وزیراعظم کا پیٹرول 10 روپے سستا، بجلی 5 روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان

  • سوموار 28 / فروری / 2022
  • 2990

وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور بجلی کی قیمت فی یونٹ 5 روپے کم کی جائے گی اور اگلے بجٹ تک دونوں چیزوں کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو قوم سے خصوصی خطاب میں ملک کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حال ہی میں دو دورے کیے، ان میں سے ایک چین اور دوسرا روس کا تھا۔ دنیا میں تیزی سے صورت حال بدل رہی ہے اور اس کے پاکستان پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سے میں نے سیاست شروع کی تو میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہو، آزاد خارجہ پالیسی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قوم اپنے لوگوں کے فائدے کے لیے خارجہ پالیسی بنائے اور وہ پالیسی نہ بنائے جو کسی اور کے فائدے کا سبب بنے اور اپنے ملک کو نقصان پہنچا دے۔ ہم نے جب امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تو میں شروع سے کہتا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا، 9/11 میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، میں اس وقت سے کہتا تھا کہ ہمیں اس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے پہلے امریکا کی جنگ میں سوویت یونین کے خلاف شرکت کی اور جب 10سال کے بعد پھر شرکت کی تو پہلے وہ جہاد تھا لیکن جب امریکا افغانستان آیا تو اس نے اسے دہشت گردی کا نام دے دیا۔ میں اس پالیسی کے خلاف تھا کیونکہ یہ خارجہ پالیسی پاکستانیوں کے فائدے کے لیے نہیں بنائی گئی۔

ہمارے ملک میں 400 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے۔ جنرل مشرف کے دور میں صرف 10 ڈرون حملے کیے گئے لیکن جو دو جمہوری لیڈرز آصف زرداری اور نواز شریف آئے تو ان کے 10سال میں 400ڈرون حملے کیے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد خارجہ پالیسی ہوتی تو ان دونوں رہنماؤں کو امریکا کو کہنا چاہیے تھا کہ آپ کی بمباری سے ہمارے بچے، عورتیں اور بے قصور لوگ مررہے ہیں، تو کیا اس وقت دو جمہوری رہنماؤں کو اس پر کوئی اسٹینڈ نہیں لینا چاہیے تھا۔ اس پر ایک بیان تک نہیں دیا بلکہ امریکی صحافی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ آصف زرداری نے امریکی آرمی چیف سے کہا کہ ڈرون حملوں میں کولیٹرل نقصان سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس ملک میں آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں تو کبھی اس پارٹی کو ووٹ نہ دیں جس کے پیسے، دولت اور جائیداد پاکستان سے باہر پڑی ہے کیونکہ وہ کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنائیں گے۔ میں نے جتنے بھی دورے کیے جس میں دو چین کے اہم دورے تھے، اس میں ہمارے ملک کو بھی عزت ملی اور وقت ثابت کرے گا کہ ہم نے چین اور روس دونوں جگہ زبردست بات چیت کی۔

انہوں نے دورہ روس کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں روس اس لیے جانا تھا کیونکہ ہمیں 20لاکھ ٹن گندم روس سے امپورٹ کرنی ہے اور دوسری اہم چیز یہ ہے کہ روس دنیا کا وہ ملک ہے جس میں دنیا کی 30فیصد گیس ہے، تو پاکستان کی گیس میں کمی کے پیش نظر ہم نے ان سے گیس کے معاہدے کیے ہیں اور ہم ان سے گیس امپورٹ کریں گے۔ چین سے ہونے والے معاہدے خصوصاً سی پیک کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے بھی تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔

پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے حوالے سے شور مچا ہوا ہے کہ آزادی صحافت کے اوپر پابندی لگائی جا رہی ہے اور لوگوں کے منہ بند کیے جارہے ہیں لیکن میں سب کو بتادوں کہ پیکا قانون 2016 میں بنا تھا اور اس میں ہم صرف ترمیم کررہے ہیں۔ آج پاکستان کے اخبار اور میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں تو اس میں 70فیصد خبریں ہمارے خلاف ہیں لیکن ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ یہ قانون ہم اس لیے لے کر آئے تاکہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر آنے والے گند کو روکا جا سکے کیونکہ دنیا میں کسی بھی مہذب معاشرے میں اس طرح چیزیں نہیں آتیں جو ہمارے سوشل میڈیا پر آ رہی ہیں۔

خواتین کو نشانہ بنایا جا رہاہے جس سے لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں کیونکہ فیک نیوز سے گند اچھالا جا رہا ہے، ابھی تک ایف آئی اے میں رجسٹر 94ہزار مقدمات میں سے صرف 38 کا فیصلہ ہوا ہے۔ عام لوگوں کو تو چھوڑیں، وزیراعظم کو بھی نہیں بخشا جا رہا، ایک صحافی نے تین سال پہلے لکھا کہ عمران خان کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی اور عمران خان نے بنی گالا میں کوئی غیرقانونی کام کیا ہے۔ میں نے عدالت میں مقدمہ کیا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود وزیراعظم کو انصاف نہیں مل رہا۔

عمران خان نے کہا کہ وہی صحافی پھر لکھ رہا ہے کہ وزیراعظم کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔ اگر ملک کے وزیراعظم کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو سوچیں باقی لوگوں کا کیا ہو گا۔ اسی صحافی نے جب نواز شریف دور میں کرپشن پر لکھا تھا تو اسے تین دن بند کرکے ڈنڈے مارے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمارے وزیر کے خلاف ایک خاتون نے لکھا تو انہوں نے انگلینڈ میں جا کر انصاف لیا اور اب مراد سعید کے خلاف بات کی گئی ہے تو وہ بھی انگلینڈ میں جا کر مقدمہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شوکت خانم پر میڈیا ہاؤس جنگ گروپ نے لکھا کہ شوکت خانم کا پیسہ تحریک انصاف کو جا رہا ہے۔ اتنی بھی زحمت نہیں کی کہ کم از کم شوکت خانم سے پوچھ تو لیتے۔ حنیف عباسی نے بھی اسی طرح کا الزام لگایا تھا اور شوکت خانم ذیلی عدالتوں سے وہ مقدمہ جیت چکی ہے۔ اب شوکت خانم انگلینڈ میں جنگ گروپ پر مقدمہ کرنے جا رہا ہے۔

یہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا، آزادی صحافت کے نام پر مافیاز بیٹھ کر بلیک میلک کررہے ہیں۔ یہاں ایسے صحافی بیٹھے ہیں جو پیسے لے کر گند اچھال رہے ہیں اور بلیک میل کررہے ہیں، جس طرح کی غیرذمے دارانہ چیزیں یہاں آتی ہیں، کسی کی ہمت نہیں ہو سکتی کہ یہی جا کر آپ کسی اور جمہوریت میں کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے الیکشن جیتنے پر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو نامزد کیا تو تین مرکزی اخباروں کے صفحہ اول پر آتا ہے کہ جادو ٹونے سے ستارے دیکھ کر آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو منتخب کیا گیا۔ یہی چیز کہیں بھی انگلینڈ یا مغرب کے اخباروں میں کی جاتی تو ان پر اتنا بڑا ہرجانہ ہونا تھا کہ ان کے اخبار ہی بند ہو جاتے۔

وزیراعظم نے خطاب کے دوران 2018 میں حکومت میں آںے کے بعد درپیش معاشی صورتحال، گردشی قرضوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور کورونا کے دوران حکومت کی جانب سے عوام کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی احاطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں 30سال کے بعد سب سے زیادہ مہنگائی آئی، برطانیہ میں 1992 کے بعد سب سے زیادہ مہنگائی آئی جبکہ ترکی میں بھی 20سال بعد سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی۔ انہوں نے مہنگائی کے حوالے سے سابقہ حکومتوں کے دور کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں 13.9فیصد مہنگائی ہوئی۔ دو سال تک چلنے والی حکومت کے دوسرے دور میں 8.34فیصد مہنگائی ہوئی، تیسرے دور میں 11.6فیصد اور چوتھے دور میں 13.6 فیصد مہنگائی ہوئی۔

مسلم لیگ کے پہلے دور میں 10.08فیصد مہنگائی ہوئی، دوسرے دور میں 7.2فیصد اور تیسرے دور میں 5فیصد مہنگائی تھی حالانکہ ان کے تیسرے دور میں تیل کی قیمتیں سب سے کم تھیں جبکہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 8.3فیصد مہنگائی ہوئی۔

وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ عالمی سطح پر تیل اور دیگر مصنوات کی قیمتیں ایک دم اوپر گئی ہیں، وہ اب نیچے آنی شروع ہوجائیں گی لیکن یوکرین کے اندر جو رہا ہے اور جنگ ہورہی ہے تو اب مجھے خوف ہے اور ہم نے مشورہ بھی کیا کہ اب قیمتیں نیچے نہیں آئیں گی۔ جنگ ہوتی ہے تو تیل کی قیمت بھی اوپر ہوگی، پھر دنیا کی 30 فیصد گیس وہاں سے آتی ہے تو گیس کی قیمت بھی اوپر جائے گی۔

ہم نے روس سے کہا ہوا ہے کہ 20 لاکھ ٹن گندم چاہیے لیکن اب گندم کی قیمت بھی اوپر جائے گی۔ ہم نے ایک فیصلہ کیا کہ ملک میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پیٹرول اور ڈیزل کا ہے۔ ان کی قیمتیں اور اوپر گئیں تو لوگوں پر مزید بوجھ پڑے گا۔ پاکستان میں آج بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں، جب اپوزیشن کہتے ہیں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوگیا تو مجھے بتائیں کہ ان کے پاس اس کا کیا حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے، اب تیل اوپر چلا جائے گا تو ہم اس پر کیا کریں، اگر ان کے پاس کوئی حل ہے تو ہمیں بتادیں۔ کیونکہ اس وقت بھی پاکستان دنیا کے 190 ممالک میں سے 25 ویں نمبر پر ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل سب سے کم فروخت ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم ہر مہینے 70 ارب روپے کی سبسڈی دیتےہیں، اگر حکومت یہ سبسڈی نہ دے تو آج پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 220 روپے ہوگی۔ میرے پاس اوگرا کی سمری آئی۔ پیٹرول اور ڈیزل فی لیٹر 10 روپے بڑھانا پڑے گا، کیونکہ دنیا میں تیل مہنگا ہوچکا ہے۔ میں آج آپ کے سامنے آج بڑی خوش خبری سنانا چاہتا ہوں کہ بجائے 10 روپے بڑھانے کے ہم نے فیصلہ کیا ہے پیٹرول اور ڈیزل کو 10 روپے کم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بجلی 5 روپے فی یونٹ کم کر رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بجلی کے بل 20 فیصد سے 50 فیصد کم ہوں گے۔ ہم اس کے لیے بڑی محنت سے اور جگہ سے سبسڈی نکالی ہے کیونکہ لوگوں کو سب سے بڑا مسئلہ بجلی اور پیٹرول سے ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے بجٹ ان دو چیزوں میں کوئی اضافہ بھی نہیں کریں گے اور اس سے پہلے ہم نے کم بھی کردیا، 5 روپے بجلی جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کا پورے 20 روپے بنتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ہم 12 ہزار روپے دیتے تھے لیکن اس میں اب 14 ہزار روپے کردیا ہے۔ جن نوجوانوں نے بی اے کیا ہے اور ان کے پاس نوکری نہیں ہے تو ان کے لیے انٹرشپ دلانے کا فیصلہ کیا ہے اور گریجویٹ کو 30 ہزار روپے کی انٹرن شپ دلوائیں گے تاکہ ان کو پیسہ ملے۔