حکومت قبل از وقت انتخابات کے لئے تیار ہے: شیخ رشید

  • اتوار 06 / مارچ / 2022
  • 5440

کے معاملے پر حزب اختلاف کو حکومت کے ساتھ بات چیت کی دعوت دی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا ہے کہ ’بات چیت ہونی چاہیے، حالات ہی ایسے ہیں۔‘ اُنہوں نے تجویز دی ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن میں شامل جماعتوں سے بھی مذاکرات ہوں اور یہ کہ ’مل بیٹھ کر بات کرنے سے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اس سے قبل اُنہوں نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ جو انتخابات پانچ سال بعد ہونے ہیں وہ ایک سال، چھے مہینے پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ ’اگر چھے مہینے پہلے بھی الیکشن ہو جائیں تو کیا قیامت آ جائے گی۔ آئیں ہم سے بات کریں۔‘

حزب اختلاف نے ابھی یہ طے تو نہیں کیا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں فوری الیکشن کروائے جائیں گے تاہم ان کے کئی سینیئر رہنما یہی کہتے  ہیں کہ اپوزیشن نئے وزیرِ اعظم کے بجائے جلد از جلد انتخابات چاہتی ہے۔

اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ بظاہر حکومتی وزرا یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن کی یہ تحریک ناکام ہوگی۔ مگر معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے روس کا دورہ ختم ہوتے ہی لاہور میں مسلم لیگ ق کی قیادت چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس بار وزیرِ اعظم عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے اس سے قبل سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ’ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ پر بھی دباؤ ہے کہ وہ اس حکومت کی حمایت نہ کرے‘۔ اگر اسٹیبلشمنٹ اس عمل میں ملوث نہ ہوئی تو اپوزیشن کامیاب ہو جائے گی