یوکرائینی عوام کا خون امریکہ اور یورپ کے ہاتھ پر ہوگا

یوکرائن میں شروع کی گئی   جنگ قابو سے باہر ہورہی ہے  ۔ یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ  تنازعہ  کسی بڑے عالمی تصادم کا سبب نہ بن جائے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے  یوکرائن کی کمزور عسکری پوزیشن اور  اپنے بے پناہ وسائل پر اعتماد کرتے ہوئے یہ سوچ کر حملہ کیا تھا کہ  ایک آدھ دن میں یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرکے   صدر  وولودیمیر ذیلنسکی کو برطرف کردیا جائے گا ۔اور انہیں عبرت کا نشان بنا کر یوکرائن کو ہمیشہ کے لئے روسی تسلط میں لایا جاسکے گا۔ روس کے یہ اندازے پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

جنگ کے چوتھے روز بھی روسی فوج کیف پر قبضہ کے لئے سخت جد و جہد کررہی ہے اور فضائی و میزائل حملوں سے یوکرائینی مزاحمت کو ختم کرنے  کی کوشش کی جارہی ہے۔ کل رات روسی میزائیلوں سے  تیل کے ایک بڑے سٹور  کو تباہ کیا گیا ہے جہاں لگی ہوئی آگ ابھی تک بجھائی نہیں جاسکی۔ اس کے علاوہ روسی فضائیہ اور میزائل  شہر کے گرد و نواح میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر عسکری برتری حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ مقصد تو ابھی تک حاصل نہیں کیا جاسکا لیکن صدر پوتن کی یوکرائینی قیادت کے بارے میں نازیبا گفتگو نے  صدر ذیلنسکی  کو عوامی ہیرو بننے کا موقع ضرور فراہم کیا ہے۔ صدر پوتن نے دو روز پہلے  بات چیت سے  اس معاملہ کو طے کرنے اور جنگ بند کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک تقریر میں صدر ذیلنسکی اور ان کے ساتھیوں کو نیو نازی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے یوکرائینی فوج سے کہا تھا کہ ان ’مجرموں‘ کا گھیراؤ کرکے انہیں گرفتار کرلیں۔

روس نے بیلا روس کے دارالحکومت منسک میں مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کیف کی طرف پیش قدمی میں چند گھنٹوں کا وقفہ ضرور کیا تھا لیکن  جب یوکرائینی صدر نے روس کی ہتک آمیز  پیشگی شرائط پر بات چیت  کرنے سے انکار کیا تو  زیادہ شدت سے کیف پر حملے شروع کردئے گئے اور روسی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ  صدر ذیلنسکی نے بات  چیت کی دعوت مسترد کردی ہے۔  تاہم اگر  روس یہ توقع  کررہا  ہے کہ یوکرائینی قیادت   ہتھیار پھینک کر اور روس کی تمام شرائط قبول کرکے ایک محکوم قوم کی طرح  ماسکو کی تابع فرمان بن جائے گی تو   یہ  اندازے کی سنگین  غلطی   تھی اور اسے  ناروا کوشش کہا جائے گا۔   مذاکرات کا آغاز اسی وقت ہوسکتا ہے جب معاملہ حل کرنے کے تمام آپشنز کھلے رکھے جائیں  اور  فریق مخالف  کے حجم اور عسکری صلاحیت کے باوصف اسے مکمل احترام دیا جائے۔ روس کی طرف سے ایسی کسی خیر سگالی  کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ حالانکہ اگر منسک میں مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کی جاتی تو بہر حال روس ہی اس میں ’فاتح‘ بن کر نکلتا۔

ایک طرف صدر پوتن  یہ دعویٰ کرسکتے تھے کہ وہ  بہر صورت بات چیت کے ذریعے ہی معاملات طے کرنا چاہتے تھے لیکن جب امریکہ و یورپ کے بہکاوے میں یوکرائن نے  اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا  تو انہیں فوری ردعمل کے طور پر فوجی کارروائی کرنا پڑی لیکن فوری طور سے جنگ بند کرکے روس اپنی امن دوستی کا ثبوت بھی دے رہا ہے۔   اس دوران روس مشرقی یوکرائن میں یوہانسک اور ڈونیسک کے  ان   علاقوں کو یوکرائینی فوج سے چھین چکا تھا جو اس کے خیال میں روسی نژاد باغی گروہوں کا جائز حق تھے لیکن ان پر یوکرائن نے قبضہ کرلیا تھا۔ اس طرح علاقائی  تصرف کے حوالے سے روس اپنا بنیادی ہدف حاصل کرچکا تھا۔  اور بات چیت کے نام پر جنگ بند کرکے یوکرائن کی عسکری صلاحیت اور نیٹو میں شمولیت کی خواہش پر کسی حد تک لین دین کی پوزیشن میں بھی آچکا تھا۔ تاہم صدر پوتن نے امن  کی بجائے جنگ اور مصلحت کی بجائے اشتعال انگیزی کو ترجیح دے کر خود اپنی پوزیشن خراب کی۔

جنگ جاری رکھنے اور کیف فتح کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اگر جنگ بند ہوگئی  ہوتی تو روس اس لحاظ سے بھی فائدے میں رہتا کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو  روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔ جرمنی سمیت  متعدد یورپی ممالک انرجی کی ضروریات کے لئے  روسی گیس پر انحصار کرتے ہیں لیکن روس بھی اپنی معیشت بحال رکھنے اور فوج کو ماڈرن کرنے کے منصوبہ کی تکمیل کے لئے یورپ کو گیس فروخت کرنے پر مجبور ہے۔ یوں ایک دانشمندانہ قدم سب کے لئے اطمینان کا سبب  بن سکتا تھا اور مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کا حل نکالا جاسکتا تھا۔ البتہ روس نے یہ موقع ضائع کردیا۔ اب جرمنی  بھی یوکرائن کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان کررہا ہے اور دیگر یورپی ممالک بھی اسلحہ کی سپلائی کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔   یوکرائنی فوج مزاحمت کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کررہی ہے۔ اس مزاحمت کی سب سے نمایاں علامت خود صدر وولودیمیر ذیلنسکی بنے ہیں جنہوں نے گزشتہ روز  کیف سے انخلا کے لئے امریکی پیش کش مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ  ’ہمیں سواری نہیں ہتھیار چاہئیں‘۔

 انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ   ’میں اس وقت روس کا ہدف نمبر ایک ہوں اور میرا خاندان  ہدف نمبر 2 ہے۔ لیکن میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں۔ میرے بچے بھی اس ملک کی اولاد ہیں۔ میں یہیں موجود ہوں اور میرا خاندان بھی کیف ہی میں ہے‘۔ اس پرعزم بیان اور مزاحمت نے صدر ذیلنسکی کو یوکرائینی مزاحمت کی نمایاں  اور قابل فخر علامت بنا دیا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر روس صدر ذیلنسکی کو گرفتا بھی کرلے یا انہیں ہلاک کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ  اس عزم  و حوصلہ کو شکست نہیں دے سکے گا جس کی روح ذیلنسکی نے  یوکرائینی عوام میں ہپھونک دی ہے۔ اب وہ فرد سے زیادہ علامت اور نظریہ بن چکے ہیں۔ فرد کو مارا جاسکتا ہے لیکن  قومی استقلال کی علامتوں کو مٹانا ممکن نہیں ہوتا۔

کیف پر روس کے حملوں میں شدت کے ساتھ ہی امریکہ اور یورپ نے   ماسکو پر پابندیوں میں اضافہ کیا ہے۔  گزشتہ روز  یورپئن یونین نے دو اہم اقدامات کی تجویز دی ہے۔ ان کے تحت بعض روسی بنکوں کو عالمی ادائیگی کے بنکنگ نظام سویفٹ سے نکالا جائے گا ۔ اس کے علاوہ روسی مرکزی بنک کے زرمبادلہ کے اثاثے منجمد کئے جائیں گے۔ یہ دونوں فیصلے روسی معیشت کے لئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ روسی مرکزی بنک نے جنگ کے باعث روبل کی قدر میں کمی کو سہارا دینے کے لئے مداخلت کا ارادہ ظاہر کیا تھا تاہم اس کے اثاثے منجمد کرکے ، روس کی   معاشی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس ایک اقدام سے روبل کی قدر میں تباہ کن کمی بھی واقع ہوسکتی ہے۔ متعدد یورپی ممالک روس کے خلاف ایسے سنگین اقتصادی اقدامات  سے گریز کرنا چاہ رہے ہیں لیکن جنگ  میں طوالت اور یوکرائن میں ہونے والی تباہی کے باعث امریکہ اور یورپ کے لئے روس کے گرد گھیرا تنگ کرنا مجبوری بن رہی ہے۔

یورپ میں روسی جارحیت کی وجہ سے  شدید خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔ جیسا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس ستولتن برگ نے کہا تھا کہ ’اس حملہ کی توقع نہیں تھی۔ یہ نہیں لگتا تھا کہ یورپ 2022 میں ایسی صورت حال کا سامنا کرے گا‘۔  روس کے صدر پوتن نے  لوہانسک اور ڈومینسک کو خود مختار علاقے تسلیم کرتے ہوئے وہاں ’امن فوج‘ بھیجنے کا اعلان کیا تھا لیکن جب  فوجی کارروائی کا آغاز ہؤا تو  یوکرائن پر چاروں طرف سے حملہ کیا گیا اور   یوکرائینی حکومت گرانے اور ملک کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کو واضح اہداف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ روسی مؤقف  سراسیمگی پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔  یوں لگنے لگا ہے کہ روس  نیٹو ممالک  کے علاوہ کسی بھی بہانے کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ کرسکتا ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں یہ احساس فزوں تر ہے کہ اگر روس یوکرائن پر قابض ہوگیا تو وہ اس کے بعد فن لینڈ اور سویڈن کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک بھی روس کے ہمسائے ہیں اور نیٹو کے رکن نہیں  ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ  روس کبھی یہ ارادہ نہ کرے لیکن یوکرائن پر حملہ نے یہ خوف ضرور پیدا کیا ہے اور خوف کسی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک بھی ایسی سخت معاشی  پابندیوں  کا حصہ بن رہے ہیں جو روس کو عالمی نظام سے علیحدہ کرنے کے حامی نہیں ہیں۔

صدر پوتن نے اپنی جارحیت اور اشتعال انگیز  گفتگو سے  خوف و ہراس کی جو فضا پیدا کی ہے ، اس کے دوررس اور ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کی قیمت پوری دنیا کو ادا کرنا پڑے گی لیکن یوکرائن کے بعد سب سے زیادہ اثر روسی عوام پر ہوگا جو معاشی پابندیوں کی وجہ سے مہنگائی، اشیائے صرف کی کمیابی، بیروزگاری اور دیگر مشکلات  کا شکار ہوں گے۔  یوکرائن کے متعدد  شہروں میں بمباری اور  میزائل حملوں سے  شہری آبادیاں شدید بے یقینی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ ہزاروں لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کیف کے شہری   بمباری سے بچنے کے لئے انڈر گراؤنڈ اسٹیشن یا تہ خانوں میں  چھپے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور یورپ روس پر اقتصادی گھیرا تنگ کرکے اسے جنگ روکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں لیکن  یوکرائن کو اس مشکل گھڑی میں عسکری لحاظ سے تنہا چھوڑ کر صدر جو بائیڈن نے امریکی کمزوری کا اظہار کیا ہے جو اس کے تمام حلیف ممالک کے لئے سبق آموز ہونا چاہئے۔  صدر پوتن کئی ماہ سے یوکرائن کی سرحد پر فوج جمع کررہے تھے اور امریکہ اس حملہ کا انتباہ دے رہا تھا لیکن اس دوران واشنگٹن نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا کہ ماسکو  کے عدم تحفظ  کا ازالہ کیا جاسکتا اور اس کے تحفظات دور ہوسکتے۔ امریکہ   نے نیٹو میں شمولیت کے لئے یوکرائن کی حوصلہ افزائی کی لیکن جارحیت کی صورت میں فوجی مدد کرنے سے راہ فرار اختیار کرلی۔ یہ امریکی رویہ کسی کو گڑھے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ امریکہ بلند بانگ دعوے کرنے  کے باوجود  امن قائم رکھنے اور ایک بڑی طاقت کو للکارنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرسکا۔

اس امریکی  طرز عمل کے عالمی اسٹریٹیجک صورت حال پر اثرات مرتب ہوں گے ۔    اسے  یوکرائینی عوام کے خون ناحق کاحساب بھی دینا ہوگا۔ صدر جو بائیڈن کا یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا  جاسکتا کہ اس جنگ کی تباہی کا ذمہ دا تن تنہا روس ہے۔  امریکہ  پر روس کو اس اقدام پر مجبور کرنے اور یوکرائینی عوام کو جنگ میں دھکیلنے کی  مساوی  ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یوکرائینی عوام کا خون امریکہ اور یورپ کے ہاتھ پر ہوگا۔