روس یورپ میں بڑی جنگ شروع کر سکتا ہے: یوکرین کے صدر کا انتباہ
- جمعرات 24 / فروری / 2022
- 2760
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے متنبہ کیا ہے کہ روس کسی بھی وقت یورپ میں ایک بڑی جنگ شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے روسی شہریوں سے اس کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر نے کہا کہ میں نے روس کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔ روس نے یوکرین کی سرحد پر قریب دو لاکھ فوجی اور ہزاروں جنگی گاڑیاں تعینات کی ہوئی ہیں۔
انہوں نے روسی شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملے کو مسترد کریں کیونکہ ان کے سامنے یوکرین سے متعلق جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ روسی عوام جنگ روک سکتے ہیں۔
یوکرین کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک روس کے حملے کے لیے تیار ہے۔ اگر انہوں نے ہمارے ملک، آزادی، زندگیاں اور بچوں کو چھیننے کی کوشش کی تو ہم اپنا دفاع کریں گے۔
'اگر آپ نے حملہ کیا تو آپ ہمارے چہرے دیکھیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔
یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اطلاعات کے مطابق روسی دستے سرحد کے پاس مشرقی یوکرین کے ان علاقوں کے قریب آ رہے ہیں جو روسی حمایت یافتہ باغیوں کے زیر کنٹرول ہیں۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں ان 'آزاد ریاستوں' نے روس سے فوجی مدد مانگی ہے۔
فضائی نگرانی کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ روس کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مشرقی یوکرین کی فضا کو پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ اوپن سورس انٹیلی جنس مونیٹر کا کہنا ہے کہ فضائی عملے کو جاری کیے گئے نوٹس میں کوئی ڈیڈلائن نہیں دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس صورتحال پر ہنگامی اجلاس بھی متوقع ہے۔ یوکرین کی پارلیمان نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اپنے شہریوں کو روس سے نکلنے کی ہدایت دی ہے۔ 30 روزہ ایمرجنسی کے تحت یوکرینی حکام سکیورٹی کے انتظامات بڑھا سکتے ہیں اور کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔
ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بارے میں کہا ہے کہ روس ابھی بھی مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن روسی شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ نے روسی جارحیت پر مغربی ممالک سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر روس پر سخت سے سخت پابندیاں عائد کریں۔ گزشتہ روز برطانیہ اور امریکہ نے روس کے خلاف مختلف پابندیوں کا اعلان کیا جس کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں مغربی ممالک کو کہا کہ وہ ان کے شکرگزار ہیں اور چاہتے ہیں کہ صدر پوتن پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے خلاف تجارتی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے روس کی جانب سے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیجنے کے اقدام کو 'بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی' قرار دیا ہے۔
روس پر مالی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ اب مغربی ممالک کی جانب سے روس میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے دو روسی بینکوں وی ای بی اور روسی ملٹری بینک پر تجارتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے اہم روسی شخصیات اور خاندانوں کے اثاثوں پر بھی پابندیاں متوقع ہیں۔ ان پابندیوں سے روسی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ یوکرین کی مزید دفاعی امداد کرے گا جبکہ نیٹو اتحاد کے ممالک میں امریکی دستے بھیجے جائیں گے۔ صدر بائیڈن نے روسی صدر پوتن پر الزام لگایا کہ انہوں نے یوکرین کی سالمیت پر حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن کی تقریر سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ یورپ میں سکیورٹی امور پر بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف مزید اقدامات کیے تو امریکہ روس پر پابندیاں بڑھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا روس سے لڑنے کا کوئی ادارہ نہیں مگر نیٹو اتحاد کے علاقوں کی حفاظت کی جائے گی۔
برطانوی حکومت نے تنبیہ کی ہے کہ روسی صدر ولادیمر پوتن کی جانب سے یوکرین کے بارے میں لیے گئے اقدامات کے باعث روس پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی تاہم روس کے نائب وزیر خارجہ آندرئی رودنکو نے کہا ہے کہ اگر روس کو ضرورت محسوس ہوئی تو وہ باغیوں کے زیر انتظام دونوں 'ریاستوں' میں اپنے فوجی اڈے قائم کر لیں گے۔
صدر پوتن کئی ماہ تک روسی فوج کی جانب سے یوکرین پر حملے کے دعووں کی تردید کرتے رہے لیکن اب انہوں نے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیج دیے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان دستوں کا مقصد ’امن قائم رکھنا ہے۔‘
خیال رہے کہ جرمنی نے روسی گیس پائپ لائن نورڈ سٹریم ٹو کی منظوری روک دی ہے۔
گزشتہ روز یعنی پیر کو صدر پوتن نے اپنے ایک گھنٹے طویل خطاب میں کہا تھا کہ یوکرین ان کے ملک کی تاریخ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے مشرقی یوکرین کو قدیم روسی سرزمین کہا تھا۔