عمران خان نے سنگین نتائج کی دھمکی درحقیقت کس کو دی تھی؟

لاہور میں اپوزیشن لیڈروں شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی ہے جس میں وزیر اعظم کے خلا ف تحریک عدم اعتماد لانے کی حتمی تاریخ طے کرلی گئی ہے۔  اپوزیشن قیادت یا ان کے نزدیکی ذرائع اس بارے میں کوئی حتمی بات بتانے سے گریز کررہے ہیں اور میڈیا سے کہا جارہا کہ بس ایک دو  روا انتظار  کرلیں۔  

البتہ  قیاس کیا جارہا ہے کہ  پیپلز پارٹی  کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے کے  موقع پر تحریک عدم اعتماد پیش کردی جائے  گی۔ تاہم اس سے پہلے عمران خان پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے یہ امید کی جارہی ہے کہ  وہ عدم اعتماد کی قرار داد سامنے آنے سے پہلے ہی استعفی ٰ دے دیں۔ تاہم جو لوگ عمران خان کے مزاج اور ان  کی ہٹ دھرم طبیعت سے آشنا ہیں، ان کے خیال میں عمران خان آخر تک یہ لڑائی لڑیں گے اور کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے۔  وزیر اعظم کے پاس بدستور  یہ آپشن موجود ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل ہی قومی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کردیں۔   اگرچہ اپوزیشن بھی فوری انتخابات کا تقاضہ کررہی ہے اور خبروں کے مطابق اس حوالے سے پائے جانے والے اختلافات  پر قابو  بھی پالیا گیا ہے۔

اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو  عبوری حکومت تو قائم ہوگی لیکن یہ بھی طے کرلیا گیا ہے کہ یہ کتنی مدت کے اندر نئے  انتخابات   وہں گے۔ اس حوالے سے اگر وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد کو   ’ناکام‘ بنانے کے لئے  قومی اسمبلی توڑتے ہیں تو یہ طریقہ اپوزیشن کی حکمت عملی کو مان لینے کے مترادف ہوگا۔ البتہ اس صورت میں چونکہ صوبائی اسمبلیاں نہیں توڑی جائیں گی تو یہ امکان موجود رہے  گا کہ اس مرحلہ پر ایک بار پھر اپوزیشن میں اختلاف پیدا ہوجائے اور صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے لئے اقدام نہ ہوسکے تاکہ قومی انتخابات بیک وقت منعقد کروائے جاسکیں۔  اس صورت میں اگر موجودہ  صوبائی  حکومتیں  توڑنے کے لئے اپوزیشن یک جہتی کا مظاہرہ  نہ کرسکی اور  صوبوں میں موجودہ حکومتیں قائم رہتی ہیں اور قومی اسمبلی کا انتخاب منعقد کروایا جاتا ہے تو مسلم لیگ (ن) کو اس پر سخت اعتراض ہوگا۔  انتخابات میں صوبائی حکومتوں کے عمل دخل کی  ایک طویل اور تکلیف دہ تاریخ موجود ہے۔ اسی لئے قومی انتخابات کے انعقاد کے لئے متعدد دیگر جمہوری ممالک کے برعکس پاکستان میں  حکومتیں مستعفی ہوجاتی ہیں اور  ایک غیر جانبدار عبوری حکومت قائم کی جاتی ہے جو  انتخابات  کے دوران ملکی انتظام سنبھالتی ہے۔  قومی اسمبلی توڑنے اور صرف اسی اسمبلی کا انتخاب کروانے کی صورت میں تحریک انصاف کو پنجاب اور خیبر پختون خوا میں صوبائی انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہوگی جبکہ ایسا ہی تعاون پیپلز پارٹی کو سندھ میں مل سکے گا ۔ ایسی صورت میں  مسلم لیگ (ن) جو اس وقت  پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی  ہےاور  جسے مستقبل کے سیاسی منظر نامہ میں  برسرااقتدار آنے والی قوت سمجھا جارہا ہے، اسے  صرف قومی اسمبلی کا انتخاب  قبول نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس طرح ایک بار پھر اس کی انتخابی کامیابی کا راستہ روکنے کی  مؤثر کوشش ہوسکے گی۔

عمران خان نے گزشتہ روز وہاڑی کے جلسہ میں  خطاب کرتے ہوئے بظاہر ایک   بہادر اور جرات مند لیڈر کا ڈھونگ کرنے کی کوشش کی  تھی۔ ان کی تقریر  موجودہ سیاسی بحران میں  دگرگوں عوامی مقبولیت  کو بحال رکھنے  کی اپنی سی کوشش تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تمام اپوزیشن لیڈروں  پر ایک بار پھر سنگین الزامات عائد کئے اور پاکستان کی خود مختاری کا اعلان کرتے ہوئے یورپئین یونین اور نیٹو  کو آڑے ہاتھوں  لیتے ہوئے کہا کہ’ ہم کیوں مغربی ممالک کے کہنے پر اپنی پالیسی متعین کریں، ہم کوئی  کسی کے غلام ہیں‘۔ اگرچہ  یورپی ممالک کے خلاف اس تند و تیز اور غیر سفارتی لب و لہجہ اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی لیکن اسلام آباد میں 23 یورپی ممالک کے سفیروں کے ایک خط  نے عمران خان کو  پاکستان کے سادہ لوح  عوام کے سامنے ’ہیرو ‘ بننے اور  خود کو قومی  خود مختاری کا سب سے بڑا بلکہ یک و تنہا محافظ  ثابت کرنے کا موقع ضرور فراہم کیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران لکھے گئے اس خط  میں مغربی سفیروں نے  اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیترس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے  حکومت پاکستان سے کہاتھا کہ اسے یوکرائن پر روس کے جارحانہ اور غیر قانونی  حملہ کی مذمت کرنی چاہئے کیوں کہ حملہ مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس خط کا پس منظر روسی حملہ کی مذمت کے لئے منعقد ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں  پاکستان کی عدم شمولیت  کا فیصلہ تھا۔ دیگر 35 ممالک کی طرح پاکستان نے   بھی روس کی کے خلاف مذمتی قرار داد پر  رائے شماری میں حصہ  نہیں لیا تھا۔ اس طرز عمل کے خلاف امریکہ بھی پاکستان کو متنبہ کرچکا ہے۔

عمران خان نے وہاڑی کے جلسہ میں  پاکستان  کی آزادی و خود مختاری کا اعلان کرتے ہوئے  سفیروں کے اس خط پر سخت تنقید کی حالانکہ وزارت خارجہ سفارتی انداز میں اس خط کو پہلے ہی مسترد کرچکی  تھی ۔ لیکن عدام اعتماد کے موجودہ ماحول میں وزیر اعظم کسی بھی طرح عوام میں اپنی مقبولیت بڑھانے کی  کوشش کرنا چاہتے تھے  جس کی وجہ سے انہوں نے یورپی ممالک پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا کبھی یورپ نے کشمیر میں ظلم و زیادتی پر بھارت کا بائیکاٹ کیا اور اس کی مذمت کی جو اب پاکستان  سے روس کی مذمت  کرنے کے لئے کہا جارہاہے۔  ان دونوں معاملات میں کوئی مماثلت نہیں ہے لیکن عوام کے جذبات کو انگیختہ کرنے اور اپنے حامیوں کو   ایک نیا نعرہ دینے کے لئے  مغربی سفیروں کے خط کو بنیاد بنا کر عمران خان نے سخت لہجہ میں روس کی بجائے یورپی ملکوں کی مذمت کی۔  ایک خود مختار ملک پر روس کے حملے کاکسی بھی طرح مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے  سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یوکرائن مسلمہ خود مختار ملک ہے اور اس نے روس کے خلاف کوئی مسلح جارحیت نہیں کی، اس کے برعکس کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں ہی اس کے ایک ایک حصے پر قابض ہیں۔ 

حیرت انگیز طور پر  ایک عام جلسہ میں یورپ  کی مذمت کرنے کے بعد  سوموار کے دن  یورپیئن کونسل کے صدر چارلس مائیکل کے ساتھ ٹیلی فون گفتگو میں عمران کان نے اپنا طرز عمل متوازن رکھنے کی کوشش کی۔ اس گفتگو میں انہوں نے فوری جنگ بندی اور بات چیت کے ذریعے  روس اور یوکرائن کا تنازعہ ختم کرنے کی بات کی ۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ اس بات چیت میں برسلز کا دورہ کرنے کا  ارادہ ظاہر کرنے کے علاوہ  وزیر اعظم نے چارلس مائیکل کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔  عمران خان نے محض ایک روز پہلے وہاڑی کے جلسہ میں کشمیر  پر یورپی رویہ کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا، یورپی کونسل کے صدر سے گفگتگو میں اسے دہرانے، یا کشمیر کا کوئی حوالہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس سے یہ جاننا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ عمران خان ملک میں دگرگوں سیاسی صورت حال  اور اپنے اقتدار کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ   سے س قدر پریشان ہیں  کہ  جلسوںمیں نعرے بازی کے ذریعے  خود کو قد آور لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن  بین الملکی معاملات میں  وہ ریشہ خطمی ہوجاتے ہیں۔

وزیر اعظم کا یہ طرز عمل  چند روز پہلے قوم سے خطاب کرتے ہوئے تیل  و بجلی کی قیمتوں میں غیر متوقع کمی کے اعلان سے مماثل تھا۔ حکومت اس سے  پہلے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث  پاکستان میں فیول کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کرتی رہی ہے لیکن گزشتہ بار یہ کمی ایک ایسے موقع پر کی گئی جب مارکیٹ  میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی  تھی۔  جو اب 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ قیمتوں کے اس تفاوت  میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی  اور بجٹ  تک اس میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان ، ایک سیاسی سٹنٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔  عمران خان کے اس بظاہر ’عوام دوست‘  جذبہ خیر سگالی کی قیمت پاکستانی عوام کو بجٹ خسارہ اور سرکاری مصارف میں سینکڑوں ارب  روپے اضافہ کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ اسی طرح  توانائی کے شعبہ میں گردشی  خسارہ 2500 روپے کی تاریخٰی سطح کو چھو رہا ہے لیکن عمران خان سیاسی مقبولیت کے لئے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کرنے پر مجبور تھے۔

ان ہتھکنڈوں  سے نہ معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ہی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان ہے۔ اسی لئے عمران خان  مسلسل یہ کہہ کر عوام کو تسلی دیتے ہیں کہ پاکستان اب بھی ایشیا میں سب سے سستا ملک ہے۔    اس دوران  حکمران پارٹی  میں پیدا ہونے والی دراڑیں بھی نمایاں ہونے لگی ہیں۔ عمران خان ضرور لاہور میں چوہدری شجاعت سے ملے ہیں لیکن  تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی واضح وعدہ سامنے نہیں آیا۔  بلکہ چوہدری  پرویز الہیٰ نے گزشتہ روز ایک بیان میں وزیر اعظم سے کہا کہ ان کے مشیر میڈیا کے حوالے سے انہیں گمراہ کررہے ہیں اور آزادی رائے پر پابندیاں کسی مسئلہ کا حل نہیں ہیں۔  وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے پر فائز رہنے والے ندیم افضل چن نے واپس پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جبکہ ایک اور لیڈرقاسم خان کھچی  مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے ہیں۔ سوموار کے دوران  سابق  صوبائی وزیر اور عمران خان کے ایک معتمد علیم خان نے   جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہونے کا اعلان کیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ  تحریک انصاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اپوزیشن لیڈر تحریک عدم اعتماد لانے پر بضد ہیں  اور عمران خان ان سیاسی کوششوں کا دباؤ محسوس کررہے ہیں۔ گزشتہ روز وہاڑی میں کی گئی تقریر   کمزور ہوتی ہوئی سیاسی پوزیشن پر پریشانی کا بالواسطہ اظہار تھی۔  انہوں نے  تحریک عدم اعتماد لانے والوں  کو متنبہ کیا کہ ’اگر وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو کیا انہیں معلوم ہے کہ میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں گا‘؟    یہ  بظاہر تو سیاسی لیڈروں کو  خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے  لیکن  یہ درحقیقت  اسٹبلشمنٹ اور فوجی قیادت کو ملفوف دھمکی  بھی ہے۔  اپوزیشن لیڈر بار بار واضح کرچکے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ غیر جانبدار ہے اور اور اس نے  تحریک عدام اعتماد کے دوران اگر  حکومت کی اعانت نہ کی تو عمران خان وزیر اعظم نہیں رہ سکیں گے۔ یہ صورت حال عمران خان کے لئے قابل قبول نہیں ہے  جو اسٹبلشمنٹ کو  اپنی جیب کی گھڑی  سمجھنے کی غلطی  میں مبتلا رہے ہیں۔

  اس پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا  وہاڑی میں سنگین نتائج کی دھمکی صرف اپوزیش کی سیاسی قیادت کو دی گئی تھی یا اس کا  مخاطب کوئی اور تھا۔  یہ مخاطب مستقبل میں   ملکی فوج کی قیادت کرنے خواہاں جرنیلوں میں سے کوئی ایک بھی ہوسکتا  ہے۔  پاکستان کا کوئی  سیاسی لیڈر فوج کے ساتھ ایسے براہ راست تصادم کا خطرہ اسی وقت مول لیتا ہے جب  اسے کنارا دور ہوتا دکھائی دے رہا ہو اور وہ طوفان میں ڈبکیاں کھا رہا ہو۔