اب کی بار بچیں گے تو سحر دیکھیں گے

پچھلے مہینے شامی صاحب سے کرنٹ افیئرپر بات ہوئی تو عرض کی کہ مجھے تو کھلاڑی فارغ ہوتے دکھتا ہے، بولے اتنی بڑی بات آپ کیسے کہہ رہے ہیں ۔ جواباً طویل دلائل کی بجائے یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ ’’میری چھٹی حس یہی کہہ رہی ہے‘‘۔

حالانکہ شعوری طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس شخص کو ابھی نہیں بھیجا جانا چاہیے بلکہ مدت پوری کرنے دی جانی چاہئے۔ اور یہ کسی محبت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، عوام اور ناچیز کے دل میں اس نے اپنی نااہلی، ہلکی سوچ اور تہذیبی زوال کے باعث اتنی منافرت بھر دی ہے کہ ناچیز یہ خواہش رکھتا ہے کہ لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر اسے ’’صلوٰتیں اور دعائیں‘‘ دیں، اس سے عوامی مایوسیوں میں کوئی کسر نہ رہ جائے تاکہ آئندہ سیاسی ٹورنامنٹ یا گلی ڈنڈا کھیلنے کے قابل ہی نہ رہے۔

درویش کا اندیشہ تھا کہ ایک شخص جتنا ضدی ہے اور طاقتوروں کے سامنے جس قدر بچھا ہوا ہے اس کے صلے میں 2018 کی ماورائی بخشیش 2023 میں ایک مرتبہ پھر دہرائی جائے گی۔ نتیجتاً عوامی منافرت کا لاوا 77 والے لاوے کی عین مطابقت میں پھوٹ پڑے گا یوں مضبوط کرسی کا جو حشر ہوا تھا تاریخ ایک مرتبہ پھر خود کو دہرائے گی۔ لیکن یہاں تو حالات نے اتنی تیزی سے پلٹا کھایا ہے کہ لانے والوں اور سہولت کاروں سمیت سبھی سٹیک ہولڈرز ورطہ حیرت میں گم ہیں۔ جسے کامن سینس کہتے ہیں افسوس وہ کامن نہیں ہوتی ہمارے لوگوں میں مردم یا شخصیت شناسی میں جو کوتاہی ہوتی ہے اس کے موذی نتائج صرف ایک نہیں کئی نسلیں بھگتنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ باقی حضرت مردان شاہ عر ف پیر پگارہ چوہے بلی کے جس کھیل تماشے کا ذکر کرتے رہتے تھے وہ کھیل یہاں سے ختم ہوا ہے نہ کبھی ہوگا۔

مرحوم مرد مومن فرمایا کرتے تھے کہ میں سیاسی سٹیڈیم میں جو کرکٹ کھیل رہا ہوں یا کھیلنا چاہتا ہوں بی بی آپ اسے خراب کرتے ہوئے گلی ڈنڈا نہ بنائیں۔ آج اس کا حقیقی عقیدت مند یہ کہہ رہا ہے کہ بڑی سیاسی دیگ رکھی جا چکی ہے، دھواں نکل رہا ہے کچھ نہ کچھ نتیجہ تو بہرحال نکلے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ’’تابع فرمان‘‘ جو نتیجہ چاہتے ہیں اس کے برآمد ہونے کی امیدیں لندن والا ہر روز ڈبو دیتا ہے۔ لاہور والا تو سب کچھ قبولنے کو تیار ہے مگر جہاں سے اصلی مہر لگنی ہے وہاں قبولیت ’’ترینوں‘‘ تک محدود دکھتی ہے جن کے ساتھ اگلی سیاسی معرکہ آرائی کے لئے ٹکٹوں کے فیصلے ہو چکے ہیں لہٰذا اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کچھ غیبی صدائیں بھی ہوتی ہیں جو محض سننے والے مخصوص کان ہی سن سکتے ہیں اور پھر پیروں، فقیروں یا پیرنیوں، فقیرنیوں کے دم درود، تعویذ دھاگے یا پھوکا پھوکنیاں بھی تو ہوتی ہیں آخر وہ اپنا اثر رسوخ کب دکھائیں گی۔ اگر ماورائی فیضان نہیں تو کم از کم جنوں بھوتوں کی طاقتوں کا کچھ تو مظاہرہ ہونا چاہئے۔ مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ جن بھی اپنے جوہر تبھی دکھاتے پائے جاتے ہیں جب ماورائی طاقتیں ان کی ہمرکاب ہوں۔ حقائق کی پرکھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ اصلی بلائیں فضاؤں سے نہیں خلاؤں سے نازل ہوتی ہیں۔ طاقت کا اپنا خمیر ہوتا ہے جو اس سے اٹھکیلیوں کی کوشش کرتا ہے اسے 440 وولٹ کا کرنٹ بھی لگ سکتا ہے۔ ننگی تاریں یہ کب دیکھتی ہیں کہ انہیں چھونے والا کوئی اپنا ہے یا پرایا۔ باغی ذہنیت کا یہ لکھاری مدت سے سوچ رہا تھا کہ اناڑیوں کی رخصتی پر عنوان کیا باندھے؟ ’’تماشا دکھا کر مداری گیا‘‘ تو 77 میں تحریر کیا جا چکا ہے اب کے ’’مداری‘‘ کی جگہ ’’اناڑی‘‘ لگا لیا جائے تو مفہوم واضح ہو جائے گا۔

ایسا عنوان باندھنے سے پہلے طاقتوروں کے سامنے ایک تجویز رکھنے کو جی چاہتا ہے یہ کہ اتنے سیاسی بکھیڑے میں پڑنے یا ڈالنے سے بہتر کیا یہ آسان رستہ موجود نہیں تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی طوالت اب اختتام پذیر ہو جاتی ۔ کتنا اچھا ہے کہ کسی بھی غصیلی بریڈ کے موذی کو مارنے کے لئے لاٹھی اٹھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ مگر یہ آسمانی فیصلے ہیں جن کے لئے زیادہ غور و خوض کرنے یا ضرورت سے زائد تدبر دکھانے کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ رہ گیا ’’پوسٹ ہسٹری‘‘ کا جائزہ وہ اگرچہ سب پر واضح ہے لیکن مولانا دبے لفظوں میں جو یہ فرما رہے ہیں کہ ہمیں بہار کے متعلق زیادہ تردد کی ضرورت نہیں ہے جب خزاں رخصت ہوگی تو بہار خود ہی آ جائے گی۔ یہی اصول و قانون فطرت ہے۔

 دن کی واضح روشنی میں بھی نہ دیکھ پانے والے جو اس نوع کے خدشات کا گمان کر رہے ہیں کہ کوئی شاید یوں نکالے جانے کے بعد اپنی گیڈر بھبھکیوں کی مطابقت میں زیادہ “خطیرناک” ہو جائے گا، وہ جمع خاطر رکھیں کہ جس غیر معمولی عزت افزائی کے ساتھ یہ رخصتی ہوتی دکھتی ہے اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

کھڑاک ان کا آتا ہے جن کی جڑیں ہوتی ہیں، پر وہ مارتے ہیں جن کے کھمب ہوں یہاں تو سوائے چند لوٹے اور بے پیندے کے گھڑے ہیں یا ادھر ادھر کے اینٹ روڑے جوڑ کر بنائے گئے بھان متی کنبےکے، کچھ اور تھا ہی نہیں لہٰذا گلاس ٹوٹنے یا بارہ آنے والی بھی کوئی بات نہیں۔ یہاں تو وہ لوگ پدہار رہے ہیں جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ’’نہ فاتحہ نہ درود‘‘۔  فاتحہ درود سے یاد آیا کہ ایسی روحانیت کی بھی بڑی طاقت ہوتی ہے جب روحانی لوگ گڑ گڑا کر طاقتور ہستی سے کچھ مانگتے ہیں تو بعض اوقات کچھ شنوائی ہو بھی جاتی ہے جس کے بعد وہ گنگنا سکتے ہیں کہ ’’آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے تیر نظر دیکھیں گے، زخمِ جگر دیکھیں گے۔

مگر کیا کریں اب کی بار بچیں گے تو سحر دیکھیں گے، کاش ایک مرتبہ بچ جائیں تاکہ عوامی غیض و غصے کی مزید بوریاں سمیٹ سکیں۔