عمران خان کی ترجیحات غلط ہیں: لیکن انہیں کون سمجھائے
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- اتوار 27 / فروری / 2022
- 5900
دُنیا اس وقت یوکرائن پہ روسی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کر رہی ہے۔ لیکن ہمارے وزیراعظم صاحب چھوٹی میز پہ گفتگو کرنے پہ خوشی پھولے نہیں سما رہے۔ اور اس کے دورس مضمرات کو جذبات کی نذر کیا جارہا ہے۔
راقم خود چین اور روس کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا حامی ہے. ذوالفقار علی بھٹو نے ساٹھ کے عشرے میں سرد جنگ کے عروج پہ امریکہ کے دورے میں امریکہ میں بیٹھ کے امریکہ کو چین سے تعلقات بہتر بنانے اور اس کی اہمیت پہ زور دیا تھا۔ پھر خود حکومت میں آکے چین اور روس دونوں سے تعلقات بہتر بنائے۔ چین سے شاہراہ ریشم بنائی۔ اور روس سے پاکستان کی سب سے بڑی سٹیل مل لی۔ اس دور میں پاکستان روس اور چین دونوں کے قریب آ گیا تھا۔ لیکن پھر ہم محب وطن ہوگئے اور ان تعلقات میں ایک تعطل آ گیا۔ یہ ایک الگ اور لمبی کہانی ہے۔
مشرف کے دور میں چین سے تعلقات بہتر بنانے پہ کچھ کام ہوا. لیکن سب سے پُرجوش کام زرداری نے کیا۔ اور سی پیک کے لئیے 19 دورے کئے۔ لیکن کوئی شور نہیں مچایا۔ ایران سے بھارت تک گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا۔ امریکہ نے بہت دباؤ ڈالا۔ لیکن زرداری نے کبھی میڈیا میں آکے ’ہرگرز نہیں‘ نہیں کہا۔ ملک میں ڈرون حملے بھی ہوتے تھے۔ دہشت گردی عروج پہ تھی۔ اور ان دونوں مسائل کے پیدا کرنے میں زرداری سے زیادہ مشرف کا رول تھا۔ لیکن چین سے تعلقات بنانے اور ایران گیس پائپ لائن کے معاملے میں اس نے امریکہ کے دباؤ کی پرواہ نہیں کی. لیکن ہم زرداری کو صرف ایک کرپٹ شخص کے طور پہ جانتے ہیں۔ لیکن حالت یہ ہے۔ کہ اس پہ کرپشن ثابت نہیں کر پائے ۔ بحیثیت صدر ان معاملات میں اس کا رول ملکی مفاد میں ڈپلومیٹک تھا۔ اور یقیناً فوج بھی اس کے ساتھ تھی۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم فیٹف کی گرے لسٹ پہ ہیں۔ اور فیٹف روس یا چین کے زیر اثر نہیں بلکہ امریکہ اور مغربی ممالک کے زیر اثر ہے۔ اسی طرح آئی ایم ایف ہے۔ ہماری معیشت مکمل طور پہ اس وقت آئی ایم ایف کے زیر اثر ہے۔ اور آئی ایم ایف پہ روس اور چین سے زیادہ مغرب کا غلبہ ہے۔
پاکستان کی تجارت کا زیادہ حصہ یورپی یونین کے ساتھ ہے۔ پاکستان کا اسلحہ ستر سے اسی فی صد امریکن ہے۔ جنرل حمید گل صاحب کے بقول پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں بنتے۔
پاکستان کی بیوروکریسی اور جوڈیشری میں امریکی نفوذ ہے۔ اس سب سے آزادی لینی ہے تو وہ براہ راست تصادم سے نہیں آئے گی. بلکہ اس کے لئیے تدبر، حکمت اور ایک بہتر منصوبہ بندی سے بنائی گئی پالیسی چاہئے جو جذبات کی بجائے دماغ سے بنائی گئی ہو۔
ہماری معیشت کی موجود صورت حال جذباتی خارجہ پالیسی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ خان صاحب صرف نمبر بنا رہے ہیں. اگر واقعی ملک کی سمت بدلنی ہے. تو اس کے معروف طریقے ہیں. ملک میں ایک سیاسی اتفاق پیدا کریں کہ ہمارا فائدہ کس میں ہے۔ ملکی سیاسی قیادت کو آن بورڈ کریں۔ لیکن اصل صورت حال یہ ہے۔کہ ملک میں آپ ہٹلر بنے ہوئے ہیں۔ وزراء کی دس دس گز لمبی زبانیں ہیں ۔ خان صاحب کی اپنی زبان 20 گز لمبی ہے۔ قوم کو ایک ہیجان اور جذبات میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ معیشت ترقی معکوس کی جانب جا رہی ہے۔ اور ٹکر امریکہ سے لینے کے دعوے ہیں ۔ روس کے اس اقدام کی ساری دُنیا مخالفت کر رہی ہے۔ کیا پاکستان ساری دُنیا کی مخالفت مول لے سکتا ہے؟
راقم ہمیشہ اس سوچ کا قائل رہا ہے ۔ کہ پاکستان کو علاقائی ممالک سے بہتر سے بہتر تعلقات رکھنے چاہئیں۔ کیونکہ ہمسایوں یا جغرافیائی طور پہ قریبی ممالک سے مخاصمت پیدا کر کے دور کے ممالک سے تعلقات بنانا سود مند نہیں ہوتا. یوکرائن اس کی مثال ہے۔ جس نے روس سے مسائل حل کرنے کی بجائے نیٹو کی طرف دیکھا۔ اور روس کو بھی بھڑکا دیا۔ اس لئے راقم روس، چین اور علاقے کی تمام اکائیوں کو یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں ترجیح دینے کا حامی ہے. لیکن یہ کام بتدریج اور کوئی محاذ کھولے بغیر ہونا چاہئے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے۔ جیسے آپ گیارہویں منزل سے زمینی منزل تک آنا چاہتے ہوں. تو سیڑھیوں یا لفٹ کی بجائے بالکونی سے چھلانگ لگا دیں. زمینی منزل تک تو آپ تینوں طریقوں سے پہنچ جائیں گے۔ لیکن محفوظ راستہ لفٹ یا سیڑھیوں کے ذریعے آنے کا ہی ہے۔ خان صاحب بالکونی سے چھلانگ لگانا چاہتے ہیں. جبکہ راقم کی رائے میں انہیں سیڑھیوں یا لفٹ کے ذریعے آنا چاہئے
ہمارے لئیے پہلی ترجیح مغربی طاقتوں کے زیراثر اداروں کے چنگل سے نکلنا ہونی چاہئے۔ یہ بہت حکمت اور تدبر والا کام ہے۔ نہ کہ جذباتیت والا۔ روس اور چین نے بہت ترقی کر لی ہے۔ طاقتور ہو گئے ہیں. لیکن ان کا عالمی اداروں پہ کتنا اثرورسوخ ہے؟ کیا یہ پاکستان کو بیل آؤٹ کروا سکتے ہیں؟ اقوام متحدہ میں مغربی طاقتیں جیسی قراردادیں چاہے منوا لیتی ہیں۔ لیکن دو دن پہلے سیکیورٹی کونسل میں روس نے خود ویٹو کیا۔ باقی ممالک اس کے خلاف بول رہے تھے۔ بھارت اور چین نے ملی جُلی باتیں کیں ۔آج سے چند سال بعد شاید ان کا اثرو رسوخ امریکہ سے بھی زیادہ ہو جائے لیکن اس وقت حقیقت یہی ہے۔ کہ تمام عالمی اداروں میں امریکہ اور مغرب کی زیادہ سُنی جاتی ہے۔ ہماری معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے۔ ہمیں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں معیشت نامی مریض کی جان بچانے کی فکر کرنی چاہئے، میراتھن دوڑنے کی نہیں۔ مریض بہتر ہو گیا تو میراتھن بھی دوڑ لے گا۔ اور اس مریض کا علاج فی الوقت روس اور چین کے پاس نہیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کے پاس ہے۔
خان صاحب کے دورے کی تیاریاں جنوری میں سرمائی اولمپکس سے جاری تھیں۔ دورے کی کوششیں جب شروع ہوئیں ۔ تو روس کی فوجیں یوکرائن کی سرحد پہ تھیں۔ ڈپلومیٹک کوششیں ہو رہی تھیں. کیا ان کوششوں کے نتائج تک انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا؟ لیکن چونکہ خان صاحب کی حکومت اس وقت خطرے سے دوچار ہے۔ انہیں نہیں یقین کہ وہ آئندہ چند ماہ بعد حکومت میں ہوں گے کہ نہیں. اس لئے وہ جلدی جلدی یہ دورہ کرکے یہ تاثر دینا چاہتے تھے. کہ خان بڑا بہادر ہے۔ امریکہ کی مخالفت کی تھی۔ اس لئے حکومت سے نکال دیاگیا۔ یہ اپنے مقامی مفادات کے لئے کیا گیا۔
Absolutely not
بھی اپنے ووٹروں سے واہ واہ کروانے کے لئے تھا. ورنہ ایک سٹیٹس مین کو یہ جواب دینا چاہئے تھا۔ کہ ملک میں پارلیمنٹ موجود ہے. ہم پارلیمنٹ کے سامنے سوال رکھیں گے. کہ اڈے دینے چاہئیں یا نہیں. بات ختم۔ یہ نہ ہاں تھی اور نہ نہ۔ نوازشریف نے بھی تو یمن کے سلسلے میں نہ ہی کی تھی نا۔ لیکن اس نے پارلیمنٹ سے فیصلہ کروایا۔ جسے دُنیا کا کوئی قانون غلط نہیں کہہ سکتا۔ کیا خان صاحب ایسا نہیں کر سکتے تھے؟ لیکن انہیں کون سمجھائے۔ وہ تو ہر چیز کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔