میڈیا، قانون سازی اور جوابدہی کا نظام
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 05 / مارچ / 2022
- 4270
پاکستان کے سیاسی حلقوں، میڈیا سے جڑے افراد یا اداروں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ)پیکا(ترمیمی آرڈنینس 2022کے تناظر میں اس کی حمایت اورمخالفت میں بحث کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
اس کی حمایت اور مخالفت میں مختلف فریقین اپنی اپنی سطح پر دلائل دے کر اپنا مقدمہ پیش کررہے ہیں۔اسی طرح اس قانون کو مختلف فریقین نے اپنی اپنی طرف سے عدالت میں چیلنج بھی کردیا ہے۔عدالت نے بھی ابتدائی سماعت میں اس قانون پر مختلف حوالوں سے سنجیدہ سوالات اٹھاکر اس کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔اس قانون کا ایک پس منظر ہے۔ یہ صورتحال صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کو بھی درپیش ہے کہ کس طرح سے جعلی یا فیک خبریں، افراد یا اداروں کے خلاف شعوری منفی مہم، شخصیات کی کردار کشی، تضحیک کا کھیل،بغیر شواہد کے جھوٹے الزامات، کسی خاص مقصدکو بنیاد بنا کر کسی گروہ کے مفاد کو مدنظر رکھ کر سچائی کے نام پر جھوٹ کا کاروبار یا اس منفی کھیل سے مجموعی طور پر رائے عامہ پر اثر انداز ہونا شامل ہے۔
اگرچہ اس قانون کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔لیکن اب یہ معاملہ محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ بدقسمتی سے اس کی بعض شکلیں ہمیں پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ میڈیا سے جڑے علمی و فکری سطح پر موجود ماہرین میڈیا کے مجموعی کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔اگرچہ یہاں پہلے سے پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا پالیسیوں کو بنیاد بنا کر قانون سازی موجود ہے۔ اسی طرح کسی نہ کسی شکل میں سوشل میڈیا کے حوالے سے سائبیرکرائم کی قانون سازی کی گئی ہے مگر سوال یہ ہی ہے کہ ان قوانین کی موجودگی میں عملدرآمد کے نظام میں شفافیت کیوں نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا محض قانون بنا کر ہی ہم اس مسئلہ سے نمٹ سکیں گے؟
ایک سنگین مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا کے داخلی خود احتسابی کا نظام میں بھی سنگین نوعیت کے عدم شفافیت ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میڈیا ان سنگین مسائل کو حل نہیں کرسکا۔ میڈیا کے ادارے، مالکان یا ایڈیٹریا میڈیا کی ایسوسی ایشن سمیت ایڈیٹر ایسوسی ایشن نہیں کرسکی ہیں۔ داخلی جوابدہی کے نظام میں ہمیں میڈیا کے محاذ پر کوئی ایسی کارروائیاں دیکھنے کو نہیں مل رہی جو ظاہر کرے کہ جو کچھ میڈیا ایک خاص مقصد کے تحت غلط ہورہا اس کو جوابدہ بھی بنایا جارہا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سمیت رسمی میڈیا کے داخلی کمزور جوابدہی کے نظام کی وجہ سے خبر کی بنیاد پر جھوٹ یا منفی مہم کو بالادستی مل رہی ہے۔مسئلہ محض یہاں تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا میں نفرت انگیز، ہتک امیز، مذہبی، سیاسی، سماجی، لسانی، علاقائی، فرقہ واریت سمیت فتووں کا کھیل عروج پر ہے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ کسی بھی طور پر آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ محض ایک سیاسی و سماجی حق ہی نہیں بلکہ لوگوں کا قانونی اور آئینی حق بھی ہے جو آئین ان کو فراہم کرتا ہے۔ لیکن آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ میڈیا کی بحث بھی علمی و فکری حلقوں میں عالمی دنیا میں بڑھ رہی ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر مادر پدر آزادی کا کوئی تصور نہیں ہوتا اور اپنی تحریروں یا بولنے میں الفاظ کا چناؤ جس میں تنقید کے نام تضحیک یا بغیر کسی شواہد کے کسی کی بھی کردار کشی کو ہر سطح پر جوابدہ بنایا جاتا ہے۔اس لیے جو لوگ بھی آزادی اظہار کے نام پر بے لگام قسم کی آزادی یا اس عمل میں کسی کو جوابدہ نہ بنانے کی حمایت کرتے ہیں، وہ درست نہیں۔
جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ فیک نیوز، منفی مہم یا کردار کشی سمیت اداروں کو چیلنج کرنا یا ان کے بار ے میں گمراہ کن مہم محض سوشل میڈیا تک محدود ہے، درست نہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ کھیل اب ہمیں الیکٹرانک میڈیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں صرف کچھ میڈیا کے لوگ ہی نہیں بلکہ سیاست دان اور تجزیہ کاروں کی جان بوجھ کر مخالفین کی کردار کشی کی مہم او رنفرت انگیز گفتگو بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ جب تک ہمارا رسمی میڈیا او راس سے جڑے فیصلہ ساز داخلی مسائل کو تسلیم نہیں کریں گے، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اصولی طور پر تو خود میڈیا او ران کی ایسوسی ایشن کو اپنا متبادل قانون، پالیسی یا اس پر مبنی ڈرافٹ پیش کرنا چاہیے تھا کہ ہم کیسے ان مسائل سے نمٹ سکیں گے جو رسمی یا غیر رسمی میڈیا کی وجہ سے ریاستی یا ملکی سطح پر ایک چیلنج کے طور پر موجود ہیں۔اس لیے پیکا قانون پر تنقید اپنی جگہ لیکن کیا کوئی متبادل نظام میڈیا او ران کی ایسوسی ایشن سمیت وکلا یا سول سوسائٹی پیش کرسکی ہے تو جواب نفی میں ملتا ہے۔
ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اس وقت دنیا کے کئی ممالک جھوٹی خبروں یا منفی مخالفانہ شعوری مہم کے خلاف پالیسیاں او رقانون سازی کررہی ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی موجودہ حالات او رمیڈیا کی نئی جہتوں کی موجودگی میں قانون سازی کرنی ہوگی او ریہ ناگزیر ہے۔کیونکہ جو کچھ ہم رسمی یا بالخصوص غیر رسمی میڈیا میں منفی بنیادوں پر کررہے ہیں ان کو ہر سطح پر جوابدہ بنانا ہوگا۔ البتہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ اس طرز کی قانون سازی میں کسی قسم کی جلد بازی یا بغیر کسی مشاورت، بحث، یا فریقین کے مختلف موقف کو سنے بغیر یا پارلیمنٹ کی سطح پر بحث کی عدم موجودگی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔اس لیے حکومت سے ہٹ کر جو فریق اس قانون سازی کے زمرے میں آتے ہیں ان کو بھی حالات کی سنگینی کو سمجھ کر نئی قانون سازی پر توجہ دینی ہوگی۔ یہ عمل تعلیمی اداروں، میڈیا کی تعلیم سمیت دیگر تعلیمی موضوعات او رنوجوانوں میں میڈیا کے درست اورذمہ دارانہ استعمال کی بحث کو نئی جہت دے کر آگے بڑھانا ہوگا۔ میڈیا سے جڑے تعلیمی ادارے یا جامعات بھی اس میڈیا کے بحران میں کوئی متبادل نظام نہیں دے سکے۔ اس لیے سیاسی جماعتیں ہوں، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی، وکلا برادری، استاد یا علمی و فکری ماہرین ان کو رسمی و غیر رسمی میڈیا کی ایسی پالیسی جو ان سب کو ذمہ دار بھی بناسکے اور اور ان میں موجود داخلی نظام کی سطح پر جوابدہی کے عمل کو بھی نئی طاقت دے سکے تاکہ میڈیا سے جڑے منفی مسائل کا خاتمہ ہو اور خود میڈیا اپنی ساکھ کو قائم کرسکے۔
جو لوگ بھی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ جڑے افراد بطور صحافی ہیں یا وہ افراد جو بطور اینکرز، سیاست دان یا تجزیہ کار کے طو رپر میڈیا کا حصہ بنتے ہیں ان سب کے دائرہ کار کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاہیے۔اصل مسئلہ میڈیا سے جڑے اداروں میں ایڈیٹرز کا ادارہ جاتی نظام کا کمزور ہونا ہے۔کیونکہ جب معاملات رسمی میڈیا میں ایڈیٹرز سے نکل کر نان پروفیشنل لوگوں یا کاروباری لوگوں کے ہاتھوں میں آگئے ہیں یا ان میں بیٹھے لوگ مختلف جماعتوں یا افراد کے ترجمان بن کر منفی مہم چلانے کو اپنے مفاد کے طو رپر دیکھتے ہیں تو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔اسی طرح غیر رسمی میڈیا جس میں سوشل میڈیا سرفہرست ہے اس کو مختلف حوالوں سے جوابدہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ تنقید او رتضحیک کے درمیان فرق کو سمجھنا، جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق، شعوری طور پر منفی مہم، ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کسی کی کردار کشی، ریاستی اداروں پر حملہ او رآزادی اظہار اور صحافت کی آزادی میں فرق ہونا چاہیے۔
اسی طرح میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی صفوں میں موجود ان لوگوں کی نشاندہی کرے جو میڈیا کو منفی طور پر بطور ہتھیار استعمال کرکے مجموعی طو رپر میڈیا کی اپنی ساکھ خراب کرتے ہیں۔قانون سازی کی مخالفت کی بجائے ایک اچھی قانون سازی کی حمایت ہونی چاہیے اور یہ عمل باہمی سطح پر مکمل مشاورت سے ہونا چاہیے۔