فیس بک، ٹوئٹر، گوگل اور دیگر کمپنیوں نے روس پر پابندیاں لگادیں

  • ہفتہ 26 / فروری / 2022
  • 2990

یوکرین پر حملے کے بعد اب انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اس پر پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

یوکرین پر حملوں کے بعد فیس بک نے روسی میڈیا کی مونیٹائزیشن ختم کرتے ہوئے ان پر ہر طرح کے اشتہارات چلانے کی پابندی عائد کردی۔ فیس بک نے پابندیوں کا آغاز کرتے ہوئے متعدد روسی سرکاری نشریاتی اداروں پر ویب سائٹ پر مواد شیئر کرنے کی جزوی پابندی بھی عائد کردی۔ نئی پابندیوں کے تحت روسی نشریاتی ادارے اور حکومتی ادارے اور شخصیات تشدد اور جنگ سے متعلق کوئی مواد شیئر نہیں کر پائیں گے۔

دوسری جانب گوگل نے بھی کہا ہے کہ گزشتہ چند دن سے یوٹیوب سے لاتعداد روسی ویڈیوز ہٹادی گئیں جن میں تشدد اور جنگ سے متعلق مواد تھا۔ گوگل کے مطابق وہ روسی میڈیا اور افراد پر پابندیاں نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے اور منصوبہ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر نے بھی یوکرین پر حملے کے بعد روسی میڈیا، حکومتی اداروں اور شخصیات پر بھی جزوی پابندی عائد کردی۔ روس کے لیے نئی پالیسی اور پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے دونوں ممالک میں اشتہارات پر پابندی عائد کردی۔ ٹوئٹر کے مطابق یوکرین اور روس میں اب لوگوں کو ٹوئٹر پر ایسے افراد کی ٹوئٹس سجیسٹ نہیں کی جائیں گی جن کو انہوں نے فالو نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی جنگ اور تشدد سے متعلق ٹوئٹس کو ہائی لائیٹ کیا جا رہا ہے۔

نئی پابندیوں کے تحت روس اپنی فوج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق چیزیں، مدد اور آلات حاصل کرنے سے بھی محروم ہو جائے گا۔