کالا دھن سفید کرنے والوں کیلئے ایک اور پیکج
- بدھ 02 / مارچ / 2022
- 2860
پاکستان کی ترقی کے لیے صنعت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ایک صنعتی 'ایمنسٹی' پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سرمایہ اپنا پیسہ صنعتوں میں لگاسکیں گے اور ان سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے یہ اعلان ایندھن اور بجلی کے نرخوں میں ڈرامائی کمی کے اعلان کے ایک روز بعد لاہور میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے شروع میں صنعت کاری بالخصوص برآمدتی صنعت پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن میں اب دیکھ رہا ہوں کہ ہم نے جو عام معافی دی، ہمیں کھلی عام معافی نہیں دینا چاہیے تھی، ہمیں اسے صنعت کی جانب لے جانا چاہیے تھا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ’انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2022 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترمیم کا آرڈیننس‘ کے عنوان سے صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کے لیے ارسال کردہ سمری کے مطابق پیکج سرمایہ کاروں کو مجموعی رقم پر 5 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں ذرائع آمدن نہ ظاہر کرنے کی چھوٹ دے گا۔
پیکج کے تحت سرمایہ کار نئی کمپنی بنا کر نئے صنعتی یونٹس قائم کرنے کا ذمہ دار ہو گا، اسی طرح کاروباری برادری بھی اپنی موجودہ صنعت کو متوازن یا جدید بنانے کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کیا اس نے اس اقدام پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ تفصیل سے بات اور اعلان کرنے سے پہلے ان کی منظوری حاصل کرلی ہے۔
صنعتی پیکیج کی ضرورت کا جواز اور آرڈیننس کے نفاذ کی وجہ بتاتے ہوئے سمری میں وضاحت کی گئی ہے کہ اکثر ٹیکس سسٹمز میں مختلف صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا عام ہے۔ ملک نے خصوصی اقتصادی، برآمدی پروسیسنگ اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے ذریعے صنعتی شعبے کو بھی ٹیکس مراعات فراہم کی ہیں۔