روس نے یوکرین کے شہر خرسون پر قبضہ کرلیا

  • جمعرات 03 / مارچ / 2022
  • 3620

روسی فوجیوں نے ایک ہفتے کی تباہ کن جنگ کے بعد یوکرینی شہر خرسون پر قبضہ کر لیا ہے۔  جنگ سے  دس لاکھ لوگ پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق 2 لاکھ 90 ہزار افراد پر مشتمل بحیرہ اسود کے اس شہر نے گزشتہ سال نیٹو کے تعاون سے جنگی کھیلوں کی میزبانی کی تھی۔ اس پر قبضہ ماسکو کے لیے ایک نمایاں کامیابی ہے۔

یوکرین کے علاقائی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ روسی قابض خرسون شہر کے تمام حصوں میں موجود ہیں۔ خرسون میں تین روز سے جاری محاصرے کے بعد خوراک اور ادویات کی کمی تھی اور لاشوں کو جمع کرنے اور دفن کرنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ شہر کے میئر نے بتایا تھا کہ وہ مسلح مہمانوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایک فیس بک پیغام میں شہر کے میئر کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملہ آور قوتوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن رات کے وقت کرفیو اور گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندیوں سے اتفاق کیا ہے۔ اب تک سب ٹھیک ہے، ہمارے اوپر جو جھنڈا لہرا رہا ہے وہ یوکرین کا ہے۔ اور اسی طرح رہنے کے لیے ان تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

روس نے جنوبی محاذ پر اہم پیش رفت جاری رکھی ہوئی ہے۔ فوجوں کے خرسون میں داخل ہونے کے ساتھ مغرب اور شمال کا راستہ کھول رہا ہے اور اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل اہم بندرگاہ شہر ماریوپول کا محاصرہ کر رہا ہے۔

جنگ کے دوران روسی افواج نے ملک بھر میں شہری اہداف پر وقفے وقفے سے بمباری کی ہے۔ دارالحکومت کیف اور اکثریتی روسی بولنے والے  شہر خارکیف میں اب مزید شدید حملے کئے جارہے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے میزائلوں، گولوں اور راکٹوں کے بہاؤ کو جنگی جرم قرار دیا ہے اور عالمی فوجداری عدالت نے تصدیق کی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کی ایجنسی کے مطابق  اب تک دس لاکھ یوکرینی شہری پڑوسی ممالک پولینڈ، سلوواکیہ، ہنگری، رومانیہ اور مالڈووا بھاگ چکے ہیں۔ ایک پناہ گزین یوکرینی شہری کا صورتحال پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جب روسی فوجی آئے تو ہم نے سب کچھ وہیں چھوڑ دیا، انہوں نے ہماری زندگیاں برباد کر دیں

روسی صدر کے طویل حملے کو اکثر ناقص لاجسٹکس، حکمت عملی کی غلطیوں اور یوکرین کی کم طاقت اور کم ہتھیاروں والی فوج کی جانب سے شدید مزاحمت اور رضا کار جنگجوؤں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث نقصان پہنچا ہے۔ جلے ہوئے روسی ٹینکوں اور مرے ہوئے فوجیوں کی متعدد تصاویر سامنے آئی ہیں۔

ایک سینیئر امریکی دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ کیف کے شمال میں روسی فوجی گاڑیوں کا ایک بڑا قافلہ ایندھن اور خوراک کی کمی کی وجہ سے ایک جگہ جام ہو گیا تھا۔ روسی حکام نے حملے سے متعلق خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ لیکن وزارت دفاع نے گزشتہ روز پہلی بار تسلیم کیا کہ اس کے 498 فوجی ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔

خطرات اور پابندیوں کے باوجود روسی شہریوں نے جنگ کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جنگ مخالف مظاہرے کیے ہیں۔ ماسکو اور سینٹ پیٹربرگ سمیت ملک بھر سے ہزاروں جنگ مخالف مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے روس کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کرتے ہوئے ماسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یوکرین سے نکل جائے۔ واشنگٹن میں امریکی وزیرخارجہ  نے خبردار کرتے ہوئے روس پر الزام لگایا کہ وہ ایسے مقامات پر حملہ کر رہا ہے جو فوجی اہداف نہیں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ وہ اگلے ہفتے یوکرین کی حمایت اور جنگ بندی کے خاتمے کی کوششوں کے لیے مشرقی یورپ کا سفر کریں گے۔

مغربی ممالک پہلے ہی روس کی معیشت پر بھاری پابندیاں عائد کر چکے ہیں اور فنانس سے لے کر ٹیکنالوجیز، کھیلوں سے لے کر جمالیات تک ہر شعبے میں روس کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کی جاچکیں اور اس کا بائیکاٹ کیا جا چکا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو کے ارکان یوکرین کو اسلحہ اور گولہ بارود بھیج چکے ہیں البتہ فوج نہ بھیجنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔