روس یوکرین جنگ کے نتائج پر امریکا نے پاکستان کو خبردار کردیا

  • ہفتہ 05 / مارچ / 2022
  • 4620

امریکا نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے علاقائی اور عالمی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔  پاکستانی دفتر خارجہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں 23 سفرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کو غیر سفارتی اقدام قرار دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم نے حکومت پاکستان کو یوکرین کے خلاف روس کی بلااشتعال جنگ کے سبب علاقائی اور عالمی سلامتی پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کیا ہے‘۔ تاہم اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف اپنے اقدامات کے نتائج سے باخبر ہے بلکہ یوکرین میں امن کی بحالی کے لیے ’تمام تر کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو روس کی حمایت کے اظہار کے طور پر بیان کرنا ایک غلط تشریح ہوگی۔ ’ہم جنگ بندی اور مذاکرات کی وکالت کر رہے ہیں، اگر ہم یوکرین کی قرارداد میں شامل ہوتے تو ہمارے پاس دونوں فریقین کے ساتھ سفارت کاری کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی‘۔

رواں ہفتے کے آغاز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک غیر پابند قرارداد منظور کی تھی جس میں یوکرین سے تمام روسی فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد میں جنوبی ایشیائی ممالک میں سے صرف نیپال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

پاکستان، چین کو اپنے قریبی اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے اور اس معاملے پر بظاہر چین کے روس کی حمایت کے حوالے سخت مؤقف نے یوکرینی تنازع پر پاکستان کے ردعمل کو بھی متاثر کیا۔

امریکی ترجمان نے اس بات پر اصرار کیا کہ تمام 35 ممالک جنہوں نے ووٹ دینے سے گریز کیا ہے انہیں اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ’امریکا کا خیال ہے کہ ان ممالک کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی واضح جارحیت کے خلاف واضح طور پر بات کرنی چاہیے اور یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے‘۔

دریں اثنا دفتر خارجہ نے پاکستان میں جرمنی اور فرانس سمیت مختلف غیر ملکی سفارتکاروں کے سربراہان کی جانب سے جاری کردہ بیان پر اعتراض کیا ہے۔ اس بیان میں حکومت پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف روسی کارروائی کو مشترد کرے۔

ہفتہ وار بریفنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ہم نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے سفرا کے ایک گروپ سے ملاقات میں، اس معاملے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔  ملاقات میں، میں نے ان سے اس طرح کی سفارت سے گریز کرنے کے لیے کہا۔ ممکنہ طور پر انہیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے۔

عاصم افتخار نے زور دیا کہ سفارت کاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سفارتی اصولوں اور طریقوں کی پابندی کریں۔ میڈیا کے ذریعے ایسی باتیں کہنا معمول کی سفارتی مشق نہیں ہے، اور ہم نے اسے واضح کر دیا ہے۔

تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ روس یوکرین جنگ پر یورپی ممالک سے بات چیت جاری ہے۔ اس معاملے پر دفتر خارجہ میں مختلف سفیروں، سیکریٹری خارجہ، ایڈیشنل سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر کی سطح پر بھی گفتگو کی جارہی ہے۔  سیکریٹری خارجہ آج کچھ سفیروں سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔