سیاسی دنگل کا فائنل راؤنڈ

ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں، بس اعلان ہونا باقی ہے۔ گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانے والی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔

 جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی مگر اب خان صاحب ’فائنل رائونڈ‘ کے لیے تیار ہیں۔ کئی آپشنز کے ساتھ۔ پنجاب کا دارالحکومت ’لاہور‘ جہاں ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلزپارٹی کا جنم ہوا، اس وقت آخری سیاسی معرکے کے لیے تیار ہیں اور چند دنوں میں ہی فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ دنگل کون جیتے گا؟ دو کیمپوں میں بٹی اپوزیشن اعتماد کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک پیش کرے گی اس امید کے ساتھ کہ وزیر اعظم عمران خان کو گھر بھیج دیا جائے گا یا پھر یہ آخری راؤنڈ بھی ہار کر الیکشن 2023 کا انتظار کرے گی اور بکھر جائے گی۔ دوسری طرف وزیر اعظم نے بظاہر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے عالمی مالیاتی ادارے ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔

 وہ ہر صورت اگلا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں ان کے کچھ مشیروں اور اسپیچ رائٹرز نے انہیں میڈیا سے تصادم کی راہ اپنانے کا غلط مشورہ دیاہے۔ وہ اگراس ماحول میں ’پیکا آرڈیننس۔2022‘ واپس لینے کو تیار نہیں بھی تھے تو جو باڈی لینگویج انہوں نے استعمال کی وہ ایک آمرانہ سوچ کی عکاس تھی۔ اس پر میں آئندہ ہفتہ تفصیل سے لکھوں گا کہ کیوں ہمارے ہر حکمران نے کالے قوانین کا سہارا لے کر آزاد صحافت کو ہتھکڑی پہنائی۔ وزیر اعظم کی تقریر سے پہلے ہی ان کے وزیر دفاع نے’پیپر لیک‘ کردیا۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ اس سے خان صاحب خوش ہوئے ہوں گے یا ناراض کیوں کہ وزیر خارجہ نے تو پھر بھی یہ سسپنس رکھا ہوا تھا کہ وزیر اعظم  بڑا اعلان  کریں گے۔ مگر یہ ایک ایسی تقریر تھی جس سے دونوں فریق اپنے لیے اور اپنے ووٹرز کے لیے مثبت پہلو نکال سکتے ہیں اور نکالا بھی جو وزیروں اور اپوزیشن کے رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہو رہاہے۔

ایک طرف عمران خان نے تقریباً 90روز کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں 10روپے اور بجلی کے نرخوں میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کی خوش خبری سنائی تو دوسری طرف خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ اب بظاہر امریکی بلاک سے نکل رہے ہیں۔ پاکستان کی 70 کے بعد سے غیرجانبدار خارجہ پالیسی نہیں آئی جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت غیرجانبدار تحریک کا حصہ بنی، سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدوں سے نکل آئے اور تیسری دنیا اور اسلامک بلاک بنانے کی کوشش کی۔ مگر وہ زمانہ اور تھا۔ بہرحال وزیر اعظم نے امریکی مخالف جذبات کو اپنی جانب کرنے کی کوشش کی ہے خاص طور پر خیبر پختونخواکی سیاست کے تناظر میں کیونکہ وہاں مولانا کی جے یو  آئی  کا  نیا جنم ہوا ہے۔

عمران خان کے پاس اب بھی کچھ آپشن باقی ہیں جو غالباً وہ فائنل راؤنڈ کے دوران استعمال کریں گے مگر پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے پاس لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی تحریک کے بعد معاملہ زیرو نظر آتا ہے۔ یہاں ناکامی کے بعد ان کے پاس واحد راستہ عام انتخابات کے وقت مقرر کا انتظار رہ جائے گا۔ شاید عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان قبل ازوقت کردیاگیا ویسے بھی اس کی کامیابی یا ناکامی خاصی حد تک اس ایک بڑے فیصلے سے مشروط نظر آتی ہے۔ اب یہی ہماری سیاست ہے۔ ایک سلیکٹڈ سے دوسرے سلیکٹڈ تک کا سفر۔

عمران خان نہ ائیرمارشل (ر) اصغر خان مرحوم ہیں اور نہ ہی پی ٹی آئی ماضی کی تحریک استقلال البتہ دونوں کی اٹھان ایک جیسی تھی۔ دونوں ہی اپنے وقت کے ’ہیرو‘ تھے۔ مگر خان صاحب نے اپنی جماعت کو چاروں ںصوبوں میں سیٹیں دلواکر قومی جماعت بنا ڈالاجبکہ ’غیبی امداد‘ نے ایوانِ اقتدار تک پہنچایا جس کے لیے انہیں مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم (پاکستان) اور بلوچستان عوامی پارٹی کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اب جب کہ وہ اسٹیٹس کو کی سیاست کر ہی رہے ہیں تو اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ اب ذرا دیکھیں چند نشستیں ہونے کے باوجود حکمران جماعت کے اتحادی خاص طور پر گجرات کے چوہدری سب سے زیادہ فائدے میں ہیں۔ ایم کیو ایم (پاکستان) کو اندازہ ہے کہ حکومت بلاوجہ چھوڑنے کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ ان کے سامنے تو 1989 کا تجربہ بھی ہے جب نادیدہ قوتوں کے کہنے پر پی پی پی کے اتحادی ہوتے ہوئے انہوں نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔

آخر اپوزیشن کو خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کو اس پورے کھیل سے فائدہ کیا ہوگا۔ عدم اعتماد کی ناکامی کے سیاسی نقصانات تو اپنی جگہ کامیابی کی صورت میں الیکشن تین ماہ بعد ہوں، چھ ماہ بعدیا ڈیڑھ سال بعد سیاسی و معاشی عدم استحکام اندرونی اور بیرونی تناظر میں مزید بڑھے گا اور یہ اگلی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہی کرے گا۔ ایسے میں عمران خان واقعی ایک خطرناک اپوزیشن ہوں گے۔ بہتر تو یہ تھا اور اب بھی ہے کہ حکومت اپنی میعاد پوری کرے۔ مئی یا جون میں بلدیاتی الیکشن ہوں، دسمبر میں مردم شماری اور 2023 کے بجٹ سے پہلے یا بعد میں عبوری سیٹ اپ۔ البتہ اس بار سندھ میں مردم شماری اور پھر حلقہ بندیوں پر بڑا تنازع کھڑے ہونے کا امکان ہے جو لسانی رنگ بھی لے سکتا ہے۔ اکتوبر 2021 کے بعد سے پیدا ہونے والی صورت حال اب تک مکمل طور پر سنبھل نہیں پائی مگر اطلاع یہی ہے کہ وزیر اعظم نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ سیاسی دنگل کے فائنل راؤنڈ میں اتر چکے ہیں۔

پاکستان میں 2023 میں جمہوریت کے تسلسل کو 15سال مکمل ہوجائیں گے۔ اس دوران تین الیکشن بھی ہوئے اور پرامن انتقالِ اقتدار بھی۔ اگر اس بار ایسا نہیں ہوتا تو نقصان جمہوری اقدار کو ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان پہلے وزیر اعظم بنیں گے جو اپنی میعاد پوری کریں گے یا وہ پہلے حکمران ہوں گے جو عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹائے جائیں گے؟ فائنل راؤنڈ ابھی ختم نہیں ہوا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : مظہر عباس

???? ???? ????? ??? ????? ??? ???? ???? ???? ?? ??????? ??? ????? ?? ????? ????? ???? ???? ????????? ??? ??? ???? ?????? ??? ??? ???? ?????? ???? ?? ??? ?? ???? ????? ????