وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد: فریقین بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کریں

متحدہ اپوزیشن نے  وزیر اعظم عمران خان کےخلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادی ہے۔ اس کے بعد اسپیکر مقررہ آئینی مدت کے تحت  قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور عدم اعتماد   کی  قرار داد پر رائے دہی کروانے کے پابند ہیں۔ خیال ہے کہ  یہ آئینی عمل مارچ کے آخر تک پورا ہوسکے گا۔

گو کہ کسی وزیر اعظم کے خلاف  عدم اعتماد پیش کرنا  اپوزیشن کا آئینی استحقاق ہے جس کے تحت وہ  مجوزہ طریقہ کار کے مطابق کسی قائد ایوان کے  بارے میں یہ ثابت  کرنے کی کوشش کرسکتی ہے کہ اب اس شخص کو ایوان کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی ، اس لئے اسے علیحدہ کرکے کسی ایسے شخص کو وزیر اعظم بنایا جائے جس پر ایوان کی اکثریت اعتماد  کرتی ہو۔  اسی طرح جس وزیر اعظم کے خلاف یہ تحریک سامنے آتی ہے، اسے بھی اس بات کا پورا استحقاق حاصل ہوتا ہے کہ وہ  اپنی پارٹی اور حامی ارکان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ عدم اعتماد  کی کوشش ناکام بنائی جاسکے۔ عدم اعتماد کے لئے   قرار داد پیش کرنے کی کوئی کوشش یا اسے مسترد کروانے کے لئے سیاسی  جد و جہد کرنا  جائز آئینی و جمہوری عمل ہے جس کا فریقین کو یکساں طور سے احترام کرنا چاہئے۔ لیکن پاکستان کے موجودہ  سیاسی ماحول میں اس کا امکان تقریباً  ناپید ہے۔

   ملک میں سیاسی اختلاف کو شخصی عناد و دشمنی میں تبدیل کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں  آئیندہ تین ہفتے انتہائی ہیجان خیز ہوں گے جس  کے دوران جوڑ توڑ اور الزام تراشی کا بازار گرم رہے گا۔  اپوزیشن حکومت پر اور حکومتی ترجمان اپوزیشن پر الزام  لگائیں گے اور ذاتی حملے کریں گے۔  اس مزاج  کا مشاہدہ پاکستانی عوام  گزشتہ ماہ  تحریک عدم اعتماد لانے کے بارے میں اپوزیشن میں اتفاق رائے ہونے کے بعد سے کرتے آرہے ہیں ۔ تاہم  اب  قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدام اعتماد کے لئے عرضداشت پیش کرنے اور قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد    الزام تراشی کی شدت میں شدید اضافہ کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ طرفین ایک دوسرے کے ووٹ توڑنے اور مخالف کیمپ میں شامل ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مراعات کے وعدےکرنے کے علاوہ ایک دوسرے کی کردار کشی  کی بھرپور کوشش کریں گے۔  ملک کے سیاسی عمل میں جائز طور سے دلچسپی رکھنے اور حالات کو سمجھنے کی خواہش رکھنے والے عام شہری کو حقیقی  صورت حال جاننے اور دو مختلف سیاسی مؤقف کو سمجھنے کا  مناسب موقع نہیں مل سکے گا۔ اس ہیجان  خیز صورت حال کا یہ نقصان بھی ہو گا کہ  سیاسی معاملات پر بحث کی بجائے ایک دوسرے کو کم تر اور گھٹیا ثابت کرکے اپنا دعویٰ درست ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔  یہ  طریقہ کا صریحاً تمام اخلاقی اقدار سے متصادم ہے اور جمہوری عمل بھی ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا۔  قومی لیڈروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ  ملک پر کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو لیکن اس قسم کے  نفرت انگیز ماحول سے  ملک و قوم ہی کو نقصان پہنچے گا۔

سب سے  پہلے تو وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی کہ تحریک عدم اعتماد ملکی آئین کے مطابق باقاعدہ ایک درخواست کی صورت میں قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ کے حوالے کی گئی ہے۔  یہ  کوئی بداخلاقی یا  غیر قانونی  حرکت نہیں ہے۔ اس تحریک کے بارے میں مختلف رائے اختیار کی جاسکتی ہے ، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن نے  حکومت کو دفاعی  پوزیشن پر لانے اور کمزور کرنے کے لئے ناجائز طور سے ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا کیا ہے لیکن چوں کہ یہ  طریقہ کار   قانونی ہے ،  اس لئے  اس کا احترام کرتے ہوئے آئینی و جمہوری  طریقے سے ہی اس سے  نمٹنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر  اپوزیشن اور حکومت اس بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرسکیں تو پاکستانی عوام  کو  کسی حد تک سکون نصیب ہوسکتا ہے اور وہ  مدلل مباحث کی روشنی میں اپنی رائے مرتب کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اسی  طرح حکومت اور  اپوزیشن سیاسی پارٹیوں کو جوڑ توڑ اور لالچ و تحریص  کے ہتھکنڈے اختیار کرنے کی بجائے رائے عامہ تک اپنا سیاسی  پیغام پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپوزیشن یہ بتائے کہ  وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کیوں ضروری ہے اور حکومت اپنی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ وضاحت کرسکتی ہے کہ اپوزیشن  کسی غلط فہمی یا ناجائز خواہش کی وجہ سے حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے  جس سے ملک کو غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ ایک آئیڈیل صورت حال ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس کا تصور  بھی  محال ہے۔ تاہم پاکستان  میں جمہوریت کی ناکامی کے عوامل پر غور کرتے ہوئے سیاسی لیڈروں کے  طرز عمل اور غیر سیاسی ہتھکنڈوں کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہوگا۔ یہ جاننا چاہئے کہ کیوں کر ملک میں حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا گیا ہے کہ سیاسی لیڈر  تہذیب اور باہمی احترام کے دائیرے میں رہتے ہوئے سیاسی اختلاف کا اظہار نہیں کرسکتے اور اختلاف کے باوجود کیوں ایک دوسرے کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ نہیں مل سکتے۔  ملک میں غیر جمہوری ہتھکنڈوں یا غیر منتخب اداروں کی مداخلت کا عام طور سے ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کی نوبت بھی تب ہی آتی ہے جب سیاست دان  باہم مواصلت کا  ماحول پیدا کرنے اور سیاسی اختلافات کے باوجود مل  جل کر وسیع تر قومی  و ملکی مفاد کے لئے کام کرنے کا اہتمام کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اور  اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان موجودہ فساد کی بنیاد ہی اسٹبلشمنٹ کا کردار رہا ہے۔ ساری بحث اس ایک نکتہ پر ہوتی رہی ہے  کہ ملکی اسٹبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے۔ یا کیا وہ ملکی سیاسی معاملات میں غیر جانبدار  ہے یا نہیں۔ اس بارے میں ابھی تک شبہات موجود ہیں لیکن اس  کی سب سے بڑی وجہ سیاسی لیڈروں کا باہمی نفاق اور ذاتی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رویہ ہے۔

بدقسمتی  سے اسٹبلشمنٹ ابھی تک ملک  کے  حکومتی انتظام میں فیصلہ کن  کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے لیکن اس کا موقع خود سیاست دان اسے  عطاکرتے ہیں۔ اگر سیاسی لیڈر پارلیمنٹ کو بااختیار بناتے اور تمام اختلافی امور کو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ روابط  میں طے کرنے  کی بجائے  پارلیمنٹ کے فلور پر بحث ومباحثہ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے تو غیر منتخب ادارے کسی صورت  ملک کے سیاسی عمل میں مداخلت کرنے یا من مانی کرنے کا حوصلہ نہ کرپاتے۔ انہیں یہ موقع اسی وقت ملتا ہے جب سیاسی فریقین میں سے ہر اپنی قوت میں اضافہ کے لئے ان اداروں کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے بعد اب خاص طور سے اپوزیشن لیڈروں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مستقبل کے کسی سیاسی انتظام میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت  قبول کرنے سے انکار کریں  اور تمام قومی فیصلے بہر صورت پارلیمنٹ کے فلور پر کئے جائیں ۔ یعنی ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کو عملی صورت میں سیاسی طرز عمل کا حصہ بنا کر یہ ثابت کیا جائے کہ عمران خان کے خلاف جد و جہد درحقیقت  آئین و جمہوریت کی بالادستی کی لڑائی تھی ، یہ نہ تو کسی ایک فرد کے خلاف تھی اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ کا پلڑا اپنی طرف جھکانے کی کوشش کا طریقہ تھا۔

عدم اعتماد کی تحریک کی درخواست  قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروانے کے بعد اپوزیشن لیڈروں شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان  نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان وجوہات کا ذکر کیا ہے   جن کی بنیاد پر موجودہ حکومت کو تبدیل کرنا بہترین قومی مفاد میں ہے۔ شہباز شریف  نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئےچار نکات پیش کئے  ہیں:

1:ملکی معیشت زوال پزیر ہے  اور مہنگائی نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت اس صورت حال پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے۔

2:ملکی خارجہ پالیسی ناکام ہے جس کی وجہ سے ملک کو دنیا بھر میں سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔

3: اس حکومت کی غلط پالیسیوں اور طریقوں کی وجہ سے سعودی عرب اور چین جیسے  دوست ممالک کے ساتھ تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہیں جس کا ملکی معیشت اور عالمی سفارتی پوزیشن پر منفی اثر مرتب ہؤا ہے۔

4:وزیر اعظم نے ایک روز پہلے میلسی میں تقریر کرتے ہوئے یورپی  ملکوں کو شدید تنقید کا  نشانہ بنایا اور  نعرے بازی کی بنیاد پر خود کو مظلوم اور عوامی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی حالانکہ پاکستانی برآمدات کا  تقریباً چالیس فیصد امریکہ اور یورپ کو بھیجا جاتا ہے۔ ان ممالک کے ساتھ تصادم سے براہ راست عوام کے اقتصادی حالات دگرگوں ہوں گے۔

ان دلائل کے جواب میں  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کہیں نہیں جارہی بلکہ اس بحران سے  مزید تگڑی ہو کر سامنے آئے گی۔  یہ اپوزیشن کی آخری واردات ہوگی جس میں ہم انہیں ایسی شکست دیں گے کہ  پھر یہ 2028تک نہیں اٹھ سکیں گے۔ عمران خان نے اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی جو وجوہات بیان کی ہیں انہیں ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:

1:اپوزیشن لیڈر اپنے جرائم  پر مجھ سے این آر او لینا چاہتے ہیں لیکن میں کسی بھی قیمت پر انہیں معافی دینے پر تیار نہیں ہوں جس کی وجہ سے یہ سب چورا چکے اکٹھے ہوکر میری حکومت گرانا چاہتے ہیں۔

2: یہ سب چور ،   لٹیرے  اور ٹھگ ہیں جو صرف مجھ سے جان بچانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کی چوری کا حساب نہ لوں لیکن میں ان سے اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔

3: میں نے چونکہ پاکستان کی خود مختار پالیسی وضع کی ہے اور ہم کسی ایک گروپ یاملک کا ساتھ دینے کی بجائے سب کو دوست بنانے اور غیر جانبدار رہنے  کی  حکمت عملی پر  یقین رکھتے ہیں ، اس لئے بیرونی طاقتیں ان کرپٹ اپوزیشن لیڈروں کے ذریعے میری حکومت کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اگر یہ اس کوشش میں ناکام رہے تو آئی ایم ایف کے ذریعے دباؤ ڈالا جائے  گا  جس سے ہم وقت آنے پر نمٹیں گے۔

4:اپوزشین نے ہمارے ارکان کو وفاداری تبدیل کرنے کے لئے اٹھارہ اٹھارہ کروڑ روپے کی پیش کش کی ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ یہ پیسے پکڑ لیں اور   غریبوں میں بانٹ  دیں۔

دیکھا  جاسکتا ہے کہ عمران خان کی جوابی چارج شیٹ قیاس اور اور بدگمانی  پر استوار ہے۔ غیر ملکی سازش کا نعرہ لگا کر وہ عوامی ہمدردی جیتنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے لازمی طور سے پاکستان کے خارجہ تعلقات متاثر ہوں گے۔ اسی طرح جب وہ  یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے اراکین کو 18 کروڑ روپے فی کس دینے کی پیش کش ہورہی ہے تو حکومت میں ہونے کے باوجود  کیا وجہ ہے کہ  مالی وسائل کی اس غیر قانونی  منتقلی کا سراغ لگاکر متعلقہ لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکی؟ یا  اسلامی اخلاقیات کا علمبردار بننے کے شوقین وزیر اعظم نے  کون سی اسلامی   روایت کے تحت  اپنے ساتھیوں کو اپویشن سے چوری کے  پیسے پکڑ کر غریبوں میں بانٹنے کا مشورہ دیاہے۔ انہیں یہ بھی بتا دینا چاہئے تھا کہ کتنے ارکان نے اتنی خطیر رقوم کن اداروں کے ذریعے غریبوں میں تقسیم کی ہیں؟

پاکستان کو  منی لانڈرنگ کا مکمل قلع قمع کرنے میں ناکامی پر بدستور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر رکھا گیا ہے۔  حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ قوانین میں تبدیلیوں کے ذریعے بلیک منی اور منی لانڈرنگ کے سب دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ ایسے میں جب ملک کا وزیر اعظم یہ اعلان کرے گا کہ ملک میں اربوں روپے غیر قانونی طور سے تقسیم ہورہے ہیں، اور وہ اپنے ہی ساتھیوں کو اس سے  ’استفادہ‘ کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تو عالمی سطح پر اداروں کو کیسے یقین دلایا جائے گا کہ پاکستان میں بلیک منی کا کاروبار ختم کرنے کے  لئے سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں۔

عمران خان کے الزامات سیاسی مخالفین سے ذاتی عناد کی بنیاد پر استوار ہیں۔  اپنے اقتدار کو لاحق خطرے کے ہیش نظر اب وہ  ایسے الزامات عائد کررہے ہیں جنہیں وہ کسی قانونی عدالت میں ثابت  نہیں کرسکتے۔   ملکی سپریم کورٹ عمران خان کو ’صادق و امین قرار دے چکی ہے۔ لیکن کیا  سیاسی مقاصد کے  لئے  غیر تصدیق شدہ اور جھوٹے الزامات عائد کرنا والا شخص ’ صادق و امین ‘ کہلا سکتا ہے؟