جلد انتخابات کا فیصلہ، تحریک عدم اعتماد کی راہ میں رکاوٹ
- جمعہ 25 / فروری / 2022
- 3630
وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے میں حکومتی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں نو جماعتی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کو جس بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے وہ یہ کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں جلد انتخابات سے متعلق فیصلہ ہے۔
حکمران پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعتیں مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم پاکستان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی نئے انتخابات کے حق میں نہیں ہیں۔ پی ڈی ایم کے اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے بعد جلد از جلد نئے انتخابات چاہتی ہے کیونکہ یہ ان کی پارٹی کے لیے موزوں ہے۔
پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحادیوں میں مشکل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر تمام اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے اتحادیوں کے درمیان طے پانے والا اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا عمران خان حکومت کو گرنے کے فوراً بعد انتخابات کرائے جائیں یا اپوزیشن کی آنے والی حکومت اگلے سال کے آخر میں طے شدہ عام انتخابات تک باقی ڈیڑھ سال کی مدت مکمل کرے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بدھ کے روز مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو جلد انتخابات کا مطالبہ ترک کرنے کے لیے قائل کرنے کی پوری کوشش کی۔ کیونکہ اس سے معاملات پیچیدہ ہو جائیں گے۔ آصف زرداری نے اجلاس میں کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنا غیر دانشمندانہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہم حکومت میں ہیں اور مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کے جانے کے بعد پنجاب بھی بالآخر اپوزیشن کے ہاتھ میں جائے گا۔ زرداری نے مشورہ دیا کہ طے شدہ عام انتخابات تک کے عرصے کے دوران وہ معیشت کو ٹھیک کرنے اور گورننس کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
تاہم یہ معاملہ غیر حل شدہ رہا کیونکہ نواز شریف نے اسے دوسری ملاقات تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے ایک ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ق) کے چوہدریوں نے کہا ہے کہ جب یہ باہمی طور پر طے پا جائے گا کہ نئی حکومت عدم اعتماد کے اقدام کی کامیابی بقیہ مدت (اگلے سال کے آخر تک) پوری کرے گی تو وہ تب ہی اپوزیشن کی پیشکش پر غور کریں گے۔ آصف زرداری، عمران خان کو ہٹانے کی صورت میں پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کر چکے ہیں۔
جب ان رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی تو ذرائع نے کہا کہ کوئی بھی قلیل مدتی وزیر اعلیٰ یا دیگر عہدوں میں دلچسپی نہیں لے گا۔
سابق صدر زرداری نے جمعرات کو جماعت اسلامی کے امیر سے ملاقات کی۔ جماعت کے پارلیمان میں دو اہم ووٹ ہیں۔ ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی حتمی رضامندی چند روز کی بات ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس جمعہ سے شروع ہو رہا ہے۔
پراعتماد آصف زرداری نے اگرچہ اپوزیشن کے پاس موجود حتمی اعداد و شمار کو ظاہر نہیں کیا لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'ان کی طرف اراکین کی کافی تعداد ہے اور جے آئی ہیڈ کوارٹر کے دورے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ووٹ کا شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے جماعت سے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دونوں جماعتیں کراچی کی بہتری کے لیے تعاون کریں جو کہ جماعت کا سابق گڑھ ہے، جس پر جماعت اسلامی نے اتفاق کیا۔
دریں اثنا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مسلم لیگ (ق) کے وفاقی وزیر مونس الٰہی سے ملاقات کی اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی ممکنہ تحریک عدم اعتماد سے پیدا ہونے والی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
مونس الٰہی نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مجھے فون کیا اور ہم نے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، میں نے ان سے کہا کہ سیاسی بات چیت اور مشاورت جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ کیا گیا ہے، ہم اپنے وعدوں کے پابند ہیں اور ان کا مکمل احترام کریں گے۔