وزیراعظم کو یورپی یونین کےخلاف بیان نہیں دینا چاہیے تھا: شوکت ترین
- بدھ 09 / مارچ / 2022
- 3400
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو یورپی یونین کے خلاف عوامی طور پر ردعمل نہیں دینا چاہیے تھا۔ تاہم یہ وزیر اعظم کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اپنے ملک اور اس کے وقار کو کس طرح محفوظ کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتے وہاڑی میں ایک عوامی جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سوال کیا تھا کہ کیا یورپی یونین نے مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھارت سے سوال کیا تھا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حالیہ تقریر میں یورپی یونین کے خلاف عوامی طور پر ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں یورپی یونین کے سفیروں کو ان کے غیر سفارتی بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس میں پاکستان سے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے کو کہا گیا تھا۔
شوکت ترین نے کہا کہ وزیراعظم نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ میں سے کسی نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کیے یا اس کے غیر قانونی اقدامات پر اعتراض کیا ہے؟ وزیر اعظم نے یورپی یونین کے نمائندوں سے پوچھا، کیا ہم غلام ہیں کہ آپ کی مرضی کے مطابق کام کریں۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران یورپی یونین کے 23 سفیروں کے لکھے گئے خط کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کے اقدامات کی مذمت میں ان کے ساتھ شامل ہو اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے آواز اٹھائے۔
اس پریس ریلیز پر اعتراض کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ہم نے اس کا نوٹس لیا ہے اور اس کے بعد سفیروں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات میں ہم نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کیونکہ یہ سفارتی طریقہ کار نہیں ہے۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وزیر اعظم کے یورپی یونین ممالک کے اقدام پر تبصرے سے پاکستان کی تجارت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ یورپی ممالک ہمارے ساتھ کیا کریں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یورپی یونین کے نمائندوں نے پاکستان کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں اس سے روس کے خلاف ووٹ دینے کا کہا گیا تھا، جس پر ہمارے وزیر اعظم نے صرف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ یورپی یونین بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کی خلاف پر خاموش رہا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صرف ووٹنگ سے گریز کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم نے صرف عوامی جلسے میں اس پر اپنا رد عمل دیا جو شاید نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ یورپی یونین کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پاکستان کیا کرے اور یہ وزیراعظم کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اپنے ملک اور اس کے وقار کو کس طرح محفوظ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک آزاد خارجہ پالیسی ہے جس کے مطابق کوئی بھی ملک دوسرے کی خود مختاری کی خلاف ورزی نہ کرے اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے صرف وہی بات کی جو ضروری تھی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کمی پر آئی ایف ایف کے اعتراضات سے متعلق سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات پر 104 ارب روپے کی سبسڈی اپنے بجٹ سے دے رہے ہیں جس پر آئی ایم ایف کو تحفظات نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ تو اپنے مالیاتی خسارے میں اضافہ کر رہا ہے اور نہ ہی عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی قرضہ لے رہا ہے۔ حکومت نے محصولات میں بہتری کی وجہ سے سبسڈی کا اعلان کیا۔
وزیر خزانہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیکج کے لیے حکومت نے احساس پروگرام کی مختص رقم اور کوویڈ 19 بجٹ سے کچھ رقم نکالی۔ ہم نے سرکاری اداروں سے منافع بھی حاصل کیا تھا جبکہ بہت سے ایسے سیکٹرز تھے جہاں سے حکومت نے امدادی پیکج بنانے کے لیے پیسے جمع کیے، مجھے نہیں لگتا کہ آئی ایم ایف کو اس سے کوئی مسئلہ ہونا چاہئے۔