افکارِ نَو سے ڈرنا

غریب پیدا ہونا تمہارا جرم نہیں ہے مگر غریب مرنا تمہارا جرم ہے“  یہ کسی سیانے  نے کبھی کہا ہو گا جو سچ ہے اگر اس پر غور کیا جائے، اس بارے سوچ بچار سے کام لیا جائے۔غریب فرد ہو، گھر ہو، خاندان ہو یا برادری یا معاشرہ، غربت ناسور ہے، غربت لعنت ہے جس سے اللہ کے نبیوں نے بھی پناہ مانگی ہے اور اسے بُرا جانا ہے۔

غریب معاشرے کو ’ترقی پذیر‘ کے خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر مزید غریب رکھنے پر آمادہ کیا جاتا ہے یہ ورلڈ اکانومی کے کھیل تماشے ہیں۔ غربت سے بھوک، افلاس، بیماری، جرائم، اورجہالت جنم لیتے ہیں اورجہالت ترقی کی راہ میں ایسا پہاڑ ہے جسے ہٹانے کے لئے غربت سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ اور ولولہ ہونا بنیادی شرط ہے۔معاشرے سے غربت کا خاتمہ صرف اس صورت ہی ممکن ہے کہ جہالت کا خاتمہ کیا جائے اور جہالت کا خاتمہ تعلیم یافتہ معاشرے  سے ہی ممکن ہے۔اگر غریب معاشرے نے یہ طے کر لیا کہ ہمیں غربت کو خیر باد کہنا ہے تو اُس معاشرے کی اوّلین ترجیح اپنے بچوں کو عصرِ نَو کی تعلیم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہو گا۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرے میں ہی نئے خیالات کو قبول کرنے اور اپنانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ نئے خیالات اور افکارِ نو کو سمجھنا اور قبول کرنا آسان مرحلہ نہیں ہوتا۔ اپنے آباواجداد کی فکری وراثت کو چھوڑنا بحر حال مشکل ہوتا ہے، اتنا مشکل کہ بعض اوقات ترقی یافتہ معاشرے بھی نئی تحقیق نئی سوچ اور نئے افکار کو قبول کرنے سے نہ صرف انکاری ہوتے ہیں بلکہ ان کی راہ کی بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

تمباکو کے استعمال کی تاریخ چھ ہزار سال قبل مسیح میں ملتی ہے۔مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال اور اس کے ارتقاء کی کہانی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے قدم با قدم چلتی رہی ہے، چلتی رہے گی۔ 1881 میں جیمز بونسیک نامی ایک امریکن نے سگریٹ بنانے والی مشین ایجاد کی جس نے سگریٹ کی شہرت کو بلندیوں تک پہنچا دیا۔ تب سے اب تک سگریٹ کی شکل و صورت اور قد و قامت میں بے شمار تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ لوگوں کو متوجہ کرنے اورسگریٹ نوشی کا عادی بنانے کے لئے نت نئے حربے اور طریقے ایجاد ہوتے رہے ہیں۔2003میں چین کے ایک فارماسسٹ ہون لِک نے ویپنگ ڈیوائس ایجاد کی۔یہ ڈیوائس بنانے کا مقصد روائتی سلگنے والے سگریٹ کا متبادل بنانا تھا۔ آج 2022 میں برطانیہ، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ اور جاپان سمیت کئی اور ممالک نے سگریٹ کے دھوئیں سے پاک نکوٹین مصنوعات کے استعمال سے تمباکو نوشی کی شرح میں خاطر خواہ کمی لانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔یہ فرسٹ ورلڈ کے امیر ممالک ہیں۔یہ اپنے شہریوں کو صحت کی بہترین سہولیات مہیا کرتے ہیں اس کے باوجود سگریٹ کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر اُٹھنے والے بے تحاشا اخراجات، جو فرد اور ریاست دونوں پر ایسا بوجھ ہیں جن سے گلو خلاصی ممکن ہے، چنانچہ یہ ترقی یافتہ ممالک اپنے شہریوں کو ان موزی اور جان لیوا بیماریوں سے بچانے کی ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکہ کی تازہ ترین تحقیق تمباکو نوشی کرنے والوں کی مدد کرنے میں ای سگریٹ کی تاثیر کی طرف اشارہ کرتی ہے جو روائتی سگریٹ کو مکمل طور پر کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ان کے نتائج اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ الیکٹرانک ڈلیوری سسٹم جیسے ویپس، سگریٹ سے کم نقصان دہ ہیں اور تمباکو نوشی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ میں ای سگریٹ کے کم نقصان دہ ہونے کی تائید میں جاندار تحریک موجود ہے اور اس جدت کے خلاف بھی آوازیں موجود ہیں۔ای سگریٹ کے ایڈووکیٹس کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ویپ مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کرتی ہے تو یہ اقدام روائتی سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح سکاٹ لینڈ میں متبادل مصنوعات کی دکانوں میں بخارات کی مصنوعات کی تشہیر پر پابندی لگانے کے منصوبے کو  2034 تک تمباکو سے پاک نسل بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ کا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 2017 میں تمباکو نوشی کی وجہ سے پاکستان میں 163,000 افراد ہلاک ہوئے ان میں 31,000 افراد وہ تھے جو سگریٹ نوش نہیں تھے تاہم ان کی موت کی وجہ دوسروں کے سگریٹ کا دھواں تھا۔پاکستان نے سگریٹ انڈسٹری سے 2017 میں  82 ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔چار سال بعد 2021 میں 125 ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔جبکہ سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجے پر حکومت 600 ارب روپے سالانہ کا بوجھ برداشت کرتی ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک کی معیشت پر یہ ایسا بوجھ ہے جس سے چھٹکارہ ممکن ہے۔ٹوبیکو کنٹرول کی کوششیں قابلِ تحسین مگر ناکافی ہیں۔  عالمی ادارے کے  آرٹیکل 1 کی شق ڈی کے الفاظ یہ ہیں:

{"tobacco control" means a range of supply, demand and harm reduction strategies that aim to improve the health of a population by eliminating or reducing their consumption of tobacco products and exposure to tobacco smoke;}

اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انسانی صحت کو سگریٹ سے پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کی حکمتِ عملی بنانی ہے۔ انسانی صحت کو بہترکرنے کی خاطر تمباکو کے استعمال کو ختم یا کم کرنا ہے۔ اس شق کی موجودگی میں یہ امر ناقابلِ فہم ہے کہ بعض ادارے اور تنظیمیں پاکستان اور دنیا بھر سے تمباکو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ادارں کی مخالفت میں سرگرمِ عمل کیوں ہیں! حالا نکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ٹوبیکو کنٹرول اور تمباکو کے مکمل خاتمے کے لئے مل جل کر کام کریں تاکہ سگریٹ کے نقصان دہ خطرات سے انسانی صحت کودرپیش چیلنجز سے بہتر طور پرنپٹا جا سکے۔

سگریٹ کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات ہدف 3 سے ناکامی کا اعتراف ہے۔ ہدف 3 سے متعلق’قومی ترجیحی اہداف‘، ’قومی ترجیحی اشارات‘  اور ’قومی بنیادی معلومات 2014-15‘ کے خانے ابھی تک خالی ہیں گویا سال 2022 کا دوسرا مہینہ شروع ہے اور ابھی ہدف 3 کی ترجیحات، اشارات اور بنیادی معلومات ہی طے نہیں ہوپائیں۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف 2015  (SDG-2015) پر پاکستان نے دستخط کئے ہیں۔ ہدف 3 ’اچھی صحت اور فلاح‘  میں لکھا ہے”ہر عمر کے افراد کے لئے صحت مند زندگی کو یقینی بنانا اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانا“ہے۔

امپیریل ٹوبیکو کینیڈا نے ایک مہم ”کلئیر دی سموک“ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد کینیڈین شہریوں کو بخارات کی مصنوعات کے بارے میں حقائق سے آگاہ کرنا اور یہ بتانا ہے کہ یہ مصنوعات سگریٹ کے مقابلے میں خطرات کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں، غرض یہ کہ ترقی یافتہ دنیا نے یہ باور کر لیا ہے کہ سگریٹ کا استعمال صحت اور معیشت دونوں کے لئے نقصان دہ ہے اور اس سے بچا جا سکتا ہے۔  برطانیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ سگریٹ نوشی سے 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔ یورپ کے کچھ ملکوں اور نارتھ امریکہ میں ای سگریٹ کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔برطانیہ میں 2017 میں بالغ آبادی کا 1.7 فیصد ای۔سگریٹ استعمال کرتا تھا جو2019 میں بڑھ کے7.1 فیصد تک جا پہنچا او ر اسی عرصہ میں سگریٹ کے استعمال میں نمایاں کمی ہوئی جو 19.6 فیصد سے کم ہو کر 14.7فیصد ہو گئی۔(ہارم ریڈکشن جرنل) 

شہریوں کو صحت کی بہتر سہولتیں مہیا کرنا بحر حال حکومت کی ذمہ د اری ہے اور اس ذمہ داری سے عہدہ بر آہوتے ہوئے ہر سال مئی کے مہینے میں ٹیکسوں میں اضافے کے مطالبے کا انتظار کئے بغیر حکومت کا چاہیے کہ یک جنبشِ قلم سگریٹ کی موجودہ قیمتوں میں دوگنا اضافہ اور ٹیکس کی موجودہ شرح میں سو فیصد اضافہ کرئے۔ تمباکو انڈسٹری ایسا ہونے سے روکنے کے سو حیلے بہانے بنائے گی مگر حکومت کے پیشِ نظر شہریوں کی صحت و بہبود مقدم ہونی چاہئے۔

پاکستان جدید تحقیق سے اپنے شہریوں کو روشناس کرائے، الیکٹرانک نکوٹین ڈلیوری سسٹم وغیرہ کو ریگولرائز کرئے، سگریٹ کی پیداوار اور استعمال پر پابندیاں عائد کرئے اور تمباکو نوشی کی شرح کم کرنے کیلئے ان مصنوعات کے استعمال سے استفادہ کرنے کے اقدامات کرئے جو مغرب کے بہت سے ممالک کر رہے ہیں۔

(نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل ویب سائٹس، اخبارات اور مضامین سے مدد لی گئی ہے جس کے لئے مضمون نگار ان سب کا ممنون ہے)

https://www.malaymail.com/news/malaysia/20

22/02/1616/high-vape-taxes-could-push-more-people-to-smoke-conventional-cigarettes-stu

SOURCE: ASSOCIATION OF E-CIGARETTE USE WITH DISCONTINUATION OF CIGARETTE SMOKING AMONG

ADULT SMOKERS WHO WERE INITIALLY NEVER PLANNING TO QUIT DAILY VAPING DRAMATICALLY UPS

QUIT RATE IN HEAVY SMOKERS NOT AIMING TO QUIT

Wednesday February 16 2022, 12.01am, The Times

Posted to Politics February 14, 2022 by Martin Cullip