روس نے ایرن جوہری معاہدہ کی حمایت کے لئے معاشی ریلیف مانگ لیا
- اتوار 06 / مارچ / 2022
- 3220
یوکرین پر حملے کے بعد روس پر لگائی گئی سخت پابندیوں کے پیش نظر تجارتی اور کاروباری مفادات کے تحفظ کی کوشش میں روس نے ایران کے مجوزہ جوہری معاہدے کی حمایت کرنے سے پہلے امریکا سے ضمانتیں مانگی ہیں۔
روس کی جانب سے ضمانتوں سے متعلق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے بیان نے تہران کے 2015 کے جوہری معاہدے کے جلد از جلد بحالی کے امکانات کم کردیے ہیں۔ روس کے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ روسیوں نے یہ مطالبہ 2 روز پہلے ویانا مذاکرات میں پیش کیا۔ یہ واضح ہے کہ ویانا مذاکرات میں اپنی پوزیشن تبدیل کرکے روس دیگر معاملات میں اپنے مفادات کو محفوظ کرنا چاہتا ہے، یہ اقدام ویانا جوہری مذاکرات کے لیے معاون نہیں ہے۔
دریں اثنا ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تہران میں بات چیت کے بعد کہا ہے کہ انہوں نے معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں کے لیے اہم مسائل پر حکمت عملی پر اتفاق کیا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاروف نے کہا کہ جوہری مذاکرات میں بیشتر معاملات کا احاطہ کرلیا گیا ہے اور ہمارا نقطہ نظر ہے کہ اگر ایران راضی ہوتا ہے تو اس دستاویز کو قبولیت کے مرحلے میں داخل کیا جاسکتا ہے۔
البتہ انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے روس پر جارحانہ پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ماسکو کو پہلے امریکا سے ضمانتیں مانگنی ہوں گی۔ جس کے لیے واضح جواب کی ضرورت ہے کہ نئی پابندیاں جوہری معاہدے کے تحت اس کے حقوق کو متاثر نہیں کریں گی۔
ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے درخواست کی کہ ہمارے امریکی ساتھی ہمیں کم از کم سیکریٹری آف اسٹیٹ کی سطح پر تحریری ضمانتیں دیں کہ امریکا کی جانب سے شروع کیا گیا حالیہ پابندیوں کا عمل کسی بھی طرح سے ایران کے ساتھ ہماری آزاد تجارت، اقتصادی حقوق، سرمایہ کاری اور فوجی تکنیکی تعاون کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
روس کی جانب سے جوہری معاہدے جوہری معاہدے کی حمایت کرنے سے پہلے امریکا سے ضمانتیں طلب کرنے کا بیان، ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ایک معاہدے کے کچھ دیر بعد ہی سامنے آیا جس نے ممکنہ طور پر اس امید کو ختم کر دیا کہ یہ معاہدہ جلد مکمل ہو سکتا ہے۔
ایران نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کا نفاذ شروع ہونے سے پہلے وہ اپنی خام برآمدات کو نومبر 2018 سے پہلے کی سطح تک بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
معاہدے کی بحالی کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت میں جاری مذاکرات میں برطانیہ، چین، فرانس اور جرمنی کے ساتھ روس بھی فریق ہے، جس میں امریکا بالواسطہ شامل ہے۔