امریکا نے افغانستان کے ساتھ لین دین کی اجازت دے دی

  • اتوار 27 / فروری / 2022
  • 3360

امریکا نے افغانستان کے ساتھ بیشتر تجارتی اور مالیاتی لین دین کی اجازت دیتے ہوئے نئے قواعد جاری کیے ہیں جو جنگ زدہ ملک افغانستان کی مفلوج معیشت کو بحالی کے راستے پر ڈال سکتے ہیں۔

 امریکی وزیر خارجہ انٹونی جے بلنکن نے 'جنرل لائسنس 20' کے نام سے جانی جانے والی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ واضح رہے کہ طالبان پر پابندیاں برقرار ہیں، لیکن نئے قوانین انسانی امداد اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں آسانی پیدا کریں گے'۔ یہ اقدامات نجی کمپنیوں اور امدادی تنظیموں کو افغان حکومت کے اداروں کے ساتھ کام کرنے میں تعاون اور کسٹم، ڈیوٹی، فیس اور ٹیکس ادا کرنے میں سہولت فراہم کریں گے، ان میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جن کی سربراہی انفرادی طور پر پابندیوں کا شکار افراد کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے جوولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے اسکالر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ اجازت نامے کا یہ نیا اعلان بہت بڑا ہے لیکن یہ یوکرین کی خبروں میں دب گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تباہی کے دہانے پر موجود معیشت میں پابندیوں سے ٹکراؤ کے بغیر مزید لیکویڈیٹی داخل کرنے کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

گزشتہ ہفتے جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے عالمی برادری سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکنے اور افغانوں کو امن کے ساتھ رہنے کی اجازت دینے کی کوششوں کی حمایت میں پاکستان کی جانب سے مسلسل مطالبے کا اعادہ کیا۔

گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ بیجنگ کے بعد جاری ہونے والے پاک چین مشترکہ بیان میں بھی بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کیے جانے سمیت افغانستان کو مسلسل اور بہتر مدد اور معاونت فراہم کی جائے