لتا کی آواز، جنت کا ساز؟

زیادہ سیانے کہتے ہیں کہ ہمیں شخصیات کی بجائے نظریات پر بات کرنی چاہیے۔ کوئی شخصیت اپنی خدمات یا قد کاٹھ میں چاہے ہمالہ جیسی بلند ہو بہر حال فانی ہے۔ جبکہ نظریات اگر ان میں جان ہوتو امر ہوتے ہیں۔

بظاہر اس بات میں وزن ہے لیکن اگر حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو عبقری یا نابغہ شخصیات نظریات کی لائبریریوں پر بھاری ہوتی ہیں۔ اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ نظریات سے شخصیات بنتی ہیں یا لیجنڈری شخصیات مختلف النوع نظریات کو جنم دیتی ہیں۔ فن کیا ہے؟ فنکار کی دین ہے، اس عظمت کی عنایت و نوازش ہے۔ شاہکار کیا ہے؟ تخلیق کار کا شہ پارہ، بلونگڑا یا بالکا ہے۔ جو شاہکار یا فن پارہ جتنا گراں قدر ہوگا اپنے تخلیق دینے والے کی عظمت و کبریائی کا اتنا ہی بڑا مظہر کہلائے گا۔ کاش دنیا والے کائنات کی سب سے بڑی سچائی میں پنہاں اس نقطے کو سمجھ پائیں کہ فن کی معراج ہی اصل تخلیق کاری یا خالق ہونے کی عظمت و کبریائی یا خدائی ہے ۔

ادب سے لے کر سائنس کی ایجادات و تخلیقات تک ، الہیات سے لے کر فلسفے و منطق کی گھتیاں سلجھانے تک جن الوالعزم ہستیوں نے انسانیت کے لئے کار آمد شاہکار یا فن پارے چھوڑے ہیں اپنے اپنے شعبہ حیات میں وہ نابغہ ہائے روزگار امر ہیں اور امر رہیں گے۔ درویش کی دلچسپی چونکہ لٹریچر و آرٹ تک محدود تھی اس لئے اس نے چند برس قبل عصر حاضر کی زندہ و جاوید ایسی پانچ ہستیوں کے حوالے سے قلم اٹھایا جس کا عنوان تھا ’’عصر حاضر کے پنج تن پاک‘‘مگر بعد ازاں بوجوہ یہ عنوان ہٹا دیا۔

تمنا تھی کہ ان سب پرایک ایک کتاب لائی جائے مگر کیا کریں اوربھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔ سو عدیم الفرصتی نے آگے نہ بڑھنے دیا اور پھر یکے بعد دیگرے مختصر ترین عرصے میں یہ نابغہ شخصیات جنہوں نے اپنے فن کے انمٹ نقوش ہمارے اس خطۂ ارضی برصغیر میں چھوڑے تھے اس جہان فانی سے کوچ کرتی چلی گئیں۔ ایک آخری ہستی بچی تھی دنیا جسے لتا منگیشکر کے نام سے جانتی تھی بالآخر آج اس کی بھی رخصتی ہو گئی۔ قدرت کی تخلیقی صلاحیت بلاشبہ بانجھ نہیں ہوئی وہ نئے سے نئے شاہکار پھول اور کلیاں اگاتی رہے گی مگر بعض شاہکار ایسے نایاب ہوتے ہیں کہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔

عقیدہ تناسخ پر ایمان ہو نہ ہو مگر جانے والے دانائے راز اپنے پیچھے فن کے جو شاہکار چھوڑ جاتے ہیں وہ فن پارے جانے اور آنے کے چکروں سے نکال کر لیجنڈری شخصیات کو امر بنا دیتے ہیں۔ جانے والی ہستی نے کیا خوب گایا تھا۔ جب ہم نہ ہوں گے تب ہماری خاک پر تم رکو گے چلتے چلتے اشکوں سے بھیگی چاندنی میں اک صدا سی سنو گے چلتے چلتے وہیں پہ کہیں ہم تم سے ملیں گے بن کے کلی، بن کے صبا، باغ وفا میں آج سے گیارہ بارہ برس قبل 2010 میں ہمارے دوست غیر معروف مگر ممتاز دانشور جناب شوکت جمیل نے دیوان غالب کا انگریزی ترجمہ

پیش فرمایا تو پہلی نظر ان کے انتساب پر پڑی جو بلاشبہ منفرد تھا۔

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی، قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی، غالب کا یہ شعر لتا جی کی نذر کرتے ہوئے وہ فطرت اور تخلیق کاری کی کہانی کچھ یوں گھڑتے ہیں کہ ’آدم و حوا کو جب خدا نے جنت سے نکال کر زمین پر اتارا تو اس بوریت و پریشانی میں انہوں نے خدا سے یہ دعا کی کہ ان کی غیر معمولی تفریح کے لئے کوئی خاص چیز دے۔ اس پر پروردگار عالم نے انہیں جو رومانوی موسیقی سنائی تو اس پر وہ دونوں پکار اٹھے:

"OH DIVINE MASTER THIS IS GREATER THAN WHOLE EDEN & WE NEED NOT ANYTHING MORE" BUT GOD SAID WHAT I KNAW YOU DONT, HE HIMSELF TASTED IT, HE ADDED A MODICUM OF HIS OWN LIGHT & THUS CAME FORTH THE VOICE OF LATA MANAESHKER, WHICH NOT ONLY HAS THE FRAGRANCE AND SWEETNESS OF EVERY THING THAT EDEN COULD BOAST OF

BUT ALSO THE IMMORTALITY OF GOD

شوکت صاحب کے دل سے نکلی ہوئی یہ فکری اڑان پڑھتے ہوئے درویش کو اپنے من پسند گانے کے ساتھ اپنی ایک قدیمی تحریر سے مماثلت لگی جولتا جی اور رفیع صاحب کے حوالے سے کبھی لکھی تھی۔ ابھی یہ گیت اور تحریرکا ایک حصہ پیش خدمت ہے۔

ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو، ہاتھ سے چھو کے اسے رشتوں کا الزام نہ دو، صرف احساس ہے یہ، روح سے محسوس کرو پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو، پیار کوئی بول نہیں، پیار آواز نہیں ایک خاموشی سے سنتی ہے کہا کرتی ہے ، نہ یہ بجھتی ہے، نہ رکتی ہے، نہ ٹھہری ہے کہیں، نور کی بوند ہے صدیوں سے بہا کرتی ہے۔

ناچیز ہیچمدان اور اس کی نسل کے اہل ذوق اس خطۂ ارضی میں لتا جی اور رفیع صاحب کے گیتوں کو ’بھگوت گیتا‘ سمجھ کر اورسن کر بڑے ہوئے ہیں اور اس پریم کی پریت رگ و جاں میں سانس اور خون کی طرح رواں دواں ہے۔ کسی آتما یا پرماتما کے وجود پر وشواس رکھنے والوں کے لئے لتا جی ایسی مہان آتما قرار پائیں گی جو امر ہے اور امر رہے گی۔ لتا جی کی آواز سے پریت رکھنے والے اس ایک جیون میں سو بار فنا ہوتے اور سو بار جنم لیتے رہیں گے مگر ان میٹھی سروں کو کبھی نہ بھول پائیں گے ہر نئے جنم میں وہ انہی سروں کو گنگناتے جائیں گے۔ دروش اپنے بچپن کی یادوں کو آواز دیتا ہے جب تخیل مرزا غالب کی اڑان تک نہیں پہنچ پایا تھا تو یہ گمان، ایمان و ایقان تک پہنچا محسوس ہوا کہ مقام خلد تک رسائی تو قادر مطلق نے اپنے مقدر میں بطور سند لکھ ڈالی ہے۔ شراب طہور اور 72 حوروں کا قبضہ تو گویا ملنے کو ہے اس تمامتر مولویت کے باوجود اندر سے آواز آتی کہ اے جعلی دوریش! تم کوئی لالچی و عیاش ہو جو اس لہو و لعب یا لغویات کے پیچھے پڑو گے۔ پروردگار عالم سے صاف کہہ دینا کہ اس دنیوی زندگانی میں تو نے اپنی جو ٹریننگ کی ہے اب یہی ہماری فطرت بن چکی ہے۔

 بھرپور تعیشات انہیں بخش دیجئے جو ان کے طلب گار و خواستگار ہیں۔ جو موج مستی کے شوقین ہیں۔ یہ سب ان کو مبارک۔ اس دنیا میں حوروں سے بڑھ کر جو ہستی بطور شریک حیات تو نےبخشی ہے اس کے پاؤں کی دھول پر ایسی 72 لاکھ بھی قربان، آپ یہ سب مولانا حسین و جمیل کے ڈیرے پر بھیج دیں اگر وہ ادھر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ہے ہمیں تو بس اسی ڈاکٹر صاحبہ کاساتھ چاہیے جس نے ہماری دنیا کو تیری جنت سے بڑھ کر خوبصورت بنا رکھا ہے۔ اگر کوئی مزید سوغات یا ارمغان بخش سکتے ہوتو وہ اس قدر ہے کہ فن کی عظمت ہماری تقدیر بنا دے ۔ اگر تو دل کی مرادیں اور تمنائیں جانتا ہے تو بس تیری یہ جنت تبھی جنت ہے اگر رفیع صاحب اور لتا جی کی پرسوز اور چنچل آواز یں یہاں گونجتی رہیں۔

 اگر واقعی یہاں وقت کا پہیہ رک جانا ہے یا ٹائم کا دورانیہ لامحدود ہے، عبادت یا پوجا پاٹ کا بھی کوئی تصور یا تکلف نہیں ہے تو سترسالوں پر محیط دن کو بوریت سے بچانے کا اس سے بڑا سامان کیا ہوسکتا ہے کہ لتا جی کے گیتوں کی من پسند مالا ہو اور بندہ ناچیز بہشت کے آرام دہ پنگھوڑے میں آنکھیں بند کئے سنتا رہے اور سر دھنتا رہے۔