سب ممالک پشاور حملے کے ملزموں کو پکڑنے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کریں: سلامتی کونسل
- سوموار 07 / مارچ / 2022
- 3170
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ پشاور میں اہلِ تشیع کی مسجد پر ہوئے حالیہ حملے کے ذمہ داران کو پکڑنے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کریں۔
سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے تمام افعال مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہیں، چاہے ان کا محرک کچھ بھی ہو۔ خیال رہے کہ نمازِ جمعہ کے دوران اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 62 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس حملے کی مذمت کرنے والے اولین لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’عبادت گاہوں کو جنت ہونا چاہیے اہداف نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ میں پشاور کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہوئے ہولناک حملے کی مذمت کرتا ہوں، میری تعزیت ان کے ساتھ ہے جنہوں نے اس میں اپنے پیاروں کو کھو دیا اور پاکستان کے عوام کے ساتھ میرا اظہارِ یکجہتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ سے بھی اسی طرح کا بیان جاری ہوا جس میں حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیا گیا اور متاثرین کے اہلِ خانہ اور دوست احباب کے ساتھ ’دلی تعزیت‘ کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ’امریکا پاکستان کے ساتھ اظہاِ یکجہتی میں سوگوار ہے‘۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا بلکہ بنیادی مسئلے پر بھی توجہ دی گئی۔ سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور بلاجواز ہے خواہ اس کا محرک کچھ بھی ہو، جہاں بھی، جب بھی اور جس نے بھی کیا ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر ذمہ داریوں کے مطابق تمام ریاستوں کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کا ہر طرح سے مقابلہ کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔
بیان کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین نے دہشت گردی کی ان قابل مذمت کارروائیوں کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں اور اسپانسرز کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا اور تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور دیگر تمام متعلقہ حکام کے ساتھ فعال تعاون کریں۔