اپوزیشن تحریک اعتماد سے پہلے حکومتی اتحادیوں سے پھر رابطہ کرے گی

  • اتوار 06 / مارچ / 2022
  • 6460

اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔  پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور پیپلزپارٹی نے تحریک عدم اعتماد  سے قبل حکومتی اتحادیوں کے ساتھ مزید ’ٹھوس شرائط‘ پر مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 حزب اختلاف کے کیمپ میں خاص طور پر مسلم لیگ (ن) میں موجود کچھ عناصر یہ چاہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد اتحادیوں کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش کی جائے کیونکہ ان کے خیال میں انہیں مطلوبہ تعداد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این ایز کی حمایت حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ قیادت نے اس منصوبے کے لیے حکومتی اتحادیوں خصوصاً چوہدری برادران کی حمایت حاصل کرنے پر اتفاق کیا اور نتیجتاً پی ڈی ایم انہیں ایک بہتر پیکج آفر کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اقدام کو آگے بڑھانے سے پہلے حکومتی اتحادیوں کو ساتھ لے کر وسیع البنیاد اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اور پی پی پی کی قیادت نے تحریک پیش کرنے میں جلد بازی نہ کرنے اور اتحادیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے مزید کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں عوام میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کے حوالے سے زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ ان کے ساتھ انتخابات کے بعد کی دیگر چیزوں پر کام کیا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ اپوزیشن کے پاس وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے مطلوبہ تعداد پہلے ہی موجود ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ انہیں اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اتحادی جانتے ہیں کہ اگر وہ عمران خان کی پی ٹی آئی کے ساتھ رہے تو وہ اگلا الیکشن نہیں جیت سکتے۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اتحادیوں نے اپنے آپشنز کھلے رکھے ہیں اور قوی امکان ہے کہ وہ آخر کار مستقبل کی سیاست میں متحرک رہنے کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پوری اپوزیشن کا قبل از وقت انتخابات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ تازہ انتخابات اب اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اختلافی نکتہ نہیں ہے۔ پی ڈی ایم اور پی پی پی قیادت نے اس پر اتفاق کیا ہے اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اعلان کیا ہے کہ عمران خان کو گھر بھیجنے کے بعد نئے انتخابات ہوں گے۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو عبوری وزیراعظم بنانے کی تجویز سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ ایک بار جب مشترکہ اپوزیشن مرکز میں پی ٹی آئی حکومت کا تختہ الٹ دے گی تو وہ باہمی مشاورت سے عبوری وزیر اعظم کا تقرر کرے گی۔ میاں شہباز شریف نے حال ہی میں عبوری وزیر اعظم کے عہدے سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لیے پہلے اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر غور سے متعلق سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ ہم سب سے پہلے وزیر اعظم کو نشانہ بنا رہےہیں اور ہمارے قانونی ماہرین اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ اسپیکر کوئی غیر قانونی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

دریں اثنا پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے فون پر بات کی اور تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں میں پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ شہباز شریف نے بھی اپنی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ پر پارٹی کے سینئر ارکان سے ملاقات کی اور پی ٹی آئی کے قانون سازوں اور اتحادیوں سے رابطوں کی تفصیلات طلب کیں۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے اسلام آباد میں میڈیا کو بتایا کہ ان کی پارٹی کے لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد تحریک عدم اعتماد پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ خورشید شاہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لگ بھگ 13 ایم این ایز عمران خان کی ’ناکامیوں کا بوجھ‘ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں اور وہ اپوزیشن کو ووٹ دیں گے۔

مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین ابھرتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے کارڈ کھیل رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) نے چوہدری پرویز الٰہی کو اپوزیشن کی تجاویز پر فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اپوزیشن شریفوں اور چوہدریوں کے درمیان برسوں سے موجود اعتماد کی کمی کو دور کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

جہانگیر ترین علاج کے لیے لندن میں موجود ہیں، اطلاعات کے مطابق ان کی صحت سنبھل گئی ہے اور وہ آئندہ چند روزمیں اپنے حامی قانون سازوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرکے حکمت عملی طے کریں گے۔

ادھر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا میں گرم ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے کہ جہانگیر ترین اگلے ہفتے کے اوائل میں واپس آرہے ہیں۔ جہانگیر ترین کا دعویٰ ہے کہ انہیں پنجاب سے تقریباً 10 ایم این ایز اور 2 درجن سے زائد ایم پی ایز کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے خبردار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن نے حکومت گرانے کی کوشش کی تو پورا ’سیٹ اپ لپیٹا جاسکتا ہے‘۔ ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت شیڈول سے 6 ماہ قبل اگلے عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہے۔ تاہم اگر اپوزیشن وزیر اعظم کو (عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے) گھر بھیجنے کی کوشش کرتی ہے تو پورا سیٹ اپ سمٹ سکتا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سارے سیاسی تماشے کو ختم کرنے کے لیے ملٹری ٹیک اوور کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو اپوزیشن کے 3 سے 5 ایم این ایز حکومت کی حمایت کر سکتے ہیں۔