پی آئی اے پر یورپ میں عائد پابندیاں جلد ختم ہوسکتی ہیں

  • جمعہ 25 / فروری / 2022
  • 3460

پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن  کے چیف ایگزیکٹیو افسر ارشد ملک کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل ایوی ایشن آڈیٹر کی کلیئرنس کے بعد آئندہ ماہ سے ائیر لائن کا یورپی یونین ممالک میں آپریشن شروع کرنے کا امکان ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ملک نے بتایا کہ انٹرنیشنل آڈیٹر ممکنہ طور پر سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کا آڈٹ آئندہ تک مکمل کرلیں گے، ہمیں امید ہے کہ آڈٹ کی روشنی میں پی آئی اے پر یورپی یونین کی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے سے متعلق اس ماہ کے اختتام یا آئندہ ماہ کے آغاز میں بین الاقوامی سیفٹی گروپس بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔

ارشد ملک نے کہا کہ جن لوگوں نے پی آئی اے کے پائلٹس کے خلاف تحقیقات کی تھی اور ان میں سے سینکڑوں کے لائسنس کومشکوک قرار دیا تھا، وہ پی آئی اے پر یورپی یونین کی پابندی کے ذمہ دار ہیں اور اس سے قومی ائیر لائن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سی ای او نے قومی ایئر لائن کے بارے میں سی اے اے کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے شکایت کی کہ حکام ’پی آئی اے کو ترجیح نہیں دیتے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک بھی ہمیں سلاٹ نہیں دیتے جس کی وجہ سے ہمیں دوسرے مقامات تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ ہم 22 سال بعد شام کے دارالحکومت دمشق کے علاوہ ملائیشیا اور عراق میں بھی پروازیں شروع کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ سے آذربائیجان کے درالحکومت باکو میں بھی آپریشن شروع کیا جائے گا جبکہ آسٹریلیا کی براہِ راست پرواز کی تیاری بھی جاری ہے۔ پی آئی اے ہانگ کانگ میں براہِ راست آپریشن پر بھی کام شروع کرچکا ہے۔

گزشتہ ماہ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (اے ای ایس اے) کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے دوبارہ پروازیں شروع کرنے کی اجازت دینے سے قبل جانچ پڑتال کریں گے۔

ای اے ایس اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹرک کے کی جانب سے ارشد ملک کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اگرچہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات کو دور کرنے میں کامیاب رہا ہے لیکن یہ اُس عمل کا صرف ایک حصہ ہے جس کے تحت پاکستانی ایئر لائنز پر لگائی گئیں پابندیاں ختم کی جائیں گی۔

پاکستانی پائلٹس لائسنس مشکوک ہونے کا معاملہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے 2020 کے وسط میں قومی اسمبلی میں یہ دعویٰ کیا کہ پی آئی اے کے 150 پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہیں۔  یورپی یونین نے اس سکینڈل پر پی آئی اے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پی آئی اے کے سربراہ نے مزید کہا کہ قومی ائیر لائن اپنے ڈرائی لیز پر چار طیارے شامل کررہا ہے۔ ’اس سلسلے میں تجویز حکومت کو بھیج دی گئی ہے اور امکان ہے کہ نئے طیارے اگلے ماہ ائیر پورٹ پر ہوں گے‘۔