حقوق نسواں کا مقدس استحصال؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 10 / مارچ / 2022
- 4000
8 مارچ پوری دنیا میں ویمن ڈے یا یوم حقوق نسواں کے طور پر منایا جاتا ہے اس کا آغاز کب اورکیسے ہوا؟ اس پر ہر سال اتنا کچھ لکھا اور بولا جاتا ہے کہ لوگوں کو ازبر ہو چکا ہے۔
خراج تحسین کی حق دار یو این او اور انٹرنیشنل کمیونٹی ہے جس نے پوری دنیا کو اس اہم ترین مسئلے پر متوجہ کرنے کیلئے عالمی سطح پر ہر سال اسے منانے کا اہتمام کیا ہے۔ یوں دنیا کے وہ پسماندہ معاشرے جو صدیوں پرانی قدامت پسندی و جہالت میں اس قدر ڈوبے یا لتھڑے ہوئے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتے ہیں یوں سال میں کم از کم یہ ایک دن منا کر ان کے مردہ یا خوابیدہ احساس کو شعور و آگہی کے ذریعے زندہ و بیدار کرنے کی کاوش کی جاتی ہے۔ درویش کے قارئین میں سے اگر کسی کو کبھی ذہنی امراض کے ہسپتال یا کسی ایسے سنٹر میں جانے اور وہاں زیر علاج لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہو تو وہ یہ جانکاری ضرور رکھتے ہوں گے کہ مینٹلی ڈسٹرب لوگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرض، بیماری یا تکلیف کو اپنا مرض بیماری یا تکلیف سمجھتے یا مانتے ہی نہیں ہیں وہ اپنے تئیں یہ خیال کرتے ہیں کہ ساری دنیا پاگل ہے سیانے صرف ہمی ہیں۔ ایسے لوگوں سے ڈیل کرنے کیلئے حکمت و دانائی کے ساتھ ساتھ حوصلے و برداشت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تو ان لوگوں کی بات ہے جو کسی ایسے مرکز، سنٹر یا شفاخانے میں بند ہوتے ہیں لیکن اگر ہم باریک بینی سے جائزہ لیں تو مینٹلی ڈسٹرپ یا مختلف النوع ذہنی امراض میں مبتلا بہت سے لوگ ایسی چار دیواریوں سے باہر ہمارے گلی محلوں میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں جن میں ہوشربا اضافے کیلئے مدارس اور غربت و بیروزگاری کی ان گنت فیکٹریاں ہمارے یہاں جگہ بہ جگہ لگی ہوئی ہیں۔
اپنے جینوئن ایشوز سے لاتعلق، اپنے آباء کی مصنوعی عظمت میں ڈوبے ان قدامت پرستوں کا زیادہ سیانے لوگ خوب استحصال یا استعمال کرتے ہیں۔ اپنے مخصوص مفادات کے حصول کی خاطر اپنی جنونی تحریکوں کا ان بیچاروں کو ایندھن بناتے ہیں اور وہ بیچارےاپنے تئیں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی سرفرازی و خدمت کر رہے ہیں یا اپنی آخرت سنوارنے کا اہتمام کر رہے ہیں جو لامتناہی و اصل زندگی ہے یہ دنیا کی محدود و عارضی زندگی تو سوائے چند روزہ لہو لعب کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی نشے میں سرشار یہ دنیا سے اکتائے اور ٹھکرائے لوگ بالعموم اپنے عقائد پر کٹ مرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اپنے عقائد سے عقیدت رکھنے والے ان اصحاب کے احساسات کو پہلے جذبہ عشق سے سرشار کیا جاتا ہے اور پھر جذبانیت و جنونیت کی فوج ظفر موج کا غیر رسمی و غیر تحریری حصہ بنادیا جاتا ہے۔ ہمارے بڑے شاعر ودانشور اقبال نے اپنی نظم ’’امامت‘‘ میں اس نفسیاتی کیفیت کا نقشہ بڑی خوبصورتی سے کھینچا ہے۔ اگر گہرائی میں اتر کر پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یہ لوگ عموماً قابل اصلاح ہوتے ہیں اگر منطقی و شعوری استدلال کو کام میں لاتے ہوئے ان کی خوش عقیدگی سے جڑی نفسیاتی الجھنوں کا مداوا کر دیا جائے تو ان کا نشہ اتر بھی سکتا ہے۔ مگر کیا کریں زیادہ سیانوں نے اس امر کا پورا اہتمام کر رکھا ہے کہ عقل و شعور کی بات کرنے والوں کو ان کی نظروں میں بے دین اور گمراہ ثابت کریں جو محض اپنی عیاشی کیلئے سوسائٹی میں فحاشی و بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں۔
ذہنوں میں بٹھایا جاتا ہے کہ ان ملحدوں اور بے دینوں کا عالمی ایجنڈا ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کر دو تاکہ بشمول یہود و ہنود عالمی کفر کیلئے دنیا میں کوئی رکاوٹ موجود نہ رہے اور وہ یہاں اپنی مرضی سے جو گل چاہیں کھلائیں۔ عورت مرد کے مساوی حقوق کے نام پر، مخلوط محفلیں منعقد کرتے ہوئے، یہاں عورت مرد کی تمیز ختم کر دیں۔ گے اور لزبین کے کلچر کو فروغ دیں، عریانی و فحاشی کے اڈے قائم کریں۔ عورت جو ہماری عزت و حرمت اور ناموس ہے اس کا کھلواڑ کریں۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو چراغ محفل بناتے ہوئے سربازار نچوائیں اور سماج میں جنسیت کو بھڑکائیں۔
منافرتوں کے سوداگر جب تھرڈ کلاس نظریاتی پروپیگنڈے کے زور پر اپنا گھٹیا سودا بیج رہے ہوتے ہیں اس وقت درویش کی یہ حسرت ہوتی ہے کہ وہ ایک ایک اعتراض کا مدلل جواب دے اور یہ بتائے کہ ہمارے مسلم سماج میں عورت کا مصنوعی تقدس محض لپ سروس ہے۔ حقیقت میں اس کی حیثیت محض ایک خدمتگار کی ہے کبھی باپ اور خاوند کی اور کہیں بھائی اور بیٹے کی۔ ہماری مسلم سوسائٹی میں اس کیلئے سب سے پسندیدہ رول یہ ہے کہ وہ نصیبوں جلی زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے اور پھر ساری زندگی انہیں پالنے پوسنے اور بیاہنے کے بعد ان کی دیگر ذمہ داریاں اٹھانے میں مشقتی کی طرح قربان کر دے۔ بلکہ آگے ان بچوں کے بچوں کی پرورش یا پالنے پوسنے والی ذمہ داری بھی یہ بوڑھی اٹھائے۔ ضرور اٹھائے لیکن کیا ان ذمہ داریوں کے علاوہ اس کی کوئی اپنی زند گی بھی ہے یا نہیں؟
زمانے کا ٹھکرایا ہوا کوئی خبطی اگر کہیں حقوق نسواں کی بات کر دے تو سوسائٹی کے سارے ناخدا اپنی اپنی جہالت کی لاٹھیاں اٹھائے بانچھیں کھولے نعرے بازی کے ساتھ بے ڈھنگی ٹیون میں یہ کورس بجانا شروع کر دیں گے کہ ہم نے تو عورت کو تمام کے تمام حقوق چودہ سوسال پہلے ہی دے دیئے تھے، مغرب تو اپنی اتنی نام نہاد ترقی کے باوجود ہنوز ان کی خاک کو نہیں پہنچا۔ مغرب نے تو مساوی حقوق کے نام پر عورت کا محض استحصال کیا ہے یا جنسی استعمال۔ جنسیت ان صالحین کے دماغوں میں اس قدرگھسی ہوئی ہے کہ وہ عورت ذات کو اس کے علاوہ دیکھ یا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر مزید کریدا جائے تو کہا جائے گا کہ ہمارے فلاں حضرت نے ٹھیک ہی فرمایا ہے کہ عورت محض ناقص العقل ہی نہیں ہے ناقص فی الدین بھی ہے کہ ایام ماہواری میں عبادت کے قابل بھی نہیں رہتی۔ دوزخ میں بھی عورتیں زیادہ جائیں گی کیونکہ یہ اپنے خاوند کی اطاعت شعار و شکر گزار نہیں ہوتیں۔ خاوند نہ ہوا گویا خداوند ہوا جو اپنی جنسی ہوس مٹانے کیلئے دوران نماز بھی نیچے کھینچ لانے کا شرعی حق رکھتا ہے۔
اے آدم و حوا کے بیٹو! کچھ اپنی موت کو ہی یاد کر لو جب خاک میں مل کر خاک اور راکھ میں مل کر ر اکھ ہو جاؤ گے۔ عورت کے متعلق اپنی نیچ سوچ کو بدلو کیوں یہ کہنے پر مصر ہو کر عورت کا جائیداد میں آدھا حصہ ہے اور مرد کا پورا۔ کیوں اس نوع کا ظالمانہ استدلال کرتے ہو کہ عورت چاہے جتنی بھی قابل ہو اس کی شہادت یا گواہی ابدی طور پر آدھی ہو گی۔ جبکہ مرد چاہے کتنا نکھٹو اور جاہل ہو مگر اس کی گواہی ابدی طور پر دو عورتوں کے برابر ہو گی۔ نکاح جیسا خوبصورت بندھن استوار تو دونوں کی باہمی رضا مندی سے ہو گا مگر اسے مسخ کرنے یا توڑنے کا اختیار یعنی حق طلاق ابدی طور پر مرد کو حاصل ہو گا۔ جبکہ کمزور فریق یعنی عورت خلع پانے کیلئے عدالتوں میں دھکے کھائے وکیلوں کی فیسیں دے منشیوں کی مٹھی گرم کرے۔
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ قانون کو کمزور فریق کا سہارا بننا چاہئے یا مضبوط فریق کا ہتھوڑا؟ ہمارے اس مسلم سماج میں عورت کے ایک سو ایک ایشوز ہیں جن پر یہ دکھی درویش استدلال یا اظہار خیال کرنا چاہتا ہے لیکن کیا کرے سوسائٹی کے ان گنت ناگ مقدس نام پر ڈسنے کو آتے ہیں۔ (جاری ہے)