تحریک عدم اعتماد یا عمران خان کو مضبوط کرنے کا طریقہ
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 04 / مارچ / 2022
- 13440
گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی چوہدری شجاعت حسین کے گھر آمد کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان اپنی انا اور گھمنڈ کے بلند تخت سے اتر کر ایک ایسے حلیف کے گھر گئے جو عام تجزیوں کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے معاملہ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ حکمران پارٹی اور اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ایک غیر واضح سیاسی سرکس کو دلچسپ بنانے کے لئے ایک ایسی پارٹی کو نمایاں کررہی ہیں جس کو قومی اسمبلی میں محض 7 نشستیں حاصل ہیں اور جس کی سیاست محض اسٹبلشمنٹ کے اشاروں کے گرد گھومتی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ اس وقت ’نیوٹرل‘ ہوچکی ہے یعنی سیاست دان جو بھی سیاسی داؤ پیچ کھیلیں راولپنڈی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اسی تاثر کو عام کرنے کے بعد ملک میں تحریک عدم اعتماد لانے اور عمران خان کو بہر صورت وزارت عظمی سے دست بردار ہونے پر مجبور کرنے کے لئے گٹھ جوڑ شروع ہؤا تھا۔ اس وقت سیاسی منظر نامہ پر جو سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں ، ان سے یہی تصویر نمایاں ہوتی ہے کہ ’متحدہ‘ اپوزیشن عمران خان کو گھر بھیجنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف اور عمران خان کسی بھی قیمت پر اپنی حکومت بچانے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔ اسی لئے چوہدری شجاعت حسین جیسے مہروں کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا کسی حکومت کو فارغ کرنا اور وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا ہی مسائل کا حل ہے؟
مسائل حل کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کا معاملہ تو دور کی بات ہے ، اپوزیشن تو اب تک یہ گتھی بھی نہیں سلجھا سکی کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدام اعتماد کامیاب ہوگئی اور عمران خان کو ایوان میں اکثریت کی حمایت حاصل نہ رہی تو اس کے بعد موجودہ جمہوری آئینی انتظام کو جاری رکھنے کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا؟ ایک طرف مسلم لیگ (ن) عدم اعتماد کے بعد فوری انتخابات چاہتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی سندھ میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے انتخابات کو زیادہ سے زیاد وقت تک مؤخر رکھنا چاہتی ہے۔ یہی حال مسلم لیگ (ق) جیسی چھوٹی پارٹیوں کا بھی ہے۔ وہ بھی اپنی موجودہ سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے بے قرار ہیں کیوں کہ کوئی نہیں جانتا کہ نئے قومی انتخابات میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور اقتدار یا سیاسی اثر و رسوخ میں سکے کتنا حصہ ملے گا۔ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اگر فوری طور سے انتخابات ہوتے ہیں تو شاید بہت سے ارکان اسمبلی اپنی نشستیں بچانے کے قابل بھی نہ ہوں اور بعض نئے سیاسی گروہ مثلاً تحریک لبیک پاکستان بہتر لین دین کی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ ایسے میں چوہدری ہوں یا تحریک انصاف کے وہ پریشان حال ارکان جو عمران خان کے مستقبل کو غیر یقینی سمجھتے ہوئے کوئی ایسا سہارا حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انہیں مزید ایک مدت تک اسمبلیوں کا رکن رہنے میں معاون ہوسکے، کبھی بھی اپنی موجودہ پوزیشن کو سال ڈیڑھ سال پہلے ہی خیر باد کہنے پر راضی نہیں ہوں گے۔
ان سطور میں عدم اعتماد کا معاملہ سامنے آنے کے بعد گزارش کی جاچکی ہے کہ ایسا کوئی عمل نہ تو ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرے گا اور شاید نہ ہی عمران خان کو سیاسی طور سے کمزور کرنے کا خواب پورا ہوسکے گا۔ خاص طور سے اگر صورت حال کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ اپوزیشن لیڈر عمران خان کو بوجھ تو قرار دیتے ہیں لیکن اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ ان کے پاس ملکی مسائل کا بوجھ اٹھانے کا کیا حل ہے اور وہ ملک و قوم کو درپیش سنگین معاشی ، سفارتی اور سیاسی مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ معاشی و سفارتی حالات تبدیل کرنے کے لئے سب سے پہلے ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کی ضرورت ہے۔ یہ صورت حال پیدا نہ کی جاسکی تو پاکستان کی موجودہ مشکلات میں مستقبل قریب میں اضافہ ہوگا۔ اس میں اس بات کی تخصیص نہیں ہے کہ حکمران عمران خان ہو یا یہ عہدہ شہباز شریف یا آصف زرداری کو دے دیا جائے۔ معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی وزیر اعظم اس وقت تک ملکی حالات سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکتا جب تک اجتماعی قومی حکمت کو بروئے کار لانے کے کسی فارمولے پر اتفاق رائے نہ ہوجائے۔ اگر یہ طریقہ تلاش کرنا ہی اپوزیشن کا بنیادی نکتہ ہے اور عمران خان کے خلاف عدم اعتماد یہی مقصد حاصل کرنے کا راستہ ہے تو اس کا کوئی واضح خاکہ سامنے ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے ملک کے کائیاں اور تجربہ کار سیاست دانوں نے اصل مسئلہ کا حل پیش کرنے کی بجائے عمران خان کو ٹارگٹ کرکے عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ایک بار تحریک انصاف کی حکومت سے نجات پالی گئی تو سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔ یہ فریب بہت دیر چل نہیں پائے گا۔
ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر تہ دل سے سمجھتے ہوں کہ ملک کو آگے لے جانے کے عمل میں عمران خان بہت بڑی رکاوٹ ہیں لیکن کسی بھی سیاسی و آئینی انتظام میں سیاسی رکاوٹوں کو سیاسی طریقوں سے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ اس حوالے سے اہم ترین فورم ہوسکتا ہے۔ ا س کی گونج گزشتہ دنوں پیکا آرڈی ننس کے خلاف سیاسی پارٹیوں کی اپیلوں کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سنائی دی تھی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا تھا کہ کسی قانون کے خلاف داد رسی کے لئے عدالتوں کا رخ کرنے کی بجائے انہیں پارلیمنٹ میں ان معاملات کو طے کرنا چاہئے کیوں کہ عوام نے انہیں اسی مقصد کے لئے منتخب کیا ہے۔ عدالتوں کو پارلیمنٹ کے معاملہ میں ملوث نہ کیا جائے۔ اس مشورہ سے جمہوریت میں پارلیمانی عمل کی اہمیت و ضرورت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ البتہ اپوزیشن کی ساری کاوشیں اور حکومت کی متبادل چالیں پارلیمنٹ کو غیر اہم بنانے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ ملکی جمہوریت کے لئے ایک ناخوشگوار صورت حال ہے۔
اپوزیشن کے ذی دماغ سیاست دان جن چند نکات پر اپنی ساری صلاحیتیں صرف کررہے ہیں ان میں سر فہرست یہ ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد انتخابات کب منعقد ہوں، عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کون بنے اور پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا منصب کس کے سپرد کیا جائے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس غور و خوض میں یہ نکتہ کہیں زیر بحث نہیں ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے افراط زر پر کیسے قابو پایا جائے یا معیشت کو متحرک رکھنے کے لئے کون سے اقدامات ہوں تاکہ قومی پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور مالی دباؤ کے سبب پیدا ہونے والے بحران سے نکلا جاسکے۔
وسیع تر سیاسی ہم آہنگی مسائل سے نمٹنے میں ہم کردار ادا کرتی ہے لیکن تحریک عدم اعتماد لانے سے یہ مقصد حاصل کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔ عمران خان اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پوری شدت سے موجودہ اپوزیشن کے خلاف عوامی مہم جوئی کی کوشش کریں گے۔ کسی ممکنہ نئی حکومت نے اگر عمران خان کو سیاسی احتجاج سے روکنے کے لئے انہیں مقدمات میں پھنسانے کا وہی پرانا طریقہ اختیار کیا جو اس سے پہلے بھی سیاسی بداعتمادی کا سبب بنا ہؤا ہے تو معاملات بہتر ہونے کی بجائے بگڑنے لگیں گے۔ اسی طرح اپوزیشن کی صفوں میں دکھائی جانے والا موجودہ اتحاد بھی پانی کا بلبلہ ثابت ہوگا کیوں کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کے نکتہ پر اتفاق کرتے ہوئے کسی وسیع تر سیاسی پلیٹ فارم پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ یہ طریقہ گاڑی کے پیچھے بیل باندھنے کے مترادف ہے۔
ایسے تمام جمہوری ممالک میں جہاں متعدد جماعتیں سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہیں، یہ روایت راسخ ہے کہ سب پارٹیاں اپنے اپنے منشور پر انتخاب میں حصہ لیتی ہیں اور انتخاب کے بعد جب کسی ایک پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوتی تو ہم خیال سیاسی جماعتیں مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کے لئے تبادلہ خیال کرتی ہیں جو مخلوط حکومت کا منشور قرار پاتا ہے۔ ان مذاکرات میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت ہر جماعت اپنے سیاسی منشور کے مطابق زیادہ سے زیاد رعایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن عمران خان کو تو ہٹانا چاہتی ہے لیکن اس نے باہمی سیاسی اختلافات دور کرنے یا کوئی مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تیار کرنے کے لئے کام نہیں کیا۔ ایسی سیاسی حکمت عملی شاید حکمرانوں کے چہرے تو تبدیل کرسکتی ہے لیکن ملکی مسائل کا حل تلاش نہیں کر پائے گی۔
اصولی سیاسی اہداف سے قطع نظر اگر موجودہ سیاسی جوڑ توڑ کی حکمت عملی کو صرف ’عمران ہٹاؤ ‘سلوگن کے تناظر میں ہی سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اپوزیشن جماعتوں نے بعض عملی اور اہم نکات پر اتفاق کرنے سے پہلے ہی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بلی تھیلے سے باہر نکال دی ہے۔ اب گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ بھاگ دوڑ ہورہی ہے کہ اس بلی کو تھیلے میں واپس کیسے لایا جائے تاکہ واقعی اسمبلی میں کوئی چھومنتر قسم کا کرشمہ دکھایا جاسکے۔ گویا معقول اور قابل اعتبار ہوم ورک کرنے سے پہلے ہی ایک ایسا اعلان کیا گیا ہے جس سے ملک کے غیر یقین سیاسی ماحول میں مزید ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ اس طریقہ سے عمران خان کو ضرور سیاسی بھاگ دوڑ پر مجبور ہونا پڑا ہے لیکن کیا ملک کی تمام اپوزیشن اور ذہین ترین سیاسی قائدین واقعی محض اس کام کو ملکی مسائل اور عوامی مصائب کے خاتمہ کا حل سمجھتے ہیں؟
کسی ٹھوس سیاسی لائحہ عمل کے بغیر عمران خان کو کسی بھی غیر معمولی طریقے سے ہٹانا یا استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں ہوگا لیکن اس سے شاید بعض لوگوں کے انتقام کا جذبہ ضرور تسکین پاسکے گو کہ اس منزل کے حصول میں بھی پیش از وقت ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے حائل مشکلات سے اپوزیشن کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور عمران خان کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ حالانکہ وہ ناکام حکومت کے سربراہ کے طور پر خود ہی عوام میں اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔ اگر ان کی حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو آئیندہ انتخابات میں انہیں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ البتہ تحریک عدم اعتماد جیسے ہتھکنڈوں سے انہیں سیاسی مظلوم بننے کا موقع ملے گا اور وہ اپنے پرانے نعرے صیقل کرکے ایک بار پھر عوام کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کریں گے۔
اب بھی وقت ہے کہ اپوزیشن ایک ایسے سیاسی مشن سے باز رہے جس سے پاکستان کے سیاسی بحران اور مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ عمران خان دیگر اہم سیاسی جماعتوں کی طرح ایک سیاسی حقیقت ہیں۔ ان کی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ عمران خان مخالف سیاسی لیڈروں کی عوامی قبولیت کو تسلیم نہ کرکے موجودہ مشکل کا شکار ہوئے ہیں۔ اپوزیشن بھی وہی غلطی دہرا کر کوئی فائدہ حاصل نہیں کرپائے گی۔