روسی متروشکہ اور عالمی سیاست

نہ صرف فوری طور پر نئی صورتحال سے مطلع کرکے ان سے قیام اور پروگرام کے بارے میں استسفار کرنا چاہیے تھا یا پھر ان کے لوٹ جانے کے بعد ہی یوکرائن پر حملہ کرنا چاہیےتھا۔

ولادیمیر پوتین نے نہ صرف دنیا کو دھوکے میں رکھا کہ ان کا یوکرائن پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان کو بھی دھوکے سے روس کے دورے پر بلا کر ان کے اور پاکستان کے امیج کو دنیا بھر میں خراب کرنے کی مذموم کوشش کی۔ یوں ایک لحاظ سے افغانستان کے معاملے میں امریکہ اور مغربی ممالک کا ساتھ دینے کا بدلہ لیا ہے۔  پوتین کی یادداشت کتنی اچھی ہے اس کا اندازہ آپ ان کی حالیہ تقاریر سے بخوبی کرسکتے ہیں۔ بالکل سفید ہاتھی کی یادداشت کی طرح۔

چلیں ان سب باتوں کو چھوڑ کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ جرمنی اور فرانس سمیت تمام یورپ بلکہ افریقہ اور مشرق وسطی میں مقبول اور شہرت کے مالک ولادیمیر پوتین کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ وہ یوکرائن پر چڑھ دوڑے۔
آپ کو معلوم ہو گا کہ لیبیا اور شام کے معاملات کو روس نے اپنے ہاتھ میں لیا اور  پوتین نے خوش اسلوبی سے اور نہایت دوٹوک انداز میں طاقت کے بل بوتے پر حل کیا ہے۔ مرکزی افریقہ سے معاہدے کرکے روس کی پوزیشن بھی مستحکم کی۔ ان تمام معاملات کے اس طرح سے طے ہونے کے علاوہ کرائیما پر قبضے کے بعد پوتین کا یہ جملہ خاصا مشہور ہوا ہے۔ کہ: ’جو شخص پرانے سویت یونین کو فراموش کردے اس کے سینے میں دل نہیں اور جو اسے دوبار قائم کرنے کی سوچے وہ بے شعور ہے‘۔

مسٹر پوتین کے اس قول کے پس پردہ یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اصل میں وہ سویت یونین اور اس کے دنیا میں مقام کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ یہ بات بھی اسی طرح بالکل کھل کر نہیں کہہ سکتے جس طرح وہ متوقع جنگ کے بارے میں اعتراف نہیں کرسکتے تھے۔ ولادیمیر پوتین ہی اس سارے قضیے میں واحد وعدہ خلاف سیاست داں نہیں بلکہ کئی اور بھی ہیں۔ چلئے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں اور یوکرائن، روس اور یورپ و امریکہ کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ پوتین صاحب نے کئی بار یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ ان کے ملک روس کو بھی نیٹو کا رکن بنایا جائے۔ یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن جس کی بنیاد جنگ عظیم دوم سے تباہ حال یورپ میں سن انچاس میں رکھی گئی تھی اور روس کے مشرقی بلاک سے جدا مغربی یورپ کے ممالک کی ترجمان تنظیم تھی۔

نیٹو اصولی طور پر اتحادی فوج پر مشتمل ایسی طاقتور قوت ہے جو اپنے رکن ممالک پر حملے کی صورت میں فوجی عملی مدد کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔ اس کے ایک رکن ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ جب دنیا کا نقشہ بدلا اور سویت یونین سے ٹوٹ کر کئی ممالک آزاد ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرے تو یہ ایک طرح سے مشرقی بلاک کی ہار تھی۔ اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی یورپ کے ممالک نے نیٹو کو مشرقی یورپ میں پھیلانے کا عمل تیز کرکے اپنے بارہ بنیادی ارکان کے علاوہ  کئی نئے اتحادی بنا کر اپنی تعداد تیس کر لی۔ یوں یورپی یونین میں پولینڈ اور ہنگری وغیرہ شامل ہوکر نیٹو کے رکن بن گئے۔ اصولی طور پر ایسا کرنا درست نہ تھا چونکہ آہنی پردے کے اٹھنے اور دیوار برلن کے گرائے جانے کے معاہدے کے تحت کسی بھی سابقہ مشرقی بلاک کے ملک کو نیٹو کی رکنیت نہیں مل سکتی تھی۔ نئے نظام دنیا میں روس کی اہمیت کم تر ہوتی چلی گئی۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ نیٹو کی موجودگی کو غیر ضروری سمجھا جانے لگا۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے اخراجات اٹھانے پر تیار نہ تھے۔ اسی نئے نظام دنیا میں روس کو اپنی گیس اور دیگر معدنی ذخائر کی تجارت کا موقع بھی ملا اور جرمنی سمیت کئی ممالک کے ساتھ روس کے تجارتی معاہدے مضبوط تر ہوتے گئے۔ جرمنی کے ایک سابقہ چانسلر کے روس سے اس قدر دیرینہ تعلقات ہیں کہ سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے روسی کمپنی گیس پروم کےبورڈ آف ڈاریکٹر کے رکن کی حیثیت سے میں ملازمت قبول کرلی۔ اور جرمنی کو گیس کی فراہمی کے لیے ایک پائپ لائن نارتھ اسٹریم کے نام سے جنم لینے لگی۔ سابقہ چانسلر میرکل کے بھی روس سے گہرے روابط رہے ہیں۔ مسٹر پوتین جو کبھی روسی خفیہ ایجنسی کے اہم رکن رہے ہیں، بہترین جرمن زبان بولتے ہیں۔ روس کی نیٹو کی مشرقی یورپ میں پیش قدمی کی وجہ سے بڑھتی تشویش اور کئی جوابی کارروائی کے پیش نظر سن دوہزار پندرہ میں روس، جرمنی، فرانس اور بیلا روس کے مابین منسک معاہدے پر دستخط ہوئے۔ لیکن اس پر زیادہ دیر عمل ممکن نہ ہوسکا۔

روس نے نیٹو کے مشرقی یورپ کی جانب پھیلاؤ کو ہمیشہ ہی سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا مگر روس کی کمزوری کے پیش نظر مغربی ممالک اور اس حواریوں نے روس خدشات کو کبھی در خوراعتنا نہ سمجھا۔ جب کہ روس کے خدشات بے جا نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ روس پر فرانسیسی نپولین نے حملہ کرکے اسے تہہ وبالا کیا۔ اور وقت آنے پر جرمنی کے ہٹلر نے بھی روس پر چڑھائی سے گریز نہ کیا۔ یہ اور بات ہے کہ دونوں نے منہ کی کھائی اور ان کا انجام برا ہوا۔ روسی متروشکہ سے آپ سب ہی واقف ہیں۔ یہ ہلکی لکڑی سے بنی خوش نما رنگین گڑیا ہے۔ جس کے اوپری حصے کو کھولو تو اندر سے ایک اور گڑیا نکل آتی ہے۔ اور اسے کھولو تو ایک اور۔ یعنی اس کی پرتیں کھل جاتی ہیں اور دیکھنے والے کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اندر کچھ اور بھی ہے۔ ٹھیک متروشکہ کی طرح ہی روسی معاشرے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ مسٹر پوتین اور ان کے روس کو سمجھنے میں متروشکہ بہت مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک بھی دنیا پر روسی اور چینی اثرات کا نعم البدل ڈھونڈ رہے ہیں۔ چین کی معاشی قوت سے سب خائف ہیں۔ اور اس کا توڑ نظر آتا نہیں۔  جب کہ پوتین چین کو بھی ساتھ ملانے کے لیے کوشاں ہیں۔  قصہ مختصر روس جیسے بڑے اور طاقتور ملک کی یوکرائن جیسے  کمزور ملک پر چڑھائی اور لشکر کشی کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ کسی بھی بیان اور تحریر سے اس شرمناک حملے کی تائید نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن مغربی ممالک اور نیٹو کا کردار بھی کچھ کم داغدار نہیں۔ انہوں نے اپنے مشرقی کی جانب توسیع پسندانہ عزائم کے لیے یوکرائن کو ایک رسی سے بندھے میمنہ کے طور پر روسی عقاب کے حوالے کر دیا ہے۔

یورپ میں چند سامراجی حواری ملکوں نے طویل المدت جنگی صورتحال کو ایک بار پھر سے یورپ پر مسلط کرکے پرانی آہنی دیوار کی بنیاد کھودنےکی کوشش ضرور  کی ہے۔ بہت ممکن ہے یہ جنگ جلد ختم ہوجائے مگر اس سے یورپ اور روس کے تعلقات پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔