اب انہیں کوئی اور گیم سوچنا ہو گی
- تحریر نصرت جاوید
- جمعرات 03 / مارچ / 2022
- 4150
اپنے لکھے کالموں کا ریکارڈ رکھنے اور ان کے حوالے دینے کی مجھے عادت نہیں۔ دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ اخبار کے لئے لکھی تحریر عموماً ڈنگ ٹپاؤ ہوتی ہے۔ اسے رات گئی بات گئی کی صورت ہی لینا چاہیے۔
اس اعتراف کے باوجود یاد آ رہا ہے کہ طویل مدت کے بعد چند روز قبل جب نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف ماضی کی تلخیاں بھلا کر گجرات کے چودھریوں کے لاہور والے گھر گئے تو میں نے ان کے پھیرے کو کار زیاں قرار دیا تھا۔ روانی میں غالباً یہ بھی لکھ دیا کہ چودھریوں کے ہاں حاضری سے شہباز شریف صاحب اپنی ذات اور جماعت کے لئے محض شرمساری ہی حاصل کریں گے۔ منگل کے دن میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔
انا پرستی کے خول میں محصور ہوئے عمران خان صاحب مختصر دورہ لاہور کے دوران چودھریوں کے ہاں بھی چلے گئے۔ فریقین کے درمیان تعلقات میں اس ملاقات کی بدولت غلط فہمیوں کے مناسب ازالہ کا بندوبست ہو گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کو اس کے بعد وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی گوٹ چلانے سے قبل سو بار سوچنا ہو گا۔ بارہا اس کالم میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد والے منصوبے کو ناقابل عمل ٹھہرانے کے لئے چند سوالات اٹھاتا رہا ہوں۔ اپوزیشن کے تین سرکردہ رہ نما تنہائی میں ہوئی ملاقاتوں کے دوران بھی ان سوالات کے تسلی بخش جواب فراہم نہ کر پائے۔ لاہور میں آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی آنیاں جانیاں اگرچہ جاری رہیں۔ ہمیں یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش ہوئی کہ مذکورہ اصحاب نے جو سیاسی چالوں کے مہا کلاکار تصور ہوتے ہیں نہایت راز داری سے ایٹم بم بنانے جیسا کوئی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
عمران خان صاحب اس منصوبے کے بروئے کار آنے کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر برقرار نہیں رہ پائیں گے۔ سیاسی عمل کا سنجیدگی اور اپنی خواہشات کو نظرانداز کرتے ہوئے مشاہدہ کریں تو آپ کے ذہن میں جمع ہوئے سوالات کا علم ریاضی جیسا ٹھوس جواب مل جاتا ہے۔ عمران خان صاحب قومی اسمبلی میں جس گنتی کی بنیاد پر گزشتہ تین برس سے برسراقتدار ہیں وہ یقیناً بہت کمزور ہے۔ اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے انہیں اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔ ان جماعتوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ خودمختار فیصلہ سازی کی سکت سے محروم ہیں۔ ہمیشہ ریاست کے دائمی اداروں سے رہ نمائی کے طلب گار رہتے ہیں۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اندر کی خبر رکھنے کے دعوے دار کئی صحافیوں نے گزشتہ برس کے اکتوبر سے یہ تاثر پھیلانا شروع کر دیا کہ اتحادیوں کی ڈور ہلانے والے اب نیوٹرل ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان صاحب کو بآسانی گھر بھیج سکتی ہیں۔
نیوٹرل ہو جانے کی بابت مچائے شور سے اکتا کر میں 1989 کا برس یاد کرنے کو مجبور ہوا۔ ان دنوں کے بااختیار صدر غلام اسحاق خان محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت سے اکتا چکے تھے۔ آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بھرپور وسائل اس ضمن میں ہر نوع کی معاونت کو میسر تھے۔ آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کا رویہ بھی حکومت وقت کے ساتھ مخاصمانہ تھا۔ صدر اور ریاستی اداروں کے کامل تعاون کے باوجود محترمہ کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو ان کی حکومت اپنے خلاف مجتمع ہوئی اپوزیشن میں سے چار اراکین اسمبلی کو اپنی حمایت میں اچک کر مذکورہ تحریک ناکام بنانے میں کامیاب ہو گئی۔
1989 کے برعکس عمران خان صاحب بطور وزیر اعظم ان دنوں کہیں زیادہ تگڑے ہیں۔ وفاق کے علاوہ ان کی جماعت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی برسراقتدار ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انگریزی محاورے والی گاجر دکھانے یا ڈنڈا اٹھانے کی بے پناہ قوت بھی میسر ہے۔ ایسے حالات میں ”نیوٹرل“ ہو جانے کا تاثر بھی عمران خان صاحب ہی کے کام آئے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کو تحریک عدم اعتماد کے دوران اپنے بندے پورے کرنے کے لئے ویسی ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو مینڈکوں کو ترازو کے ایک پاٹ میں جمع کرتے ہوئے رونما ہوتی ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کے عنوان سے ہوئی آنیوں جانیوں نے اگرچہ عمران حکومت کو گھبرانے پر یقیناً مجبور کر دیا ہے۔ پیر کی شام وزیر اعظم صاحب کا قوم سے خطاب گھبراہٹ کا واضح اظہار تھا۔ گھبراہٹ ہی نے انہیں منگل کے دن چودھریوں کے گھر جانے کو مجبور کیا۔ گھبراہٹ کا یہ اظہار تاہم یہ سوال اٹھانے کو بھی مجبور کر رہا ہے کہ اپنے تئیں عمران خان صاحب کو کمزور کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں درحقیقت توانا کسے بنا رہی ہیں۔ اس سوال کا جواب تلاش کریں تو واضح جواب یہ ابھرتا ہے کہ عددی اعتبار سے قومی اور پنجاب اسمبلی میں کمزور تر ہونے کے باوجود چودھری برادران کمال مہارت سے خود کو حتمی بادشاہ گر ثابت کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کو اس کی وجہ سے کافی زک پہنچی ہے۔
تحریک عدم اعتماد کے نام پر مچائی ہلچل میں شامل ہوتے ہوئے مذکورہ جماعت ”ووٹ کو عزت دو“ والے بیانیے کو تج محلاتی سازشوں کا حصہ بنی نظر آئی۔ ”عطار کے انہیں لڑکوں“ سے شفایابی کی طلب گار ہوئی جن سے گریز کی بڑھکیں لگائی جا رہی تھیں۔ چودھریوں کے ہاں منت سماجت کے لئے حاضری دیتے ہوئے شہباز شریف صاحب اس ٹھوس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ چودھری پرویز الٰہی ان دنوں پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں۔ ان کے فرزند مونس الٰہی کو بھی وفاق میں ایک تگڑی وزارت دے دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ چودھریوں کے ایک دیرینہ رفیق طارق بشیر چیمہ صاحب پہلے ہی سے ہاؤسنگ کی وزارت سنبھالے ہوئے ہیں۔ چودھریوں کی مسلم لیگ سے وابستہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ترقیاتی فنڈز وافر مقدار میں میسر ہیں۔ تھانہ کچہری کے معاملات سنبھالنے کے لئے ان کے حلقوں کی انتظامیہ بھی ہمیشہ فدویانہ جی حضوری دکھاتی ہے۔ ایسے حالات میں چودھری پرویز الٰہی اور ان کے ساتھی عمران حکومت کو گھر بھیجنے کو کیوں آمادہ ہوں؟
خاص طور پر اس تناظر میں جہاں مسلم لیگ (نون) عمران خان صاحب کی فراغت کے بعد فوری انتخاب کی متقاضی ہے۔ مذکورہ وجوہات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے چودھریوں کو گھیرنے کے لئے عثمان بزدار کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی بات چلائی گئی۔ پرویز الٰہی ان کی جگہ وزیر اعلیٰ ہوسکتے تھے۔ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد مگر وہ نئے انتخابات کے بجائے اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری کرنے کے خواہاں ہوں گے۔ پنجاب کے ایک برس سے زیادہ عرصہ تک وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے پرویز الٰہی اپنی جماعت کو مضبوط تر بنا سکتے ہیں۔
ان دنوں مسلم لیگ (نون) سے وابستہ کئی اراکین پنجاب اسمبلی بھی ان کے دسترخوان، کھلے گھر اور سرپرستی کی بدولت خودمختار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ پنجاب میں 1993 سے 1996 کے دوران میاں منظور وٹو کی وزارت اعلیٰ کے ہاتھوں ایسا ہی معاملہ ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو اس کی وجہ سے جو دھچکا لگا نواز شریف کی جماعت نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
بعد ازاں مذکورہ ووٹ بینک کا کماحقہ حصہ عمران خان صاحب کی عقیدت میں مبتلا ہو گیا۔ شہباز شریف مگر ایسے انجام کی جانب آنکھ بند کیے بڑھنے کو آمادہ ہو گئے۔ اب انہیں کوئی اور گیم سوچنا ہوگی۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)