے۔ روس اور یوکرائن  کے درمیان   ممکنہ جنگ اور  روس کے خلاف عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیاں  دنیا بھر کے ممالک کےلئے شدید اقتصادی مشکلات کا پیغام لانے والی ہیں۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے  گزشتہ روز دو احکامات پر دستخط کرکے دراصل  یوکرائن کے ساتھ پہلے سے موجود تنازعہ کو مزید انگیختہ کیا ہے۔ پوتن کےایک حکم نامے کے تحت مشرقی یوکرائن کے دو علاقوں کو خود مختار ممالک کے طور پر  تسلیم کیا گیا ہے۔  روہانسک اور ڈونیسک کے نام سے جانے جانے والے  ان دو علاقوں میں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے اور  مسلح باغیوں نے روس کی مدد سے 2014  میں ان علاقوں  کا کنٹرول سنبھال کر خود مختاری کا اعلان کیا تھا۔ تاہم امریکہ اور  باقی ماندہ دنیا انہیں بدستور  یوکرائن کا حصہ سمجھتی ہے اور  آٹھ سال پہلے رونما ہونے والے اس تنازعہ میں روس کے کردار کی مذمت کی جاتی ہے جسے ہمسایہ ملک کے خلاف جارحانہ  طرز عمل سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نہ صرف ان علاقوں کو خود مختار مملکتوں کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ یہ فیصلہ بھی کیا  ہے کہ  روسی  ’امن فوج‘  ان علاقوں  کی خود مختاری کی حفاظت کے لئے متعین کی جاسکتی ہے۔ صدر پوتن کے اس فیصلہ کے تھوڑی دیر بعد ہی روسی پارلیمنٹ نے صدر کو  روسی فوج ملکی حدود سے باہر  متعین کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز روسی پارلیمنٹ کے اس  فیصلہ کو  یوکرائن پر حملہ کی اجازت دینے کا پروانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں  مشرقی یوکرائن کے علاقوں کو خود مختار ریاستیں تسلیم  کے اعلان کو مسترد کیا اور اس کی  شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس تن تنہا کسی دوسرے ملک کے علاقے کو خود مختار  ریاست قرار دینے کا حق نہیں رکھتا، یہ سنگین جارحیت ہے جس کی روس کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ صدر بائیڈن نے ابتدائی طور پر روسی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ طبقہ کریملن کی  مجرمانہ سیاست سے مستفید ہوتا ہے، اس لئے روس کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔ در حقیقت یہ اقدام روسی صدر کو یہ پیغام پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے کہ اگر روس اور  یوکرائن کے درمیان حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری صدر پوتن پر عائد ہوگی ۔ امریکہ  ایک طرف یورپی ممالک کے ساتھ مل کر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرچکا ہے و دوسری طرف  نیٹو  کے فوجی اتحاد کو مستعد کیا جائے گا ۔ صدر بائیڈن نے روس کے ساتھ براہ راست جنگ کے امکان کو  ضرور مسترد کیا ہے لیکن واضح کیا کہ  نیٹو ممالک  کی ایک ایک انچ زمین کی حفاظت  کی جائے گی۔

صدر ولادیمیر پوتن نے  یوکرائن کے باغی علاقوں کو  خود مختار مملکتیں تسلیم کرنے کے حکم نامے  پر دستخط کرکے دراصل  یوکرائن کے ساتھ چند ماہ سے جاری تنازعہ  میں اضافہ کا سوچا سمجھا اقدام کیا ہے۔ اب لوہانسک اور ڈونیسک میں  ’روسی امن فوج‘ متعین کی گئی تو اسے  یوکرائن کی سالمیت کے خلاف ہی اقدام نہیں سمجھا جائے گا بلکہ یورپ اور امریکہ کے خلاف  اعلان جنگ  کہاجائے گا۔ صدر پوتن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ور یورپی رویہ پر شدید تنقید کی اور یوکرائن کو تاریخی حوالوں سے روس کا حصہ قرار دیا ۔ اس تقریر کے تناظر میں بھی امریکہ اور اس کے حلیف یہ سمجھنے میں ’حق بجانب‘ ہیں کہ روس درحقیقت یوکرائن کو روسی ریاست کا حصہ بنا لینے کے وسیع تر منصوبہ پر عمل کررہا ہے۔  صدر بائیڈن اور یورپی لیڈر گزشتہ چند ہفتوں سے ان اندیشوں کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ روس  یوکرائن پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن  ماسکو ان اندیشوں کو روس مخالف پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔ تاہم اب  یوکرائن کے باغی علاقوں کو خود مختار  تسلیم کرتے ہوئے ان کی ’حفاظت‘ کے لئے روسی فوج بھیجنے کا ارادہ ظاہر کرکے درحقیقت امریکی و یورپی اندیشوں کو درست ثابت کیا جارہا ہے۔

تنازعہ کا آغاز یوکرائن کی سرحد پر روسی افواج جمع کرنے کے اقدام سے ہؤا تھا۔ یوکرائن یورپی امریکی فوجی اتحاد نیٹو کا حصہ بننا چاہتا تھا اور صدر پوتن نے اسے روس  کی سالمیت کو براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے  ایسی کسی کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیا اور یوکرائن کی سرحد پر روسی افواج جمع کرکے یوکرائن کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ  اگر اس نے نیٹو میں شرکت کے لئے معاملات آگے بڑھائے تو  اسے روس کے ساتھ براہ راست تنازعہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ   صدر پوتن کے اس مؤقف کو مسترد کرتا رہا ہے کہ یوکرائن کا نیٹو میں شامل ہونا  روس کے لئے  سیکورٹی مسائل پیدا کرے گا۔  صدر جو بائیڈن کا مؤقف رہاہے کہ  کسی  ملک کا کسی اتحاد میں شامل ہونا کسی دوسرے ملک کے لئے خطرہ نہیں ہے لیکن روس کی طرف سے فوجیں جمع کرکے ہمسایہ ملک کو دباؤ میں لانے کی کوشش ضرور سنگین جارحیت کا مظاہرہ ہے۔ اس تنازعہ کے دوران سفارتی کوششیں بھی جاری رہی تھیں اور  امریکہ یہ رعایت دینے پر آمادہ ہوگیا تھا کہ اگر یوکرائن نیٹو میں شامل ہوتا ہے تو  امریکی فوج  یا  دور تک مار کرنے والے میزائل یوکرائن کی سرزمین پر  نصب نہیں کئے جائیں گے۔ بظاہر ماسکو نے ان یقین دہانیوں کوقبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ مشرقی یوکرائن کے باغی علاقوں کو خود مختار ریاستیں قرار دے کر، ان علاقوں میں فوج  بھیجنے کا ارادہ  ظاہر  کرکے اور قوم سے خطاب میں    یوکرائن کو  تاریخی لحاظ سے روس کا حصہ  ثابت کرنے کی کوششوں سے دراصل  صدر پوتن نے اس تنازعہ میں اپنی  پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے اور    واضح کیا  ہے کہ وہ نیٹو ممالک کے  منصوبوں کو ناکام بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لوہانسک اور ڈونیسک میں روسی فوج کی تعیناتی کی صورت میں  یہ امکان ہے کہ یوکرائن اس کی مزاحمت کرے گا اور روس کے حمایت یافتہ گروہ روسی عسکری امداد کے بل بوتے پر یوکرائن کے مزید علاقوں کو اپنے زیر تصرف لانے کی کوشش  کریں گے۔ ایسی کسی بھی کوشش کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان  بالواسطہ جنگ  شروع ہوسکتی ہے۔ امریکہ ا ور نیٹو اگرچہ براہ راست  عسکری تصادم کا حصہ  نہیں بنیں گے لیکن  روس پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوگا ۔  یوکرائن کو فوجی امداد فراہم کرکے نیٹو ممالک  اس جنگ کا بالواسطہ حصہ بنیں گے۔ یہ تنازعہ جتنا طویل ہوگا، یورپ اور دنیا کی معیشت و سلامتی کے لئے اتنا ہی خطرنا ک ثابت ہوسکتا ہے۔  اس تصادم کے نتیجہ میں تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ  ہوگا جس سے دنیا کے بیشتر ممالک متاثر ہوں  گے ۔  خود امریکہ اور یورپ کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ صدر بائیڈن نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں واضح کیا کہ  امریکہ میں فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔  یورپ میں پہلے ہی انرجی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا تھا اور روس سے  گیس کی فراہمی منقطع ہوجانے کے بعد  ا س بحران میں مزید اضافہ  ہوگا۔  اس کے باوجود  جرمن چانسلر نے  روس سے گیس درآمد کرنے کے لئے تعمیر کی جانے والی  نارتھ اسٹریم  2کو استعمال کرنے کی اجازت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔   جرمن حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ یہ پائپ لائن نجی شعبہ  نے تعمیر  کی ہے اور حکومت اس منصوبہ میں مداخلت نہیں کرسکتی ۔ جرمنی  اپنی انرجی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے روسی گیس پر انحصار کرتا ہے ۔ اس کے باوجود اب جرمن حکومت نے  صدر پوتین کے اعلان کے بعد نارتھ اسٹریم 2  کے استعمال کی اجازت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  اس  طرح  جرمنی اور  یورپ میں انرجی بحران پیدا ہو گا   ۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ  اس فیصلہ سے روسی معیشت پر براہ راست زد  پڑے گی اور  ماسکو یوکرائن کے خلاف مزیر جارحیت سے باز رہے گا۔

روس اور یوکرائن کے درمیان بڑھتے ہوئے  سنگین تنازعہ    کی صورت حال میں   چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک  محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں تاکہ  وہ اپنے طویل المدت مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ البتہ ایسے بحران میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان ماسکو پہنچ رہے ہیں جہاں وہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی فروغ  کی کوشش کریں گے اور ملک کی انرجی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔    روانگی سے پہلے عمران خان نے روسی ٹیلی ویژن ’رشیا ٹوڈے‘ آر ٹی  کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے خود کو جنگ مخالف لیڈر کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ  جنگ کی طرف آمادہ لیڈر درحقیقت تاریخ سے نابلد ہوتے ہیں کیوں کی جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے روس اور یوکرائن کا تنازعہ بات چیت سے حل  ہونے کی امید بھی ظاہر کی۔ وزیر اعظم کی یہ باتیں  عالمی حالات کی بڑی تصویرمیں نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہیں۔

متعدد مبصر  سمجھتے ہیں کہ اس نازک موقع پر  پاکستانی وزیر اعظم  دورہ روس ایک تو دونوں ملکوں کے درمیان کسی بامقصد  پیش رفت کا باعث نہیں بنے گا دوسرے کوئی بھی  معمولی سی غلطی    پاکستان کے وسیع تر مفادات کے لئے شدید نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔    پاکستان اور یوکرائن کے درمیان  دفاعی  سطح پر قریبی تعلقات ہیں ، اس کے علاوہ حال ہی میں پاکستان نے یوکرائن سے گندم بھی درآمد کی تھی۔ پاکستانی وزارت خارجہ اور عسکری حلقوں کو اندیشہ ہے کہ  دورہ روس  ان تعلقات پرمنفی طور سے اثر انداز ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیف  میں  پاکستانی سفیر میجر جنرل نوئیل  اسرائیل کھوکھر نے گزشتہ روز  یوکرائن کے ڈپٹی وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور یوکرائن کی خود مختاری و سلامتی کے  لئے اظہار یک جہتی کیا۔  گزشتہ شام تک روس نے صدر پوتن کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات  کے وقت کی  تصدیق نہیں کی تھی۔  اس  ایک ملاقات کے علاوہ ماسکومیں وزیر اعظم پاکستان کی ساری مصروفیات کوئی خاص سفارتی و سیاسی نتائج حاصل کرنے کا باعث نہیں بنیں گی۔ البتہ یہ  بے وقت دورہ نہ صرف عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے لئے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے بلکہ اندرون ملک قومی سلامتی کے معاملات میں   عسکری و سول قیادت کے درمیان مزید دوری کا باعث بھی  ہو گا۔

پاکستان اپنے حجم، معاشی مشکلات اور سفارتی محدودات کی وجہ سے کسی بھی عالمی تنازعہ میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ عمران خان   البتہ کسی بھی عالمی میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے خود کو ایسا سامری  ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک ہی  کرتب سے مشکل ترین مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس کے دورے سے پہلے پاکستان کے ’غیر جانبدار‘ رہنے کا اعلان اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹی  وی مناظرے کے ذریعے  برصغیر کے مسائل حل کرنے کی دعوت دینا   ایسا ہی  بے مقصد اور ناقابل عمل رویہ ہے۔