ڈاکٹر مہدی حسن: ایک متمدن شخص کی یادیں
- تحریر ڈاکٹر ساجد علی
- جمعہ 25 / فروری / 2022
- 4950
ڈاکٹر مہدی حسن کا شمار پنجاب یونیورسٹی کے ان چند اساتذہ میں ہوتا تھا جو اپنی بات کھلے اور واشگاف انداز میں کرنے کے عادی تھے۔ ان کا تعلق بائیں بازو کےساتھ تھا۔
ترقی پسند ہونے کے دعوے دار تو بہت سے تھے لیکن صرف مہدی صاحب تھے جو ہر قسم کی مصلحت شناسی سے بالاتر تھے۔ انھوں نے اس کی قیمت بھی ادا کی لیکن اپنے اصولوں سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ مہدی صاحب پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جات کو لاحق قدیمی اور متعدی بیماری کا ہدف رہے۔ میری مراد شعبوں میں اساتذہ کا ایک دوسرے کے خلاف سازشوں اور ٹانگ کھینچنے کے کلچر پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اکثر شعبوں میں اساتذہ کے مابین ہر وقت ایک خانہ جنگی کا سماں ہوتا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کی ابتدا ہوئی تو اس وقت کے معروف صحافی مرغوب صدیقی شعبہ کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے۔ دوسرے نمبر پر سینیر استاد عبد السلام خورشید تھے۔ دونوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ نیو کیمپس میں شعبہ صحافت ان دنوں اس بلڈنگ میں تھا جہاں بعد میں بہت برس تک فلسفہ کا شعبہ رہا اور آجکل وہ عمارت آرکیالوجی والوں کے پاس ہے۔ اوپر کی منزل میں بڑا کمرہ ہوتا ہے جس میں بالعموم صدر شعبہ کا دفتر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ملحق ایک کمرہ ہے جو باقی کمروں سے نسبتاً بڑا ہے۔ دیکھا جائے تو اس کمرہ پر دوسرے نمبر پر سینیر استاد کا حق بنتا ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ پروفیسر وارث میر صاحب نے ہمیں بتایا کہ مرغوب صدیقی صاحب نے بڑے کمرے کو ریٹائرنگ روم بنایا ہوا تھا اور ملحق کمرے میں صدر شعبہ کا دفتر تاکہ وہ کمرہ ڈاکٹر عبد السلام خورشید کو نہ دینا پڑے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جس شعبہ کی ابتدا ہی کھینچا تانی سے ہو اس میں یہ روایت آہستہ آہستہ بہت مستحکم ہوتی چلی جاتی ہے۔
میں جس زمانے میں یونیورسٹی میں آیا وہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا۔ اس وقت بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اساتذہ عتاب کا شکار تھے۔ مہدی حسن صاحب اپنے شعبہ میں تنہا تھے، اس لیے وہ دائیں بازو کے اساتذہ کا ہدف ہوتے تھے اور ان کی شہ پر جمعیت کے طلبہ بھی ان کے خلاف حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ جنوری 1979 میں شعبہ فلسفہ میں جب تدریس کا آغاز کیا تو میں مہدی صاحب کے مخالف دھڑے کے ساتھ ہوتا تھا۔ ذاتی طور پر مجھے دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کیونکہ میں یہ بات زمانہ طالب علمی میں سمجھ چکا تھا کہ تقسیم نظریاتی کم اور مفاداتی زیادہ ہے۔ میرے دوست احباب چونکہ دائیں بازو کے ساتھ تھے اس لیے دوستی نبھاتے ہوئے میں بھی ان کے ہم قدم ہوتا تھا۔ البتہ دوستی کا حلقہ میں نے کبھی ہم خیال لوگوں تک محدود نہیں کیا اس لیے مخالف کیمپ کے لوگوں کے ساتھ بھی باہمی احترام پر مبنی تعلق کو برقرار رکھا۔ مجھے ڈاکٹر مہدی حسن صاحب سے دوستی کا دعوی تو نہیں تھا لیکن ان کے ساتھ اچھا تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ وہ میرے استاد محترم پروفیسر شاہد حسین صاحب کے برادرنسبتی تھے۔
اس وقت مجھے ان کی ڈاکٹریٹ کرنے کی روداد یاد آ رہی ہے جو دلچسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔ اس ضمن میں ایک لطیفہ بھی بنا تھا۔ مہدی حسن صاحب نے جب اپنا پی ایچ ڈی کا خاکہ جمع کروایا تو اس وقت شعبہ صحافت میں کوئی بھی استاد پی ایچ ڈی نہیں تھا۔ مہدی صاحب نے پروفیسر وارث میر صاحب کو سپروائزر بنایا۔ چونکہ میر صاحب خود پی ایچ ڈی نہیں تھے اس لیے شعبہ فلسفہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر سی اے قادر صاحب کو سپروائزر بنایا گیا۔ میر صاحب اور مہدی صاحب میں نہ کوئی نظریاتی ہم آہنگی تھی نہ باہم دوستی تھی۔ مہدی صاحب نے اپنا لکھا ہوا چیکنگ کے لیے نہ کبھی قادر صاحب کو دکھایا اور نہ میر صاحب کو۔ ایک روز جلد کیا ہوا مقالہ انھوں نے قادر صاحب کی میز پر لا کر رکھ دیا اور ان سے اس پر دستخط کرنے کو کہا۔ قادر صاحب نے کہا، مقالہ کے اصل نگران تو میر صاحب ہیں۔ جب تک وہ دستخط نہیں کریں گے، میرے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ مہدی صاحب میر صاحب کو مقالہ دکھانا نہیں چاہتے تھے۔ قادر صاحب نے ایک بار میر صاحب کو دستخط کرنے کو کہا تو انھوں نے انکار کر دیا کہ مجھے کیا پتہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ اس پر دستخط کرکے میں خواہ مخواہ کسی مصیبت میں پڑ جاوں گا۔ یہ معاملہ کچھ دیر تک اسی طرح لٹکا رہا کہ ایک روز اچانک (9 جولائی 1987) میر صاحب کا انتقال ہو گیا۔ میر صاحب کے انتقال کے بعد قادر صاحب نے مقالہ پر دستخط کر دیے اور وہ جمع ہو گیا۔
میرصاحب کے چند ماہ بعد ہی قادر صاحب کا بھی انتقال ہو گیا لیکن وہ بطور سپروائزر اپنی رپورٹ بھیج چکے تھے۔ اب بیرونی ممتحنوں کی رپورٹیں آ چکی تھیں لیکن یونیورسٹی زبانی امتحان کا انعقاد نہیں کر رہی تھی۔ ان دنوں ڈاکٹر منیر الدین چغتائی صاحب وائس چانسلر تھے۔ لطیفہ یہ بنا تھا کہ ایک بار مہدی حسن صاحب نے چغتائی صاحب سے کہا، میرے نگران وارث میر صاحب تھے۔ انھوں نے مقالے پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور وہ فوت ہو گئے۔ دوسرے نگران قادر صاحب تھے، وہ بھی رپورٹ لکھنے کے بعد فوت ہو گئے۔ آپ میرا وائیوا کروا دیں نہیں تو میں نے بطور نگران آپ کا نام لکھ دینا ہے۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ جب ان کا وائیوا ہوا تو اس وقت ملک میں محترمہ بینظیر کی حکومت دوبارہ آ چکی تھی۔ یعنی جب وائس چانسلر صاحب پر حکومتی دباؤ پڑا، تبھی وہ وائیوا کا انعقاد کرنے اور پی ایچ ڈی کا نوٹیفکیشن کرنے پر آمادہ ہوئے۔
جیسا کہ میں اوپر ذکر کر چکا ہوں، ابتدا میں ہمارا تعلق دو مخالف کیمپوں سے تھا لیکن 1988 میں یہ ہوا کہ میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی گروپ کے بڑوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس کی تفصیل بتانے کا یہ موقع نہیں۔ اس کے نتیجے میں لیفٹ کے بہت سرگرم ورکر ڈاکٹر متین مرحوم سے میری دوستی کا آغاز ہوا۔ اب اساتذہ کی سیاست میں میری حیثیت کسی گروپ سے وابستہ شخص کی نہیں بلکہ آزاد فرد کی تھی۔ ایک بار میں نے جنرل باڈی کے اجلاس میں تقریر کی تو میٹنگ کے بعد ڈاکٹر مہدی حسن صاحب بطور خاص میرے پاس آئے اور میری گفتگو کی تعریف کرتے ہوئے کہا، یونیورسٹی میں ایسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے جو گروہی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچتے ہوں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس دن سے ان کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ قائم ہو گیا جو ان کی ریٹائرمنٹ تک جاری رہا۔
1992 میں جعمیت والوں کے ساتھ لڑائی اتنی بڑھ گئی کہ اب میرا دائیں بازو والوں کے ساتھ چلنا ممکن نہ رہا تھا۔ چنانچہ میں رسمی طور پر دوسرے گروپ میں شامل ہو گیا۔ ڈاکٹر متین مرحوم نے میرے نہ چاہتے ہوئے مجھے اے ایس اے کے الیکشن میں دھکا دے دیا۔ الیکشن کا رزلٹ آیا تو ہمارا پینل ہار گیا اور پینل میں سب سے کم ووٹ مجھے ملے تھے۔ رزلٹ کے بعد ہم لوگ جیالوجی کے شعبے میں پروفیسر نواز صاحب کے کمرے میں بیٹھے تھے۔ مہدی صاحب نے اس وقت مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا، الیکشن لڑنا چھوڑ دو۔ تم کبھی نہیں جیت سکتے کیونکہ لوگ جس شخص کی زبان سے خوف کھاتے ہوں اسے ووٹ نہیں دیتے۔ میں نے ساری زندگی یہاں سیاست کی ہے لیکن الیکشن کبھی نہیں لڑا۔
میں نے مہدی صاحب کی اس نصیحت کو پلے باندھا اور انتخابی سیاست ہی نہیں، گروہی وابستگی کو بھی تج دیا۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)