پیکا آرڈیننس اور آزادی اظہار؟
- تحریر افضال ریحان
- منگل 01 / مارچ / 2022
- 4030
ان دنوں ملک میں پروفیشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈی ننس پر بحث جاری ہے۔ وزیر قانون کا اصرار ہے کہ فیک نیوز روکنے کےلئے ایسی کاوش کرنے والے کو پانچ سال سزا ہوگی یہ جرم ناقابل ضمانت ہوگا اور اس میں بلاوارنٹ گرفتاری ممکن ہوگی۔
انہوں نے اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خاتون اول اور ان کے خاوند کے حوالے سے غلط خبر چلائی گئی کہ ان کے تعلقات خراب ہوگئے ہیں اور بیگم صاحبہ نے گھر چھوڑ دیا ہے۔ ایسی خبریں پڑوس میں بھی جاتی ہیں اور پھر ایک طرح سے ہیجان پیدا ہوتا ہے لہٰذا اس نوع کے ہیجان کو روکنے کے لئے سخت نوعیت کی یہ قانون سازی ضروری ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن، صحافتی برادری اور ہیومن رائٹس کے لئے کام کرنے والی شخصیات اور تنظیمیں اسے ڈریکونین قانون قرار دیتے ہوئے صف آرا ہیں۔ ان سب کا موقف ہے کہ حکومت وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان شخص کی تیسری بیگم صاحبہ کا بہانہ ڈال کر درحقیقت اپنے خلاف اٹھنے والی عوامی آوازوں کو دبانا یا بند کرنا چاہتی ہے۔
اس ظالمانہ قانون سازی کے ذریعے حکومت، اپوزیشن اور میڈیا کو ہی کچلنا نہیں چاہتی بلکہ شہریوں کے بنیادی انسانی حق کا بھی خاتمہ کرنے جا رہی ہے۔ یوں معاملہ عدالت پہنچ چکا ہے جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا استدلال ہے کہ آزادی اظہار بنیادی انسانی حق ہے جس پر کسی بھی بہانے سے پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ پیکا ڈریکونین قانون ہے جسے نیب سے بھی بدتر بنا دیا گیا ہے۔ عوامی نمائندوں کے لئے تو ہتک عزت کا قانون ہونا ہی نہیں چاہیے، دنیا ہتک عزت کے قانون کو فوجداری قانون سے نکال رہی ہے۔ زمباوے، کانگو اور یوگنڈا جیسے افریقی ممالک بھی ہتک عزت کے قانون کو فوجداری قانون سے نکال چکے ہیں۔ عدالت میں جو کیس آیا ہے وہ عدالت کے لئے شاکنگ ہے۔ یہاں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں، یہ لگ ہی نہیں رہا کہ ایک جمہوری ملک میں یہ سب ہو رہا ہے۔
یہ تشویشناک بات ہے کہ قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیاگیا ہے، عدالت کا فرض ہے کہ پارلیمینٹ کا احترام کرے۔ آپ نے آرڈیننس بنایا، سینٹ کو اسے منظور یا مسترد کرنے دیں، آرڈیننس کی اس لئے منظوری دی گئی کہ تینتیس سالوں سے یہ ملک آرڈیننسز پر چلتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا آرڈیننس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ملک نے بدترین آمریتوں میں بھی ایسی جابرانہ پابندی نہیں دیکھی ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس قانون کو غیر جمہوری طور پر حکومت مخالف اپوزیشن، صحافیوں اور تنقید کرنے والوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ صحافتی تنظیموں اور میڈیا اداروں نے تمام فورمز پر اس کے مقابلے کا عہد کیا ہے۔
کسی شخص ادارے یا ملک کے قد کاٹھ، مضبوطی یا بلندی کو پرکھنا ہو تو اس کا جائزہ تنقید برداشت کرنے کے حوصلے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جو ریاستیں آئین قانون اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کی خدمت پر کمربستہ ہوتی ہیں، پوری دنیا میں وہی احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہیں جہاں حریتِ فکر و آزادی اظہار کو دبایا جاتا ہے ایسی ریاستیں چاہے جتنا بھی اسلحہ جمع کرلیں اور جتنی مرضی بڑی افواج بنا کا عوامی وسائل ان پر برباد کردیں وہ فکری پسماندگی اور سماجی گھٹن کے باعث اندرسے اس قدر کمزور، کھوکھلی اور خوف زدہ ہو تی ہیں کہ نہ جانے کب ان کے اپنے عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور وہ دھڑام سے نیچے آ گریں۔
اس سلسلے میں سوویت یونین کی مثال بہت زیادہ دی جاتی ہے۔ درویش عرض کرتا ہے کہ اتنی دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ، ریاست پاکستان کی مثال ہی سامنے رکھ لی جائے جہاں آزادی اظہار کی بجائے ہمیشہ جبر کی حکمرانی رہی اور اس کا انجام یہ ہوا کہ یہ ریاست اپنے قیام کے بعد ربع صدی بھی نہ گزار پائی کہ دولخت ہوگئی۔ اگر اس دور کے اخباری تراشے ملاحظہ فرمائیں تو جھوٹی تعلی اور جبر کی کارفرمائی ہر صفحے پر دکھائی دے گی۔ اس جبری سوچ کے زیر اثر یہاں جمہوریت کبھی مضبوطی حاصل کرسکی نہ آئین اور قانون کی حکمرانی میسر آسکی۔ ہماری سوسائٹی میں عقیدے کے حوالے سے عدم برداشت کا یہ حال ہو چکا ہے کہ پہلے ہندو سے نفرت کی بنیاد پر ملک کو توڑا، اب چھیانوے فیصد مسلم آبادی کے باوجود کمزور ترین اقلیتوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ اتنی بھاری میجارٹی کے باوجود خوف کا یہ عالم ہے کہ آئین میں یہ امتیازی قانون لکھ کر پوری دنیا کے سامنے لگا رکھا ہے کہ یہاں کوئی غیر مسلم سربراہ مملکت نہیں بن سکتا۔
اسے سوائے خوف کے اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس کے بالمقابل ہماری ہمسائیگی میں اتنی بڑی انڈین ریاست ہے جس کی آبادی سوا ارب سے بھی زائد ہے۔ اتنی بڑی بڑی اقلیتیں وہاں آباد ہیں ہمارے جتنے مسلمان تو وہاں بھی رہ رہے ہیں مگر انڈیا یا اس کی قیادت کو ایسا خوف نہیں کہ اگر کوئی مسلمان ہندوستان کا صدر منتخب ہوگیا تو کونسی تباہی آ جائے گی۔ انڈیا کے کتنے صدور ہیں جو نامور مسلمان گزرے ہیں۔ انڈیا میں سکھ آبادی کا تناسب دو ڈھائی فیصد سے زیادہ نہیں، مگر ایک سکھ رہنما من موہن سنگھ برسوں انڈیا کا وزیراعظم رہا۔ وہاں طرح طرح کے مذاہب اور بھانت بھانت کی بولیاں ہیں، ایک ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس سوسائٹی ہے لیکن پوری دنیا میں اسے احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ نہ کبھی مارشل لا لگا ہے نہ کبھی آمرانہ سوچ رکھنے والوں نے آئین اور پارلیمینٹ کو چلتا کیا ہے۔ کیا کبھی کسی نے غور کیا اس کی وجہ کیا ہے؟
آج ہمارے حکمران مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کی مثالیں دیتے ہیں۔ مودی سرکار پر تنقید کرنی ہو تو کہا جاتا ہے کہ آج کا ہندوستان مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کا ہندوستان نہیں ہے حالانکہ جب وہ تھے تب بھی یہاں سے آمرانہ ذہنیت والے نفرت بھرے نعرے ہی بلند کرتے تھے۔ آج جس بی جے پی حکومت پر پست ترین الزامات عائد کئے جاتے ہیں، اس حکومت میں رہتے ہوۓ بھی کون سی تنقید ہے جو بھارت میں مودی سرکار یا اس کی قیادت پر نہیں کی جاتی۔ بھرے جلسوں میں وہ کچھ کہہ دیا جاتا ہے جس پر ہمارے تنگ نظر لوگ پھٹنے لگیں۔ امریکا میں نوم چومسکی جیسا دانشور عین چوراہے میں کھڑے ہو کر حکومت ہی نہیں خود ریاست پر جس آزادی کے ساتھ برستا ہے اور بے نقط سناتا ہے، ہمارے یہاں تو اس کا تصور ہی خوفزدہ کردینے والا ہے۔ لیکن مجال ہے جو کوئی اس شخص کا بال بھی بیکا کرسکے یا اسے ترچھی نظروں سے دیکھ سکے۔
سوچنے والی بات ہے کہ اس بے تکی اور اکثر و بیشتر بلاجواز تنقید کے باوجود کیا امریکا یا اس کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے۔ بلکہ یہی حریت فکر اور آزادی اظہار امریکی سماج اور ریاست کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ کیا یہاں اس درویش کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ پاکستانی ریاستی جبر تو رہا ایک طرف خاتون اول کی اب تک گزری زندگی پر ایک عدد تنقیدی کالم ہی لکھ سکے؟ اور دعوے ہیں کہ دنیا کی امامت و قیادت کے حقدار صرف ہمی ہیں۔ وزارت عظمی کے عہدے کو بے آبرو کرنے والے صاحب نے تو ان دنوں حد ہی کر دی ہے جو اٹھتے بیٹھتے گھناؤنے الزامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا لیکن اپنے گھر آنے والی تنقید پر پوری قوم کو رگڑ دینا چاہتا ہے۔