روس پر مزید پابندیاں، جنگ میں یوکرین کے 137 فوجی ہلاک
- جمعہ 25 / فروری / 2022
- 2860
یوکرین پر روسی افواج کے حملے کے بعد امریکا، یورپی یونین اور دیگر ممالک نے روس پر نئی اور سخت پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ اس دوران یوکرین پر روسی حملے جاری ہیں اور 137 یوکرینی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں روس کو عالمی مارکیٹ میں اہم کرنسیوں میں کاروبار کرنے کی صلاحیت سے محروم کرتی ہیں۔ روسی بینکوں اور سرکاری اداروں کے خلاف بھی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
تازہ پابندیوں میں روس کے 2 بڑے بینکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو امریکی ڈالر میں لین دین نہیں کرسکیں گے۔ جب کہ ریاستی توانائی کی بڑی کمپنی 'گیزپورم' اور دیگر بڑی کمپنیاں مغربی منڈیوں میں فنانسگ نہیں کر سکیں گی۔
اتحادی ممالک نے روس کی ہائی ٹیک اشیا پر برآمدی کنٹرول نافذ کر دیا ہے جس کا مقصد روس کے دفاع اور ایرو اسپیس سیکٹر کو تباہ کرنا ہے۔ واشنگٹن نے پابندیوں کی فہرست میں شامل روسی کمپنیوں میں مزید نام شامل کیے ہیں۔
جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ ولادیمیر پیوٹن جارح ہیں، انہوں نے اس جنگ کا انتخاب کیا اور اب وہ اور ان کا ملک اس کے نتائج بھگتیں گے۔ یہ پابندیاں روس پر طویل مدتی اثر ڈالنے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس کے علاوہ مزید کچھ کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد روس کی ڈالر، یورو، پاؤنڈ اور ین میں کاروبار کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ پابندیوں کا ہدف روس کے 5بڑے بینک ہیں، جن میں ریاستی حمایت یافتہ سبر بینک اور وی ٹی بی بینک کے ساتھ ساتھ روسی اشرافیہ کے ارکان اور ان کے خاندان بھی شامل ہیں۔
روس کا سب سے بڑا قرض دہندہ سبر بینک اب امریکی بینکوں کی مدد سے رقم منتقل نہیں کر سکے گا۔ وائٹ ہاؤس نے روس پر برآمدی پابندیوں کا بھی اعلان کیا جس کا مقصد تجارتی الیکٹرانکس اور کمپیوٹرز سے لے کر سیمی کنڈکٹرز اور ہوائی جہاز کے پرزوں تک ہر چیز تک روس کی رسائی کو روکنا ہے۔
امریکا کے علاوہ یوکرین پر حملہ کرنے پر یورپی یونین نے بھی روس پر وسیع پیمانے پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے برسلز میں ہونے والی میٹنگ کے بعد کہا کہ پابندیوں کا ہدف مالیاتی شعبے، توانائی، ٹرانسپورٹ اور روسی اشرافیہ کے ویزے ہیں۔ یہ اقدامات روس کے لیے اپنی آئل ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنے یا ہوائی جہاز کے اسپیئر پارٹس کے لیے ٹیکنالوجی خریدنا ناممکن بنا دیں گے۔ متعدد اور ٹارگٹڈ پابندیوں کی منظوری ظاہر کرتی ہے کہ یورپی یونین متحد ہے۔
ادھر نیوزی لینڈ نے بھی روسی حکومت کے اہلکاروں پر سفری پابندی عائد کر نے کے علاوہ روس کے ساتھ وزارت خارجہ کی دو طرفہ مشاورت معطل کر دی جبکہ روسی فوج اور سکیورٹی فورسز کو سامان کی برآمد بھی روک دی گئی۔
برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کے تحت بڑے روسی بینکوں کو برطانیہ کے مالیاتی نظام سے خارج کر دیا جائے گا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے اعلان کردہ نئی پابندیوں میں اولیگارچز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے ہاؤس آف کامنز کو بتایا کہ یہ روس پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا سب سے بڑا اور سخت ترین پیکج ہے۔ روس کی قومی ایئرلائن ایروفلوٹ کے برطانیہ میں لینڈنگ کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
برطانیہ میں روسی شہریوں کے پیسے جمع کروانے پر حد مقرر کی جائے گی، روس کو فروخت کی جانے والی ٹیکنالوجی کے لیے بھی سخت برآمدی ضابطے ہوں گے۔ اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے آخری وقت تک سفارت کاری کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ان کا خیال ہے کہ ولادیمیر پیوٹن شروع سے ہی یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے پرعزم رہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے روس کے یوکرین پر بلا اشتعال اور بلا جواز حملے کی مذمت کی اور روس کے بینکوں اور ملک کی اشرافیہ سمیت 62 روسی اداروں اور افراد پر تازہ پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اتحادی ملک امریکا کے ساتھ ساتھےکینیڈا نے بھی منگل کو روس پر اقتصادی پابندیوں کا پہلا مرحلہ نافذ کر دیا تھا۔
یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے جواب میں ایشیا کے کئی ممالک نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کردیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا کہ وہ روس کے خلاف پابندیوں کو وسیع کریں گے، جس میں اس کے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور قانون سازوں کو ہدف بنایا جائے گا۔
جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے کہا کہ وہ روس کے خلاف فوجی سازوسامان کی برآمدات سمیت 3 شعبوں پر پابندیاں عائد کریں گے۔ وزیر خزانہ جاپان شونیچی سوزوکی نے کہا کہ جاپان کئی روسی بینکوں کے اثاثے بھی منجمد کر دے گا۔
خیال رہے کہ 24 فروری کو روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی افواج کو یوکرین کے مشرق میں آپریشن کا حکم دیا تھا، جس کے بعد یوکرین کے دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں روسی افواج نے میزائل برسائے اور فوجیں اتاریں جبکہ کیف نے ملک بھر میں مارشل لا نافذ کردیا ہے۔
اس دوران یوکرین کے مختلف شہروں پر روسی حملے جاری ہیں اور خبروں کے مطابق روسی فوجیں کئی اطراف سے یوکرین کی سرزمین میں داخل ہوچکی ہیں۔ روسی افواج دارلاحکومت کیف کو میزائیلوں اور فضائی حملوں سے نشانہ بنا رہی ہٰں۔ عام لوگ انڈر گراؤنڈ اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ حملوں میں متعدد شہری اور ایک سو سے زیادہ یوکرینی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔