40 میل طویل روسی فوجی قافلے کی کیف کو دھمکی، گولہ باری میں شدت

  • منگل 01 / مارچ / 2022
  • 2940

جنگ کے چھٹے دن روسی ٹینکوں اور دیگر گاڑیوں کے 40 میل طویل قافلے نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ روس نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر پر گولہ باری تیز کر دی۔

کریملن سخت عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہے جس کے باعث اس کی کرنسی گر رہی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ' اے پی' کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد لڑائی میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔ دونوں فریقین نے آنے والے دنوں میں ایک اور ملاقات پر اتفاق کیا، تاہم جنگ زدہ ملک یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گولہ باری میں تیزی انہیں جھکنے پر مجبور کرنے کے لیے کی جارہی ہے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا اپنے ایک ویڈیو خطاب میں کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ روس اس آسان طریقے سے (یوکرین پر) دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز ہونے والی بات چیت کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایسے وقت میں جھکنے یا کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ ایک فریق دوسرے کو توپوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ دشمن کے لیے کیف اہم ہدف ہے، ہم نے انہیں دارالحکومت کا دفاع توڑنے نہیں دیا اور وہ ہماری جانب ماحول کو خراب کرنے والے تخریب کار بھیجتے ہیں۔ ہم ان سب منفی ہتھکنڈوں کو بے اثر کر دیں گے۔ روس جو یوکرین میں اپنے اقدامات کو خصوصی آپریشن قرار دیتا ہے، وہ تیس لاکھ آبادی والے شہر کیف کو بجلی فراہم کرنے والے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے۔

حملے کے چھ روز گزرنے کے بعد روسی فوج کی نقل و حرکت زمین پر شدید مزاحمت اور فضائی حدود پر غلبہ حاصل کرنے میں حیران کن ناکامی کی وجہ سے رک گئی ہے جبکہ اس دوران بہت سے یوکرینی شہریوں نے پناہ گاہوں، تہہ خانوں یا راہداریوں میں ایک اور رات گزاری۔

یوکرینی حکام نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف پر روسی بمباری کی بھی اطلاع دی ہے جس میں درجنوں شہری مارے گئے، تاہم آزادانہ ذرائع سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق کرنا ممکن نہیں تھا۔ یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کا فیس بک پر کہنا تھا کہ راکٹ حملے اور پرامن شہروں پر ایم ایل آر ایس (متعدد لانچ راکٹ سسٹم) داغنا اس بات کا ثبوت ہیں کہ روس اب مسلح یوکرینی شہرویوں سے لڑنے کے قابل نہیں۔

روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا بندرگاہی شہر بردیانسک پر کنٹرول ہے جو بحر ازوف پر کریمیا کے شمال مغرب میں واقع ہے۔

روس اور اس کے جنوبی پڑوسی کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی اور مذاکرات کاروں نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کا آئندہ دور کب ہوگا۔

روسی صدر کے ایک اعلیٰ معاون اور روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد فریقین کے درمیان ہونے والی پہلی بات چیت کے دوران سفرا نے کچھ ایسے نکات تلاش کیے جن پر مشترکہ مؤقف کی توقع کی جاسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

یوکرین نے یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے درخواست دے کر مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے رابطہ کیا جو اس وقت ایک بڑی حد تک علامتی اقدام ہے۔ لیکن ایک ایسا اقدام جو روسی صدر کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا، جو طویل عرصے سے امریکا پر یوکرین کو ماسکو کے دائرہ اثر سے باہر نکالنے کی کوششوں کا الزام لگاتا رہا ہے۔

ولادیمیر پیوٹن کو بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا سامنا ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی یورپی ریاست پر سب سے بڑا حملہ کیا تھا، مغربی پابندیوں کے اثرات کی وجہ سے روسی کرنسی روبل کی قدر میں تقریباً 30 فیصد گراوٹ ہوئی۔

نیٹو کے اتحادی ملک ترکی نے ماسکو کو ایک اور دھچکا پہنچاتے ہوئے لڑنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے باسفورس اور ڈارڈینیلس، بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے الگ کرنے والے سمندری راستوں کے ذریعے جنگی جہاز گزرنے کی اجازت نہیں دے گا، ترکی کے اس اقدام سے روس کے بحری بیڑے کے لیے بحیرہ اسود کو بند کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن نے روس سے لڑنے کے لیے فوج بھیجنے یا یوکرین کی درخواست کے مطابق 'نو فلائی زون' نافذ کرنے کو مسترد کر دیا کیونکہ اس اقدام سے دنیا کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تاہم امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کیف کو فوجی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔