روس، یوکرین میں شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

  • سوموار 07 / مارچ / 2022
  • 3050

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات کی انتہائی معتبر رپورٹس ملی ہیں کہ روس یوکرین پ حملوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جنگی جرائم کی تحقیقات میں تنظیموں کی مدد کے لیے ان رپورٹس کو مرتب کیا جارہا ہے۔

سی این این کے 'اسٹیٹ آف دی یونین' شو میں گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم نے عام شہریوں پر جان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں کی بہت معتبر رپورٹیں دیکھی ہیں جو جنگی جرم کے مترادف ہے۔ ہم نے بعض ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں بہت معتبر رپورٹیں دیکھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ان تمام ثبوتوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں، ان سب کو ایک ساتھ مرتب کررہے ہیں، اس کو دیکھنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگ اور مناسب تنظیمیں اور ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا جنگی جرائم ہوئے ہیں یا کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔

یوکرین میں امریکی سفارت خانے نے جمعے کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا کہ روس کی جارح افواج کے جنوب مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی کے نتیجے میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کرنے کے بعد جوہری پلانٹ پر حملہ کرنا ایک جنگی جرم ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

روس نے 24 فروری کو شروع کی گئی مہم کو "خصوصی فوجی آپریشن" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا یوکرین پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے البتہ اس حملے کے دوران وہ مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی تمام ریاستوں کی طرح روس اور یوکرین 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تابع ہیں جس کے لیے جنگ میں انسانی سلوک کے قانونی معیارات متعین کیے گئے ہیں اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

حملے کو 11 دن گزرنے کے بعد اب تک 15لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں مہاجرین کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا بحران ہے۔