تحریک عدم اعتماد کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں رینجرز اور ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ

  • جمعہ 11 / مارچ / 2022
  • 2860

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے روز پارلیمنٹ ہاؤس، ایم این اے لاجز اور پرانا ایم این اے ہاؤس رینجرز اور ایف سی کے حوالے کیا جائے گا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس 172 بندے پورے نہیں اس لیے یہ حرکتیں کررہے ہیں۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے پاس 172 بندے پورے نہیں ہیں۔ یہ عدم اعتماد کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، کل مولانا فضل الرحمٰن اینکر شاہزیب خانزادہ سے بھی لڑنے لگے کہ تم کون ہوتے ہو یہ کہنے والے کہ ہمارے پاس بندے پورے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عدم اعتماد سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ یہ عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں کوئی ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں، عدم اعتماد سے کسی اور طرف جائیں گے تو دھر لیے جائیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اس لیے میں نے ابھی لحاظ کیا ہے، جب تک کوئی ایم این اے قانوں کو ہاتھ میں نہیں لے گا اس وقت تک کوئی ان کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ تمام اپوزیشن کو درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہنا، پرائیوٹ ملیشیا کے ذریعے اسلام آباد میں دہشت گردی پھیلانے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔

کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا، جب تک میں وزیر داخلہ ہوں ایسے کسی بھی فرد کو کچل کر رکھ دوں گا جو قانون ہاتھ میں لے گا۔ میں لحاظ نہیں کروں گا کہ کون کتنا معزز یا کتنا بڑا پارٹی لیڈر ہے۔ قانون ہاتھ میں لیں گے تو قانون اسے ہاتھ میں لے گا، بعد میں تحریک عدم اعتماد والے روز ان کو لاکر ان کا ووٹ ڈلوا دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ عمران خان سے جمہوری نہیں ذاتی لڑائی لڑنے جارہے ہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ آپ کا برا وقت آنے والا ہے۔ اس کوشش میں آپ کی سیاست کا پتہ صاف ہوسکتا ہے اور جھاڑو پھر جائے گا، اگر 172 بندے ہیں تو لے آئیں ورنہ چپ کر کے پرانی تنخواہ پر کام کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شکر ہے اب آپ کہہ رہے ہیں کہ فوج نیوٹرل ہے، میں جنرل باجوہ کو کالج کے وقت سے جانتا ہوں۔ وہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ میں نے لوگوں کو کہہ دیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بعد شکرانے کے نفل ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایم این اے کو اگر سیکیورٹی چاہیے تو ہمیں بتائیں ہم انہیں سیکیورٹی دینے کو تیار ہیں، بعد میں جب آپ کے 12 ایم این اے کم ہوجائیں تو آپ وزیر داخلہ پر الزام نہ لگانا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ مولانا فضل الرحمٰن اور شیخ رشید کو ہی ہے، دونوں پر 3،3 بار حملے ہوچکے ہیں۔