روس کا دو یوکرینی شہروں سے انخلا کے لیے انسانی راہداری کھولنے کا اعلان

  • ہفتہ 05 / مارچ / 2022
  • 4410

روسی وزارت دفاع نے محاصرے میں لیے گئے دو یوکرینی شہروں سے رہائشیوں کے انخلا کے لیے انسانی راہداری کھولنے کا فیصلہ  کیا ہے۔ ہفتے کو ان شہروں میں عارضی طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے کہا کہ ’آج پانچ مارچ ماسکو وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے، روس خاموشی کا اعلان کرتا ہے اور ماریوپول  اور ولنوواخا سے شہریوں سے انخلا کے لیے انسانی راہدادری کھولتا ہے۔ روسی نیوز ایجنسیوں کے مطابق وزارت کا کہنا تھا کہ پانچ گھنٹوں پر مشتمل جنگ بندی میں انسانی راہداری کی جگہ اور باہر جانے کے راستوں کے تعین پر یوکرینی حکام کے ساتھ اتفاق  ہو چکا ہے۔

جنوب مشرقی یوکرین میں واقع شہر ماریوپول ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس سے قبل شہر کے میئر وادیم بوائیچینکو نے کہا تھا کہ کئی دنوں کے ’بے رحم حملوں‘ کے بعد روسی فوجیوں نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق روسی فوجیوں نے شدید سرد موسم میں شہر کی بجلی، پانی، ہیٹنگ، ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل کو روک رکھا ہے، جس کا موازنہ دوسری عالمی جنگ میں لیننگراڈ کے محاصرے سے کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرینی وزیر دفاع اولیکسی رزنی کوف نے ہفتے کو بتایا کہ 66 ہزار اور 224 یوکرینی مرد بیرونی ممالک سے جنگ لڑنے وطن واپس آگئے ہیں۔ یوکرین کی فضائی حدود کو نو فلائی زون قرار دینے کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے نیٹو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں اب جو ہلاکتیں ہوں گی اس کا ذمہ دار نیٹو بھی ہوگا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرینی صدر نے ایک ویڈیو پیغام میں نیٹو کے ہونے والے اجلاس کو ’ایک کمزور اور الجھا ہوا اجلاس‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اجلاس ’ایک ایسا اجلاس تھا جس نے ظاہر کیا کہ ہر کوئی یورپ کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی لڑائی کو اولین مقصد نہیں سمجھتا۔‘

یوکرینی صدر نے نیٹو اجلاس میں شریک ممالک کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے اس میٹنگ کے دوران کیا سوچا؟ اب سے جو بھی لوگ مارے جائیں گے وہ آپ کی وجہ سے بھی مارے جائیں گے۔ آپ کی کمزوری کی وجہ سے۔ آپ کے عدم اتفاق کی وجہ سے۔‘

زیلنسکی نے یہاں تک کہا کہ ’یہ جانتے ہوئے کہ مزید فضائی حملے ہوں گے نیٹو نے جان بوجھ کر یوکرین کی فضائی حدود کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ زیلنسکی نے نیٹو کے اس عمل پر مزید بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں یقین ہے کہ نیٹو ممالک نے خود ساختہ بیانیہ گڑھ لیا ہے کہ یوکرینی فضائی حدود کی بندش نیٹو کے خلاف روسی جارحیت کی وجہ بنے گی۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ روز نیٹو ممالک کے اجلاس میں یوکرین کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بندش کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ’اگر ہم ایسا کرتے تو ہم یورپ میں ایک بڑے پیمانے پر لڑی جانے والی جنگ کی جانب بڑھ جاتے جس میں مزید کئی ممالک شامل ہوتے اور انسانی المیہ مزید بڑھ جاتا۔‘

تاہم نیٹو کے اس فیصلے پر یوکرینی صدر نے جذباتی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے نو روز کی تاریکی برداشت کی ہے۔ نو روز کا برا وقت۔ یہ تاریکی اور برا وقت توقع سے تین گنا زیادہ تھا۔‘ انہوں نے نیٹو ممالک کی یاددہانی کے لیے کہا کہ ’ہم نے حملے کا جتنا ہو سکا بہترین جواب دیا۔ بدترین خطرے میں بہادری یکجہتی اور باہمی تعاون دکھایا۔‘ آج نیٹو کی قیادت نے نو فلائی زون کا مطالبہ مسترد کر کے مزید یوکرینی شہروں اور دیہاتوں پر بمباری کے لیے اشارہ دے دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یوکرین میں امریکی سفارت خانے نے روس کی جانب سے یوکرینی ایٹمی پلانٹ کو نشانہ بنانے کے عمل کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔ اے پی نے یوکرین میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ایٹمی گھر کو نشانہ بنانہ جنگی جرم تھا۔ پوتن کی جانب سے یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر بمباری کرنے سے ان کی دہشت ایک درجہ بڑھ گئی ہے۔‘

یاد رہے کہ ایک حملے میں روسی افواج نے ایٹمی پلانٹ پر گرفت حاصل کر لی تھی جس کے دوران اس میں آگ بھڑک اٹھی جس سے ایٹمی تابکاری کا خطرہ پیدا ہوا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا تھا اور تابکاری نہیں پھیلی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ روس نے حکومتی حمایت یافتہ چینلز پر قدغن لگانے کی وجہ سے ملک بھر میں فیس بک پر پابندی لگا دی ہے۔ روسی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز نے مزید لکھا کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی، جرمنی  کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلی (ڈی ڈبلیو) اور وائس آف امریکہ کی ویب سائٹس پر بھی ملک بھر میں پابندی لگا دی ہے کیوں کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے غلط اطلاعات فراہم کر رہے تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کہا ہے کہ وہ روس میں اپنا کام عارضی طور پر روک رہا ہے۔ یہ فیصلہ روس کی جانب سے ایک نیا قانون متعارف کروانے کے بعد لیا گیا جس میں جان بوجھ کر ’غلط خبر‘ چلانے پر کسی بھی شخص کو جیل بھیجا جا سکے گا۔