سانحہ 12 مئی پر معافی مانگتے ہیں: خالد مقبول صدیقی

  • جمعرات 03 / مارچ / 2022
  • 3370

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سانحہ 12 مئی پر معافی مانگی چاہیے۔ میں معافی مانگتا ہوں، اس دن پیش آنے والے واقعات کا داغ ایم کیو ایم پر بھی لگا جس پر ہم شرمسار ہیں۔

سانحہ 8 اگست میں شہید ہونے والے وکلا کے لیے فاتحہ خوانی کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ بار میں وکلا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کا معاملہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا سانحہ 8 اگست میں 56 وکلا شہیداور 100 کےقریب زخمی ہوئے۔ کچھ مسائل پر مل کر قومی جدوجہد کی ضرورت ہے اور ایسا معاشرہ بنانے کی ضرورت جس میں قانون کی بالادستی ہو۔

ا کسی جمہوری اور اسلامی معاشرے میں لاپتا کرنے والے نہیں ہوتے۔ بلوچستان والوں کے اور ہمارے دکھ درد ایک ہیں، ہمیں وکلا کی سربراہی میں ایک قومی جدوجہد کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایوانوں میں قانون سازی کے لیے بلوچستان کے وکلا ہماری مدد کریں، آئیں ہم موروثی سیاست کےخلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ایسی پارلیمنٹ کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے جہاں وکلا کی نمائندگی وکلا، کسان کی نمائندگی کسان کریں۔ ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ کسان ہے اور کسانوں کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

 کوئٹہ میں کسانوں کو تباہ کرنے والے جاگیردار آج پارلیمنٹ میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئٹہ اور بلوچستان کا نوجوان پاکستان کے ہر نوجوان کے شانہ بشانہ ہو۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب تک پاکستان کے ہر شہری کو وفادار نہیں سمجھا جائے گا تب تک ملک ترقی نہیں کرے گا۔ ایم کیو ایم پر الزام ہے کہ ہم لسانی سیاست کا حصہ ہیں جبکہ پاکستان میں کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جس کا تعلق لسانی سیاست سے نہ ہو، ہم قیام پاکستان کے وقت عالمی معاہدے کےتحت پاکستان آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی امتیازی سلوک کا سامنا رہا اور اسی سلوک کے سبب طلبہ تنظیم بنائی جس نے ایک تاریخ رقم کی، ایم کیو ایم مخصوص حالات کی پیداوار ہے۔ کراچی میں پہلی بار جو غلط فہمی پیدا کی گئی وہ بشریٰ زیدی کے وقت میں پیدا کی گئی جب شہر میں ایک طالبہ کا ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا تھا۔

خالد مقبول صدیقی نے تسلیم کیا کہ ایم کیو ایم تھوڑی کمزور ہوگئی ہے لیکن انشااللہ ہم نوجوانوں کی نئی کھیپ تیار کریں گے۔

سانحہ 12 مئی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس واقعے پر ایم کیو ایم پر داغ لگا ہے اور ہم اس پر معافی مانگتے ہیں،یہ معافی غلط اندازہ لگانے کی ہے، ہم شرم سار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پرویز مشرف کا ساتھ دینے پر معافی مانگتے ہیں، پشتونوں کے خلاف آفاق احمد کے بیان کی ایم کیو ایم نے اسی وقت مذمت کی تھی۔ کراچی تو اب پشتونوں کے ہاتھ کی چائے کا عادی ہے، پشتون کراچی کا سرمایہ ہیں۔