تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شفاف الیکشن ہوں گے: بلاول بھٹو

  • جمعرات 10 / مارچ / 2022
  • 2820

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام نے اس۔حکومت کو مسترد کردیا ہےْ ہم جمہوری انداز میں اس حکومت کو گھر بھیجیں گے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد صاف، شفاف الیکشن پر اتفاق ہوچکا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت ہر معاملے پر ناکام ہوگئی ہے۔ پاکستان کے عوام نے سلیکٹڈ وزیر اعظم کو مسترد کردیا ہے۔ عوام جہموریت کے ساتھ ہیں اور وہ صاف و شفاف انتخابات چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنا منتخب نمائندہ چُن سکے جو ان کے مسائل حل کرے۔ عوام نے پیپلز پارٹی کے عوامی حقوق مارچ میں شرکت کرکے اپنا کام کردیا، اب ارکان پارلیمنٹ کی ذمے داری ہے ک وہ اپنا کردار ادا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے، اب ہم عوامی نمائندوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اوپر لگے اس داغ کو دھوئیں اور عوام کی امنگوں اور امیدوں پر پورا اترتے ہوئے اس سلیکٹڈ وزیر اعظم کو گھر بھیجیں۔ ہم جمہوریت کے حامی ہیں، ہم جمہوری طریقے سے اس وزیراعظم کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے عوامی مارچ کے دوران مطالبہ کرتے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں ورنہ یہ دھرنا جاری رہے گا تو آج بھی یہ دھرنا جاری ہوتا مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ہم جمہوری سوچ رکھتے ہیں، ہم جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہم پرامن ہیں، پرامن رہنا چاہتے ہیں لیکن اگر آپ ہمیں زندگی اور موت کی دھمکی دیں گے تو ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔  عوامی مارچ کے دوران آصفہ بھٹو زرداری پر حملہ کیا گیا، آصفہ بی بی کو عوامی مارچ کے دوران ڈرون کیمرے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کے کئی افراد کو شہید کیا گیا، اب بہت ہوگیا۔ اہم ہم ڈرنے والے نہیں، اب ہم ایسے حملے برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہمارے اہل خانہ کے خلاف ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو ہم ایسا ردعمل دیں گے جو ایسے عناصر کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ ہم نے بندوق استعمال نہیں کی لیکن بندوق استعمال کرنا جانتے ہیں، ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے۔

آصفہ بھٹو پر مبینہ حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں اس حکومت پر اور اس کی تحقیقات پر اعتبار نہیں ہے۔ ہم آئی ایس آئی سے درخواست کرتے ہیں کہ آصفہ بی بی پر حملے کی تحقیق کرے۔ ہم انٹیلی جنس ایجنسی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کریں اور اپنی رپورٹ تیار کریں، اس کے علاوہ ہم اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیکنالوجی کے عالمی ماہرین سے بھی رابطہ کریں گے اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کو دھمکی دی، جب بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا اس وقت میں بچہ تھا، اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔ میں مخالفین کو کہتا ہوں کہ ہم پرامن سیاست کر رہے ہیں۔ آپ بھی سیاست کریں لیکن اگر آپ ہمیں زندگی اور موت کی دھمکی دیں گے تو پھر آپ کو اس کے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے، پاکستان ایک جدید ریاست ہے۔ ہم 2022 میں جی رہے ہیں، ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی آواز اٹھائیں۔ بات کریں، جمہوری جدوجہد کریں، ہمیں اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا جمہوری حق دیا جائے گا، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پریشانی کا شکار ہیں تبھی وہ اس طرح کے دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری پر عوامی مارچ میں حملہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے، یہ حملہ ہمارے لیے، ہمارے خاندان کے لیے ایک دھمکی آمیز پیغام تھا، ہمیں یہ پیغام اس لیے دیا گیا کیونکہ ہم ملک میں جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے تو آج ہی کرلیں، کل انہیں ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کا موقع نہیں ملے گا۔ کل ہم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے آپ کو گھر بھیجیں گے، پھر صاف و شفاف الیکشن کے ذریعے ایک منتخب حکومت آئے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے اس حکومت کو سلیکٹڈ کہا، ہم نے ان کی عوام دشمن پالیسیوں کو مسترد کیا، ہم نے پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف سے عوام دشمن معاہدے کو 'پی ٹی آئی ایم ایف' بجٹ قرار دے کر اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے، ان الزامات کا مقصد یہ تھا کہ پیپلز ہارٹی کو توڑا جائے، ان کو تکلیف اسی بات کی تھی کہ پی پی پی کو کمزور کرنے کی تمام کوششوں کے باجود آپ ہماری جماعت کو کمزور نہیں کرسکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کو شرم آنی چاہیے، وہ امریکی عدالت سے سزا یافتہ ہیں، ان کو امریکا کی عدالت نے سزا سنائی۔ کون اس بات پر یقین کرے گا کہ ان کی بہن نے سلائی مشینیں بیچ بیچ کر اتنے زیادہ پیسے بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں خاتون اول کا بہت احترام کرتا ہوں، میں نے کبھی خاتون اول کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کی۔ میں وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ وہ خاتون اول سے اپنے لیے دعا کرائیں، عمران خان نیاری کے خلاف کرپشن کے خوفناک کیسز بننے والے ہیں، اپنے خلاف بننے والے مقدمات سے بچنے کے لیے عمران نیازی خاتون اول سے دعا کرائیں۔

کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں کوئی تقرر و تبادلہ نہیں ہوتا جب تک کہ خاتون اول کو رشوت نہیں دی جاتی، خاتون اول کے خلاف کرپشن کی کہانیوں اور کرپشن کے الزامات کے خلاف آپ کیا کہیں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ گزشتہ روز عمران خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف انتہائی غلط زبان استعمال کی، آپ کون ہوتے ہو کہ مولانا فضل الرحمٰن کو گالی دو۔ ان کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرو، گالی دینا ہمیں بھی آتی ہے مگر ہم جمہوری انداز میں اس سلیکٹڈ کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ ان کا پتا نہیں کہ وہ کون ہیں مگر میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا بیٹا ہوں، ہم جمہوری انداز میں جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اس حکومت اور وزیر اعظم سے ذاتی لڑائی نہیں۔ اگر عمران خان صاف شفاف الیکشن کے ذریعے جیت کر آئیں تو ہم انہیں سلیکٹڈ نہیں کہیں گے۔ کل ہم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے آپ کو گھر بھیجیں گے، پھر صاف و شفاف الیکشن کے ذریعے ایک منتخب حکومت آئے گی۔