طاقت کی لڑائی اور عوامی مفاد
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 26 / فروری / 2022
- 3620
پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں بنیادی طور پر عام آدمی کے مقدمہ کو سیاسی نعرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کی سیاست کی بڑی کنجی عوامی مفاد پر مبنی سیاست ہوتی ہے۔
سیاست اور جمہوریت کا یہ کھیل عوام کو طاقت دینے اور معاشرے کو سیاسی و جمہوری بنیادوں پر تشکیل دینا او رایک مہذب معاشرے کی عکاسی کرنا ہوتا ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر سیاست اور جمہوریت کی جنگ لڑی جاتی ہے۔ کیونکہ اگر سیاست اور جمہوریت میں عوامی مفاد کو نظرانداز کرکے آگے بڑھا جائے تو یہ عمل ایک مخصوص طاقت ور افراد یا گروہ کی سیاسی طاقت کا کھیل بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں معاشرتی سطح پر سیاست، جمہوریت اور عام آدمی کے درمیان موجود باہمی تعلق کمزور نظرآتا ہے اور مجموعی طور پر سیاسی ساکھ کی نظام پر بنیادی نوعیت کے سوالات کو اٹھایا جاتا ہے
پاکستان میں اس وقت حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک بڑی سیاسی جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس کھیل میں آج کا بڑا سیاسی شو ”وزیر اعظم یا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد“ کا کارڈ ہے جس کا مقصد وزیر اعظم یا حکومت کو گھر بھیج کو حکومتی سیاسی مخالفین خود کو ایک متبادل حکومت کے طو رپر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بڑے بڑے سیاسی پنڈت، سیاسی فریقین، سیاسی جماعتیں، سیاست دان، میڈیا، سول سوسائٹی اور اہل دانش سمیت رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا ادارے سب ہی کی سیاسی بحث کا موضوع عام آدمی کے مقدمہ سے زیادہ اسلام آباد میں جاری ”اقتدار کے کھیل کی جنگ“ ہے۔ بنیادی طور پر معاشرے کے مختلف فریقین بھی خود کو طاقت کے کھیل کی جنگ میں الجھائے ہوئے ہیں۔
اس سیاسی جنگ میں حکومت حزب اختلاف پر اور حزب اختلاف عملی طور پر حکومت کو سیاسی پسپا کرکے اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس اقتدار کی جنگ کا بڑا المیہ عام آدمی کو درپیش مسائل سے لاتعلقی کی سیاست ہے۔ عام آدمی اس جنگ میں دونوں اطراف سے ایک بڑے ”سیاسی ہتھیار“ کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔
اقتدار کی جنگ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اس میں ملک کے داخلی، علاقائی، عالمی یا خارجی مسائل پر سوائے غیر سنجیدگی کے کچھ غالب نظر نہیں آتا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کی لڑائی یا ایک دوسرے کو شکست دے کر قومی مسائل کے حل میں غیر سنجیدگی کا پہلو دونوں اطراف سے نمایاں ہے۔ پا ک بھارت تعلقات، مقبوضہ کشمیر سے جڑے مسائل، ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط، افغانستان کا داخلی اور خطہ کا بحران، سی پیک کی تکمیل، چین اور روس سمیت علاقائی سطح پر نئی صف بندی، پاک امریکہ تعلقات، معاشی مسائل، بری طرز حکمرانی سے جڑے معاملات، احتساب اور شفافیت کا ایجنڈا سمیت عام آدمی کے مفادات کی جنگ بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ کھیل محض اقتدار کی حصول کی جنگ بن گیا ہے اور یہ جنگ جائز یا ناجائز طریقے سے جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی حمایت، سیاسی مخالفین کے خلاف سازشیں، ایک دوسرے کے سیاسی مینڈیٹ کو قبول نہ کرنا، حکومت گرانا یا ریاستی و حکومتی نظام کو اپنے ہی ہاتھوں رسوا کرنا، خود کو مسائل کے حل کی بجائے مسئلہ بنا کر پیش کرنا اور عام لوگوں کو حقیقی مسائل پر جوڑنے کی بجائے ان کو محاذ آرائی کی عملی سیاست سے جوڑے رکھنا ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ بن گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری سیاست میں سیاسی جماعتوں اور قیادت کے باہمی تضادات اور ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے بدتر الزامات کے بعد اپنے ہی سیاسی مفادات کے لیے دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہونا ہماری دوغلی سیاست کا کھیل بن گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی فریقین میں دشمنی درست نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے دشمنی پیدا کرنا اور ایک دوسرے کو غداری یا چور، ڈاکو جیسے القاب سے نوازنا اور پھر ان ہی سے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملنا، ظاہر کرتا ہے کہ طاقت کے کھیل کے کوئی اصولی، نظریاتی، فکری یا سچائی پر مبنی فلسفہ نہیں ہوتا۔ اقتدار کے کھیل میں ضرورت پڑنے پر نظریہ ضرورت کے تحت کسی کو دشمن بنا کر پیش کرنا اور پھر سیاسی یوٹرن کے تحت اسی کو دوست بنانا ہماری سیاست کا چلن بن گیا ہے۔
جب اس پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ سیاست اسی کھیل کا نام ہے اور اس میں کتابی سیاست اور جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ سب سے زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی فریقین اقتدا رکے کھیل میں اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ ایک دوسرے پر ذاتی، خاندانی حملے، کردار کشی، تضحیک پر مبنی رویے، عورتوں کو نشانہ بنانا، گھر کے نظام کو چیلنج کرنا، بیوی، بیٹی، ماں، بہن جیسے رشتوں کے تقدس کی پامالی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ہماری سیاسی قیادت، جماعتیں اور اہل دانش یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اقتدار کی لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان ملکی مفادات، عام آدمی کی سیاست اور ترقی کے مفاد پر پڑتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ لوگوں کا موجودہ سیاسی نظاموں پر چاہے یہ کھیل حکومت یا حزب اختلاف کوئی بھی کھیلے لوگوں میں اپنی سیاسی ساکھ کو کھورہا ہے۔ لوگ واقعی سمجھتے ہیں کہ ہمارے مسائل کا حل موجودہ سیاسی قیادت یا حکومت کے پاس نہیں اور یہ طاقت ور طبقات کے مفادات کے حقیقی محافظ ہیں۔ یہ عمل لوگوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی عمل سے بھی لاتعلق کررہا ہے جو مجموعی طور پر ریاستی نظام کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
میڈیا کے مجموعی کردار بھی درست نہیں۔ میڈیا بھی عملی طور پر طاقت ور طبقہ کے کھیل کا حصہ بن گیا ہے۔ کیونکہ ہمارے ٹاک شوزہوں یا پروگرام یا کالم و تجزیہ اس میں عام آدمی کے مسائل کو نظرانداز کرکے طاقت کے جاری کھیل کو ہی بنیاد بناتا ہے۔ ایک مسئلہ ریٹنگ کا ہے جس میں محاذ آرائی پیدا کرنا یا ایسا مواد دکھانا جو ان کی ریٹنگ میں اضافہ بنے وہ ان کی ضرورت بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم موجودہ روائتی سیاست، نظام، قانون، اداروں یا پالیسیوں سمیت عملدرآمد کے نظام کے مقابلے میں ایک متبادل نظام کی بحث کو آگے بڑھانے میں یا تو سنجیدہ نہیں۔ یا یہ ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں
اب سوال یہ ہے کہ موجودہ سیاست یا جمہوریت کے نظام کو کیسے عوامی مفادات اور ملکی مسائل کے حل کے ساتھ جوڑا جائے۔ اس کام کی اہم ابتدا کیسے ہونی چاہیے اور کون کرے گا۔ یہ ہی بنیادی نوعیت کا سوال ہے جس کا جواب معاشرے کے سنجیدہ افراد یا اداروں کو مل بیٹھ کر تلاش کرنا ہوگا۔ لیکن اس کے لیے پہلے اپنے اند رموجود ان پرانے خیالات، سوچ، فکر اور روائتی یا مفاداتی عمل کو ختم کرنا ہوگا تاکہ ہم آگے بڑھنے کے لیے ایک متبادل نظام اور محفوظ راستہ کی تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔ سیاسی نظام اور جمہوریت کے حامیوں کو سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے لوگوں کا تعلق جمہوری نظام کے ساتھ مضبوط بناسکتے ہیں۔ جمہوریت وہیں اپنی اہمیت پیدا کرتی ہے جہاں لوگ جمہوریت کے سیاسی، سماجی اور معاشی ثمرات کو نہ صرف محسوس کرسکیں بلکہ معاشرے میں مجموعی طور پر نظر آئے کہ جمہوریت عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہے۔