ہم کتنے بیدار، باشعور اور منظم ہیں؟
یوکرین پر روسی حملے کو ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں کہ امریکہ اور یورپ نے اپنے دانشوروں کو دنیا بھر کی حمایت کے لیے متحرک کر دیا ہے۔
کشمیریوں ، فلسطینیوں، بھارتی مسلمانوں، افغانیوں مشرق وسطی اور جنوبی و شمالی افریقی عوام سے زیادہ یوکرینی عوام کا درد کون سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ ہم سب بیرونی حملوں اور جابر و ظالم قوتوں کا شکار ہو چکے ہیں اور ہم میں سے کچھ اب بھی ظلم کی اس چکی میں پس رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم کئی دہائیوں سے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور اپنے ایشوز کو وہ عالمی حیثیت نہیں دلوا سکے جو مغرب نے یوکرین ایشو پر ایک ہفتے میں اپنے موقف کو دلائی ہے۔ میں وقتاً فوقتاً کشمیر کے معاملہ پر قومی اور عالمی اداروں کو لکھتا رہتا ہوں مگر چند ایک اداروں اور شخصیات کے علاوہ کبھی کسی نے اس مسئلہ پر زبان نہیں کھولی۔ جبکہ امریکہ اور یورپ کے دانشوروں پر مشتمل مہم کے یوکرین کے سوال پر مسلسل خطوط آ رہے ہیں۔ ہمارے اپنے مسئلہ کشمیر پر کبھی کسی نے اتنی اہمیت نہیں دی لیکن یوکرین پر مغربی دانشوروں کی ایک ٹیم مجھے لکھتی ہے کہ "تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اپنے ساتھی کا انتخاب کرو۔" فیصلہ کرو امریکہ کا ساتھ دینا ہے یا روس کا۔
ہمارے بے شمار لوگ یوکرین جنگ جو حقیقت میں امریکہ اور روس کی جنگ ہے اس میں بڑے سرگرم نظر آتے ہیں۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ماضی میں بڑی طاقتوں کی جنگوں کا حصہ بن کر ہم نے اپنا کتنا نقصان کیا ہے۔ ہمارے جائز ایشو اور حق کو ہمیشہ بڑی طاقتوں نے اپنے اقتصادی مفادات پر قربان کیا اور کبھی بھی ہماری جائز مدد نہیں کی۔ لیکن ہمارے کچھ لوگوں کو کوئی تھوڑی سے اہمیت دے تو وہ سب کچھ بھول کر دوسروں کے جھگڑوں میں کود پڑتے ہیں۔
جموں کشمیر اور فلسطین جیسے عالمی تنازعات پر جو مغربی دانشور ہمارے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اس پر ان کی حکومتیں کوئی توجہ نہیں دیتیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کے ایک عالمی دانشور نوم چومسکی اور پولینڈ کے پروفیسر پی اوتر نے کشمیر اور فلسطین پر کئی بار مغرب کو منصفانہ موقف اپنانے کا مشورہ دیا مگر مغرب کی پالیسی اس کے مالی مفادات ہی کے تابع رہی۔ امریکی پروفیسر نوم چومسکی نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی ضد نہ کرے کیونکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ چومسکی نے سوال کیا کہ فرض کریں روس ہمارے خطے میں کیوبا اور مکسیکو میں اپنی فوجیں لانا چاہے تو ہمارا کیا رد عمل ہو گا؟
پروفیسر پی اوتر بھارت میں کنٹریکٹ پر یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے لیکن حق سچ اور انصاف پر واضع موقف رکھنے کی وجہ سے وہ بھارت اور پاکستان دونوں کی کشمیر پالیسی پر خاموش نہیں رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیر بیانیہ کی حمایت کرنے والے غیر ملکیوں کو بھارت اور پاکستان میں کوریج نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے عوام اپنے اس طرح کے حامیوں سے بے خبر ہیں۔ نوم چومسکی اور پروفیسر پی اوتر یوکرینی عوام کے ساتھ بھی بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک لنک بھیجا ہے جس میں یوکرین کی تاریخی یادگاروں اور چرچوں پر گولہ باری کی تفصیل ہے۔
ہم مغرب کی کسی پالیسی کی حمایت کریں یا نہ کریں لیکن اس کی موثر سیاسی، سفارتی اور علمی مہم کی تعریف کرنی پڑے گی جس نے ایک ہفتے میں ہی منظم ہو کر یورپ بھر کے دانشوروں کو حرکت میں لا کر دنیا کو ہمنوا بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہم اتنے غیر منظم اور غیر متحد ہیں کہ ہمارے پاس عالمی سطح پر تو دور کی بات ہے مقامی سطح پر بھی اپنے موقف کی حمایت کے لیے کوئی موثر ٹیم نہیں۔ ہم صرف مظاہروں میں لوگوں کو مصروف رکھتے ہیں۔ ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی آزادی پسند ہو یا اقتدار پسند، ہم اپنی ٹیم میں صرف ایسے نا اہل لوگ پسند کرتے ہیں جو خوشامند اور چاپلوسی میں تو ماہر ہوتے ہیں لیکن قومی اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے۔
زہن سازی اور فکری لام بندی میں تعلیمی اداروں، میڈیا اور دیگر ریاستی اداروں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں ان سب کو ملازم قرار دے کر ان کی زبان بند کر دی جاتی ہے ۔ اور ہم سوچتے ہیں کہ ہم بے روزگار لوگوں کو ساتھ رکھ کر دشمن کو شکست دے دیں گے۔ پیش رفت کے لیے ایک مؤثر تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے اور تنظیم کی مضبوطی کا دارومدار با صلاحیت، تجربہ کار اور باعمل کارکنوں پر ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے انداز فکر اور طرز عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔