یوکرین جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں

  • سوموار 07 / مارچ / 2022
  • 3330

امریکہ کی جانب سے روسی سپلائی پر ممکنہ پابندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 2008 کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

برینٹ کروڈ کی قیمت ایشیا میں 139 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے۔ اس سے قبل اسے 130 ڈالر پر مستحکم کیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سپلائی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

عام آدمی پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے سبب باقی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے پریشان ہے۔

روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق یوکرین کے متعدد شہروں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نئی راہداریاں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ شہریوں کو انخلا کی اجازت دی جا سکے۔ روس کی وزارت دفاع کے مطابق جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے سے لاگو ہوگی جس میں دارالحکومت کیف کے ساتھ ساتھ خارخیو، ماریوپل اور سومی سے انخلا کے راستے بنائے گئے ہیں۔

یہ تمام شہر اس وقت روسی حملوں کی زد میں ہیں۔ یوکرینی حکام نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ملک کے جنوب مشرق میں ماریوپل سے شہریوں کے انخلا کے لیے راستہ کھولنے کی دو کوششیں ناکام ہو گئیں تھیں۔ یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روس نے جنگ بندی کے طے شدہ اوقات کے دوران شہر پر گولہ باری جاری رکھی تھی۔

یوکرین کے دفاعی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کی افواج نے مشرقی شہر چویوو پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اتوار کی رات فیس بک پوسٹ میں یوکرین کے جنرل سٹاف نے کہا کہ کیف کی افواج نے شہر کو روسی فوجیوں سے چھین لیا ہے اور لڑائی کے دوران ماسکو کے فوجیوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

یوکرینی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس لڑائی کے دوران اعلیٰ رینک کے دو روسی کمانڈر بھی مارے گئے ہیں۔ یہاں کی آبادی 31000 کے قریب ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

چویوو یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارخیو سے 23 میل کے فاصلے پر ایک اسٹریٹجک علاقہ ہےجو ایک ہفتے سے روسی افواج کی شدید گولہ باری کی زد میں ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ٹیمیں مبینہ طور پر روسی ڈیجیٹل حملوں اور مواصلات میں خلل ڈالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ٹائمز کے مطابق امریکہ اور جرمنی میں مقیم یو ایس سائبر کمانڈ کے اہلکار سیٹلائٹ امیجری اور الیکٹرانک انٹرسیپٹس سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے ’ایک یا دو گھنٹے‘ کے اندر یوکرینی فوج کو فراہم کر رہے ہیں۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو خفیہ مواصلاتی آلات فراہم کیے ہیں، جس سے وہ بائیڈن کو ایک محفوظ لائن پر کال کر سکتے ہیں۔ سنیچر کے روز زیلنسکی نے بائیڈن کو 35 منٹ کی فون کال کی۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جین ساکی نے کہا کہ امریکہ یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ کر رہا ہے۔ مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔