پیشگی شرائط کے بغیر روس اور یوکرین کے مذاکرات کا امکان
- سوموار 28 / فروری / 2022
- 3430
یوکرین کسی پیشگی شرط کے بغیر روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار ہوگیا ہے۔ خبروں کے مطابق روس بھی ہتھیار پھینکنے کی شرط سے دستبردار ہوگیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ نے کیف میں صدارتی دفتر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اب روس کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوگیا ۔یہ مذاکرات بیلاروس کی سرحد پر ہوں گے۔ یوکرینی صدر نے اپنا وفد بھیجنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
ابتدائی طور پر یوکرین اور روس کے نمائندے کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر ملاقات کریں گے جس کے بعد اعلیٰ سطح کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ یہ مذاکرات مشترکہ دوست ممالک کی کاوشوں سے ہو رہے ہیں۔قبل ازیں روسی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں ۔ روسی صدر نے یوکرین سے بات چیت کے لیے ایک وفد بھی پڑوسی ملک بیلاروس بھیجا تھا۔ لیکن یوکرین نے مشروط مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔
تاہم یوکرین کے صدر کا مؤقف تھا کہ امن کے لیے بات چیت ہونا چاہئے لیکن مذاکرات کا مقام بیلاروس نہیں بلکہ کوئی اور ملک ہو۔ انہوں نے استنبول کا نام بھی لیا تھا۔بیلاروس میں 2014 میں یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنہیں منسک معاہدہ کہا جاتا ہے تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
گزشتہ روز ہی یوکرین نے عالمی عدالت انصاف پر زور دیا تھا کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے۔ یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا ہے۔
جنگ کے دوسرے روز ہی امریکا نے یوکرین کے صدر کو بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچانے کی پیشکش کی تھی جسے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ مجھے لڑنے کے لیے اسلحہ چاہئے بھاگنے کے لیے سواری نہیں۔
روس کی فوجیں دارالحکومت کیف میں پارلیمنٹ سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوگئی ہیں جہاں یوکرین کی فوج سخت مزاحمت دکھا رہی ہے۔