پی ٹی وی حملہ کیس میں عارف علوی عدالت میں پیش، صدارتی استثنیٰ نہ لینے کی درخواست
- جمعہ 04 / مارچ / 2022
- 3520
پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردیعدالت میں پیش ہو کر صدارتی استثنیٰ نہ لینے درخواست دائر کی۔
اے ٹی سی کے جج محمد علی وڑائچ نے سماعت کی جس میں صدر عارف علوی، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ میں پیش ہوئے۔ خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جو 9 مارچ کو سنایا جائے گا۔
اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کا قانون مجھے استثنیٰ دیتا ہے، میں اپنے اس استثنیٰ کو ختم کرتا ہوں۔ یہاں کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی، استثنیٰ کی گنجائش نہیں۔ آئین پاکستان کا پابند ہوں، قرآن پاک اس سے بڑا آئین ہے۔ جتنے خلفا آئے وہ عدالتوں میں بڑے باوقار انداز سے پیش ہوئے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ مجھے پتاچلا کہ عدالت فیصلہ اپنا فیصلہ تحریر کرنے لگی ہے تو عدالت میں پیش ہوا۔ مجھ پر صدر بننے کے بعد سیالکوٹ میں مقدمہ بنایا گیا، میں نے استثنی نہیں لیا بلکہ اپنا وکیل پیش کیا اور مقدمہ جیت لیا تھا۔
عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پوری عدلیہ سے درخواست ہے کہ جلدی فیصلے ہوں۔ جلد فیصلے نہ ہونے کے باعث کئی نسلوں تک مقدمے چلتے ہیں۔ میرے والد نے 1977 میں مقدمہ کیا تھا، وہ بھی آج تک چل رہا ہے۔ گواہ مر جاتے ہیں، یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، کاغذ ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ عدالت کے اوپر بوجھ بہت ہے۔
عارف علوی نے مزید کہا کہ میری خواہش تھی کہ ریاست مدینہ کے انصاف کی جانب بڑھا جائے، مجھ پر الزام تھا کہ میں نے ہتھیار سپلائی کیے ہیں۔ ہمارے آخری نبیﷺ نے کہا تھا کہ میری بیٹی فاطمہ بھی کوئی جرم کرے تو انصاف ہو گا۔ میں پاکستانی قوانین کا پابند ہوں مگر میں اس مقدمے میں استثنیٰ نہیں لینا چاہتا، میں صدر پاکستان نہیں بلکہ عام شہری کی حیثیت سے پیش ہوا تھا۔