نااہل حکومت کی بوکھلاہٹ؟

کوئی فرد ادارہ یا حکومت ہو اس کی کارکردگی میں دیگر عوامل کی جو بھی اہمیت ہو، اصل و اولین چیز صلاحیتیں ہوتی ہیں کوئی کتنا مخلص یا باتونی ہو اگر صلاحیتوں کا فقدان ہو وہ لاکھ کہتا رہے میرے پاکستانیو تم نے گھبرانا نہیں، جب آؤٹ پٹ زیرو رہے گی تو طفل تسلیوں سے مایوسی مزید بڑھے گی ۔

ہماری موجودہ اناڑی حکومت کی سابقہ ساڑھے تین سالوں پر محیط کارکردگی کا جائزہ لیں تو عوامی دکھوں اور پریشانیوں کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ محض مہنگائی کا نہیں ہے جس سے عام آدمی پھٹنے کو آرہا ہے، پٹرول سے لے کر گھریلو استعمال کی عام چیزوں تک وہ ہوشربا تنگی آ پہنچی ہے کہ عام گھریلو خواتین جھولیاں اٹھا اٹھا کر نااہل حکومت کو بددعائیں دیتی دیکھی جا سکتی ہیں۔ درویش کی نظروں میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ مسئلہ بدتمیزی کا بھی ہے۔

 موجودہ اناڑی حکومت میں بالخصوص اس کی کھوکھلی اور نعرے باز قیادت کی وجہ سے بدتہذیبی بھی مہنگائی کی ریشو سے ہی بڑھی ہے۔ بلاثبوت و جواز سستی اور تھرڈ کلاس الزام تراشی اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی روش نے ستر کی دہائی میں پھیلائے گئے، ہےجمالو کلچر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ قابل صد احترام قومی قیادت اور ہر دلعزیز سیاست دانوں کو اٹھتے بیٹھتے ہمہ وقت چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی گردان کے ساتھ چلانا کیا کسی مہذب انسان کا شیوہ ہو سکتا ہے؟ ایسی دادا گیری تو مافیاز میں ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کرپشن اور بے ایمانی کا اتنا ہی درد ہے تو ذرا نظریں اٹھا کر دیکھیں نا، طاقتوروں کی طرف اور وہاں بھی ایسا ہی یا اتنا بڑا ہی منہ کھولیں ۔ ابھی افغان جہاد میں امریکی ڈالروں کی ہیرا پھیری اور سوئس اکاؤنٹس کی تفصیلات جس وضاحت کے ساتھ سامنے ا ٓئی ہیں۔ ذرا ان کے متعلق بھی بتائیے نا۔

اس نوعیت کی جی آئی ڈی اور کمیشنز۔ ’’فاتح‘‘ اور’’ خاموش مجاہد”جیسی لغو بیہودہ کہانیاں گھڑنے اور چھاپنے والوں کو بھی شرم کے مارے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے۔ ہمارے عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کس طرح مسموم پروپیگنڈے کا شکار ہو کر جذباتیت میں ہیرو ورشپ تک چلے جاتے ہیں ۔ عقل شعور کی بات کرنے والوں کو چھوڑ کر وہ بالعموم کھوکھلے مذہبی و روایتی نعرے بازوں ، سبز باغ دکھانے والے جھوٹے تعلی باز کھلاڑیوں یا اناڑیوں کی چکنی چپٹی باتوں میں آکر بیوقوف کیوں بنتے ہیں جن کا ڈراپ سین بالآخر مایوسی، پریشانی اور گھبراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اب کے تو بربادی کی وہ سونامی آئی ہے جس میں سونامی والےخود بھی ڈبکیاں کھا رہے ہیں، جو دوسروں کو کہتے تھے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ کسی کی گھبراہٹ کا اندازہ اس کے بوکھلاہٹ زدہ اقدامات سے کیا جا سکتا ہے۔ تنقید تو رہی ایک طرف ایسا شخص تنکے سے بھی ڈر رہا ہوتا ہے۔

غور کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ آپ کا اپنا سابقہ ساتھی جو کنٹینروں تک آپ کے ساتھ دھکے کھا تا رہا تھا، اس نے ایک فقرے میں کون سا بم چلا دیا تھا یہ کہ مراد کی کارکردگی اگر اچھی آئی ہے تو ریحام خاں کی کتاب کے صفحہ نمبر فلاں کی چند لائنیں پڑھ لی جائیں، اس پر اتنا غصہ کہ اس بیچارے بے ضرر صحافی کو دہشت گرد بنا کر گرفتار کر لیا جائے۔ یہ بوکھلاہٹ نہیں تو اور کیا ہے ؟ آج اکیسویں صدی میں آزادئ اظہار کے خاتمے کی سوچ ہٹلر یا مسولینی کے کسی پیروکار کی تو ہو سکتی ہے عوامی اقتدار اعلیٰ پر یقین رکھنے والے کسی جمہوری سیاست دان کی ہر گز نہیں۔ پارلیمینٹ کی موجودگی میں پیکابآرڈیننس جیسے ڈریکونین قوانین آئین اور انسانی حقوق کا منہ چڑانے کے مترادف ہیں۔ کہیں کہا جا رہا ہے کہ فلاں اداروں اور شخصیات پر تنقید ناقابل برداشت ہوگی، پانچ سال قید اور بھاری جرمانے ہوں گے۔ وزراء انتخابی دھاندلی کی تراکیب سوچتے ہوئے انتخابی مہم چلا سکیں گے۔ کیا ایسی حرکات سے آپ لوگ عوامی شعور و آگہی کو کچل سکیں گے؟ عوام کو سوائے مہنگائی بیروزگاری اور محرومی کے آپ لوگوں نے دیا ہی کیا ہے اب ان کے دکھوں کی آواز سننے والوں کے منہ بھی بند کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد کہتے ہیں گھبرانا نہیں ۔

آپ نے ملک کو داخلی محاذ پر ہی کنگال نہیں کیا ہے خارجہ پالیسی میں بدترین حماقتوں کے مظاہرے کرتے ہوئے پوری دنیا میں نکوبنا چھوڑا ہے۔ ابھی آپ چین میں بے عزتی کروانے کے بعد روس پدھارے ہیں۔ کس لجاجت کے ساتھ عالمی حالات پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص ادراک کر سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کیا پاکستانی قیادت کا روس جانا بنتا تھا؟ اس وقت روس کی ہمسائیگی میں یوکرین بحران کی سنگینی سب کے سامنے ہے۔ امریکا اور برطانیہ اس پر پابندیاں لگانے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہا جا رہا ہے اگر پیوٹن نے یوکرین میں فورسز بھیجیں تو ہم بھی پیش قدمی کریں گے۔ ولی خاں ہاتھیوں کی لڑائی میں مینڈکی والا محاورہ بولا کرتے تھے۔ انسان اپنا جثہ دیکھ کر بات کرے، اپنے گھر کا کوئی ایک مسئلہ آپ سے سنبھالا نہیں جا رہا اور چلے ہیں عالمی ثالثی کروانے۔ کبھی ایران اور سعودی عرب کے چاچے مامے بننا چاہتے ہیں اور کبھی بڑ ہانکتے ہیں کہ ہم امریکا چائنہ سرد جنگ ختم کروا دیں گے۔ چاہے آگے سے یہ جواب ملے کہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ یا یہ کہ وہ چھپکلی والی مثال جو شہتیروں کو جپھے ڈال رہی ہوتی ہے۔

 جن کو عالمی سیاست کی ابجد سے بھی شناسائی نہیں، جو فرانس اور جاپان کا جغرافیہ ملا رہے ہوتے ہیں، جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ترکوں اور عربوں کی اصل تاریخ کیا ہے۔ وہ کبھی مہاتیر کی جھولی میں بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی اردگان کو عثمانی خلیفہ خیال کرنے لگتے ہیں۔ ترکی جاتے ہیں تو اتاترک کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہیں، ایران پدھارتے ہیں تو خمینی جیسا انقلاب پاکستان میں لانے کے بیانات جاری فرماتے ہیں اور پھر چائنہ اور ماؤزے تنگ کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ ہر طرف سے بے عزتی کروانے کے بعد بولتے ہیں کہ میری حیثیت سعودی عرب کے ایم بی ایس جیسی کیوں نہیں ۔ ظرف اتنا ہے کہ اپنی اپوزیشن سے بات چیت کرنا بھی پسند نہیں لیکن دعویٰ ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹی وی پر مناظرہ و مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔

 وژن یہ ہے کہ مودی کی فتح سے کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا دکھتا تھا اور سوچ یہ ہے کہ اگر انڈین وزیر اعظم نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل ختم کیا ہے تو ہم ہر جمعہ کی دوپہر اپنے عوام کو آدھا گھنٹے دھوپ میں کھڑے کرکے اس آرٹیکل کو دوبارہ آئین میں شامل کروا دیں گے۔ آج آپ کو گاندھی اور نہرو اچھے دکھتے ہیں، جب وہ زندہ تھے تو ان کے خلاف بھی منافرت پھیلائی جاتی تھی؟ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی آپ کو دکھتی ہے لیکن سنکیانگ میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وہاں آنکھیں بند اور زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں ؟ آج مودی کی ہندو شدت پسندی بری لگتی ہے تو اپنی انتہا پسندی کے متعلق کیا خیال ہے جس کا پوری دنیا میں شور ہے۔ اور خود ریاست جس کے سامنے پرغمال بنی ہوئی ہے۔

 ابھی اپنے سرکاری اہلکار مروانے اور املاک جلوانے کے بعد آپ کو ٹی ایل پی کے ساتھ جو خفیہ معاہدہ کرنا پڑا تھا، اس کے بعد بھی آپ اس قابل ہیں کہ میڈیا پر اس نوع کا مباحثہ کروا سکیں؟ لہٰذا حضور لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے اپنی قوم کے اصل ایشوز پر توجہ دیں۔ عوام غربت بیروزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں رو رہے ہیں ان کےدکھوں کا مداوا فرمائیں۔