تحریک عدم اعتماد کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی کوششیں زور پکڑ گئیں
- بدھ 09 / مارچ / 2022
- 3380
اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
اس پس منظر میں وزیر اعظم نے عثمان بزدار سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی کہ وہ حکمران جماعت کی 5 سالہ مدت کے اختتام تک صوبے پر حکومت کرتے رہیں گے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے فوراً بعد عمران خان نے متعدد ڈیجیٹل صحافیوں سے ملاقات کی اور واضح طور پر کہا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے ہیں اور نہ ہی وہ اپوزیشن کے اقدام سے خوفزدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق عثمان بزدار کی عمران خان سے وزیراعظم ہاؤس میں ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے استعفیٰ کی پیشکش کی تاکہ وزیراعظم پی ٹی آئی کے ناراض رہنما علیم خان اور جہانگیر ترین کو مطمئن کر سکیں، جنہوں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔
وزیراعظم نے عثمان بزدار کا استعفیٰ مسترد کر کے انہیں کہا کہ وہ اس وقت تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرتے رہیں گے جب تک پی ٹی آئی اپنی مدت حکومت مکمل نہیں کر لیتی۔
دوسری جانب وزیراعظم نے اپنے دفتر میں متعدد قانون سازوں سے ملاقاتیں کیں جن میں فضل محمد خان، محمد افضل خان دھندلہ، غلام محمد لالی، امجد خان نیازی، مخدوم سمیع الحسن، یعقوب شیخ، ساجدہ ذوالفقار اور عندلیب عباس شامل ہیں۔ ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر، پرویز خٹک، شفقت محمود اور عامر ڈوگر بھی موجود تھے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب بھی حرکت میں آئے ہیں اور موجودہ سیاسی صورتحال، تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کے لئے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔
جہانگیر ترین اور علیم خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے مطالبے کے تناظر میں وفاقی حکومت نے اپنی پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو راضی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ جانشین کے لیے نام تجویز کریں۔ تاہم مسلم لیگ (ق) کے چوہدریوں نے اپنی اتحادی جماعت پی ٹی آئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے وزیر اعظم خان کے 'پرانے دوست' علیم خان کے نام پر غور کرنے کے خلاف پیشگی خبردار کیا۔
ادھر وزیر دفاع پرویز خٹک نے منگل کو ترین گروپ اور عثمان بزدار سے متعلق مخمصے پر مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے رابطہ کیا۔ ترین گروپ میں مبینہ طور پر دو درجن سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی اور تقریباً 10 اراکین قومی اسمبلی شامل ہیں، جن میں سے اکثریت کاتعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے ترین گروپ کو کہا ہے کہ اگر وہ وزیراعلیٰ پنجاب سے خوش نہیں ہیں تو متبادل نام تجویز کریں جس پر حکومت غور کرسکتی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ پرویز خٹک نے پارٹی سے رابطہ کرکے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے علیم خان کے نام کے حوالے سے رائے مانگی تھی لیکن پارٹی نے صاف انکار کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت نے وزیر دفاع کو بتایا کہ وہ دیگرناموں پر غور کر سکتی ہے، لیکن علیم خان کے نام پر نہیں‘۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے وزیراعظم خان سے ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویزالٰہی کا نام وزیراعلیٰ کے لیے تجویز کیا تھا اور کہا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما ایک تجربہ کار سیاستدان ہونے کی وجہ سے صوبے کے حالات کو سنبھال سکیں گے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے۔ اگر یہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے علیم خان پر راضی ہو جاتے ہیں تو چودھری ناراض ہو جائیں گے اور اگر وہ اپنے اتحادی کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں تو ترین گروپ عمران خان سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کے ترجمان حسن خاور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے انتخاب کے بارے میں میڈیا رپورٹس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بزدار نے نہ تو علیم خان کے خلاف اور نہ ہی چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں بات کی ۔ اگرچہ مسلم لیگ (ق) نے عمران خان کی حمایت برقرار رکھی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی رائے ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کی وجہ سے چوہدریوں کو بالآخر اپوزیشن میں شامل ہونا پڑے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ ہم مسلم لیگ (ق) کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں عوام کے ساتھ ساتھ اپنی سیاست کی خاطر اپوزیشن میں شامل ہونے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف چوہدری بلکہ ایم کیو ایم اور بی اے پی بھی اپوزیشن کے وزیراعظم خان کو ہٹانے کے اقدام میں شامل ہوں گے۔