تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا جلد اعلان کریں گے: شہباز شریف

  • ہفتہ 26 / فروری / 2022
  • 2690

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے تیاری ہو رہی ہے۔ تمام جماعتیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے ہی ہم سمجھیں گے کہ ہماری تیاری مکمل ہے تو ہم اس سے متعلق اعلان کریں گے۔

صدرپاکستان مسلم لیگ نواز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وفاق کو چھوٹے صوبوں کو ان کا حق دینا ہوگا، ہمیں چھوٹے صوبوں کے مسائل کو خلوص دل کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے تو ہمیں چھوٹے صوبوں کے حقوق کی پاسداری کرنی ہوگی، اور اس کے لیے صوبہ پنجاب کو آگے آنا ہوگا۔

تحریک عدم اعتماد کی تیاری سے متعلق سوال کے جواب میں صدر ن لیگ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے تیاری ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے ہی ہم متفقہ طور پر سمجھیں گے کہ ہماری تیاری مکمل ہے تو ہم اس سے متعلق اعلان کریں گے۔

موجودہ حالات میں روس اور یوکرین جنگ کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس سے متعلق سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔

اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے 22 کروڑ عوام حکومت کے خلاف دستِ بد دعا ہیں کہ اے خدا کب اس بد ترین، فاشسٹ، کرپٹ اور نا اہل حکومت سے جان چھٹے گی اور کب عوامی حکومت آکر عوام کو مہنگائی سمیت دیگر مسائل سے چھٹکارا دلائے گی۔ اس وقت ملک میں مہنگائی کے باعث جو صورتحال ہے، عوام جتنا پریشان ہیں وہ لوگوں کے لیے قیامت صغریٰ ہے۔ اس لیے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے پیش نظر ہے۔

شہباز شریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔ آج تک اس پلیٹ فارم سے جو بھی فیصلے ہوئے ہیں ہم اس میں ساتھ ہیں۔ آج کی ملاقات میں ہم نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے گفتگو کی ہے، اور ہم نے اس پر کام مکمل کرلیا ہے اور اب اس اقدام کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

سردار اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بلوچستان کے مسائل حل کرنے ہوں گے، بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں اب مزید دیر نہیں ہونی چاہیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالات مزید خراب ہوں گے۔ اب فوری طور پر بلوچستان کی زیادتیوں کا ازالہ ہونا چاہیے، جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، بلوچستان کے لوگوں میں مایوسیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

اس دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تمام ادارے نیوٹرل رہیں گے تو کٹھ پتلی وزیراعظم گھر چلا جائے گا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا جنازہ نکالاگیا، معیشت کو تباہ کردیا گیا ،پاکستان کے معاشی حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے ہیں،مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، عمران خان کا ہر وعدہ جھوٹا ور دھوکا نکلا، عوام کا سلیکٹڈ وزیراعظم سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ  صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ سے محروم رکھا جارہا ہے۔ چاہتے ہیں کہ تمام صوبوں کو ان کا حق دیا جائے۔ جلد از جلد صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں ، ہماری نیت صاف ہے ہمارے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے