ملک سبزیاں،گندم کی برآمدات سے ترقی نہیں کرسکتا،صنعتکاری کو فروغ دینا ہوگا: وزیراعظم
- منگل 01 / مارچ / 2022
- 2880
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک صرف سبزیاں اور گندم کی برآمدات سے ترقی نہیں کرسکتا، ملک کی ترقی کے لیے ہمیں صنعتکاری کو فروغ دینا ہوگا۔
لاہور میں انڈسٹریل پیکج سے متعلق تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں ہمیشہ سونے سے قبل اپنا کھیلا ہوا میچ دیکھا کرتا تھا جب تک اپنی غلطیاں نہ دیکھ لوں میں سوتا نہیں تھا۔ میں حکومت میں آکر بھی یہی سوچتا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے تھا، مجھے سب سے بڑی چیز یہ کرنی چاہیے تھی کہ صنعتوں کو جو پیکج میں نے آج دیا ہے وہ حکومت کے آغاز میں دینا چاہیے تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی ملک سبزیاں اور گندم بیچ کر ترقی نہیں کر سکتا، ملک صنعتوں کی مدد سے آگے بڑھتے ہیں۔ آج سے 50 سال قبل ہمارا ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، لیکن 1973 کی جنگ کے بعد ملک کی ساری ترقی برباد ہوگئی کیونکہ ہماری حکومتوں کی سمت ملک سے مخالف تھی، دونوں بالکل مختلف سمت میں تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اوپن ایمنسٹی نہیں دینی چاہیے تھی، ہمیں اسے صنعتوں میں ڈائریکٹ کرنا چاہیے تھا جو اب ہم کر رہے ہیں، کیونکہ ہماری غیر رسمی (ان فارمل) معیشت بہت بڑی ہے، تو ہمیں اسے رسمی کرنا چاہیے تھا۔ معیشت کو رسمی کرنے سے ہماری صنعتی ترقی بھی ہوتی اور ملک میں پیسے بھی آتے ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے برآمدات پر کبھی توجہ ہی نہیں دی جس کی وجہ سے ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہوجاتی ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کی برآمدات نہیں بڑے گی تو ڈالر کی قیمت ہر روز بڑھتی جائے گی، جب معیشت ترقی کرتی تھی، ہمیں ڈالر کی کمی ہوتی تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑتا تھا، اس حوالے پاکستان کی کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں تھی۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ مجھے سب سے زیادہ ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے ان کے لیے مشکل قواعد بنائے ہوئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق ہماری حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی فیصلے کیے ہیں، اب ہم انہیں دعوت دے رہے ہیں کہ جب وہ پاکستان میں کام کریں گے تو انہیں 5 سال ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کا ہم پر اعتماد بحال ہوگا وہ پاکستان میں سرمایہ کریں گے اور پاکستان ترقی کرے گا، کیونکہ ان کے پاس سرمایہ بھی ہے اور صلاحیت بھی ہے۔ انہیں صرف اعتماد چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ہے۔ ہم نے چھوٹے اور درمیانے طبقے کی صنعتوں کو ترقی دینی ہے۔ انہیں مراعات دینی ہیں اور ہمارا سب سے بڑا اثاثہ یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے زیادہ سہولیات فراہم کرنی ہیں۔